فروغ چمن ہے تیری ولادت
ختام گلشن تراسال رحلت
از قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد تلنگانہ
ستم کاآشنا تھا وہ سب ہی کے دل دکھا گیا کہ شام غم تو کاٹ لی سحر ہوی چلاگیا شفیق الملت استاذالاساتذہ حضرت مولانا سید ولی اللہ صاحب علیہ الرحمہ کی وفات قمری تاریخ کے اعتبار سے 25/ذیقعدہ 1441 بروز جمعہ بوقت عشاء ہوی اور عیسوی تاریخ 17/جولای 2020 رہی یتیمی کی اس تاریخ کو زمانہ واہل زمانہ بطور خاص فیض یافتگان ولی اللہ چاہ کر بھی بھلا نہ پائیں گے
قدرت خداوندی کے بناے ہوے دستورازلی کے مطابق اس دنیا جہاں میں آنے والے ہر ذی روح کو اس دارفانی سےجانا یقینی ہے اور اس حقیقت مسلمہ سے کسی بھی فرد بشر کو مجال انکار وچشم پوشی نہیں ہے خودخالق کائنات نے اس اصول وضابطہ کو اپنی ابدالآباد کتاب قرآن مجید میں واضح الفاظ کے ذریعہ ذکر فرمادیا کل من علیھا فان اورکل نفس ذائقۃ الموت اس مسلمہ ازلی قانون کے لحاظ سے ہر انسان کو خواہی نخواہی دنیا سے رخصت ہونا ہی پڑتا ہے لیکن جانے والوں میں کچھ شخصیات یقینا ایسی ہوتی ہیں جو گذرکر بھی اپنے وجود کا بارہااحساس دلاتی ہیں اور قدم قدم پر ان کی دیرینہ وابستگیاں اور یادیں دلوں کو جھنجھوڑتی ہیں
انہیں شخصیات میں ایک نام اور چہرہ حضرت مولانا مرحوم کا ہے جن کی یادوں سے آج بھی ہزاروں وابستگان کا دل روشن ومنور ہے ازمرگ تا امروز کوی بھی محفل ہویامجلس کوی مشورہ ہویا میٹنگ آپ کی یاد سے خالی نہیں رہی کسی نہ کسی اعتبار سے لوگ آپ کو یادکرتے رہے اور کرتے رہیں گے چونکہ اللہ تعالی نے آپ کو جن خوبیوں اور اوصاف وخصائل سے نوازا تھا ان میں آپ طاق تھے باالکل فردفرید اور تن تنہاء تھے کوی ثانی اور دوسرا ان اوصاف میں شریک نہ تھا ایسے ہی لوگوں کے بارہ میں کہا گیا کہ پس مرگ زندہ مرکر بھی یہ زندہ رہتے ہیں یعنی ان کے نشانات قدم ان کی یادیں ان کے کارہاے نمایاں سے لوگ استفادہ کرتے ہیں اور ان کی وفات کا احساس ختم ہوتاجاتاہے اور یوں محسوس ہونےلگتا ہیکہ وہ اب بھی ہمارے درمیان ہیں اللہ کرےکہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھتے ہوے ان کے تمام دینی کاموں کو جاری رکھنے اور ملت اسلامیہ کو ان کے علوم ومعارف تحاریر وتقاریر اور بیانات سے استفادہ کرتے رہنے کی آسان ترین شکلیں پیدافرماے
حقیقت واقعہ یہ ہیکہ جب کوی بڑا چلاجاتاہے تو بھلے کوی فردیا جماعت اس کی جانشینی لے لے اور اس کے کاموں کو آگے بڑھانے اور اس کی امنگوں کو پروان چڑھانے کی فکر کو اوڑھ لے مگروہ برکات وہ اخلاص وتقوی وہ تعلق مع اللہ اور وہ سلوک ورویہ کہاں سے لاے گا جو ان گذرنے والے بڑوں میں اللہ پاک نے ودیعت فرمایاتھا اس لےء کہنے والوں نےسچ کہا کہ جو خلا ایک مرتبہ خلا ہوگیا اس کو پر نہیں کیا جاسکتا ہے آج جن حالات سے ہم گذررہے ہیں وہ انتہای صبر آزما اورکٹھن حالات ہیں کہ ایک جانب اکابرین یکے بعد دیگرے اٹھتے چلے جارہے ہیں
دوسری جانب انسانیت میں نفاق بڑھتا جارہا ہے کوی کسی کو کچھ بھی سمجھنے کے لےء تیار نہیں ہے انانیت وانارکی کا راج ہے جو ایک سم قاتل بن کر انسانیت کو دیمک کی طرح کھاتاجارہاہے اگر ہم یوں ہی اکابرین کے سایہ سے محروم ہوتے چلے گےء تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم بنالگام گھوڑوں کی طرح زمین میں دندناتے پھررہے ہوں گے کوی ہماری دینی وملی اعتبار سے راہ نمای ودستگیری کرنے والا نہیں ہوگا یتیمی کے اس ایک سالہ عرصہ کے تلخ تجربات نے ہمیں بہت کچھ سکھایااور سمجھادیاہے بس اب ضرورت اس بات کی ہیکہ موجودہ علماء کرام واکابرین ومشائخ کی درازی عمر کی دعاء کرتے ہوئے ان کی قدردانی کرلیں اور اپنی دنیا وآخرت کو سنوارلیں ورنہ بہت دیر ہوجاے تو پھر کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ اور باقی نہ رہے گا
سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیاسے پردہ فرمانے کے بعد شاید حضرت علی رضہ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایاتھا کہ ہم ابھی تدفین کرکے قبر پر مٹی ڈال کر اپنے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ دنیا کو بدلتا ہوادیکھ لیا نفاق کی بو ہمیں آنے لگ گئ جس سے صاف معلوم ہوتا ہیکہ جب کوی اللہ والا اس دنیا سے جاتا ہے تو حالات اور ماحول بگڑنا شروع ہوجاتا ہے اللہ پاک ہر حال میں ہرموڑ پر ہم امت مسلمہ کی دستگیری فرماے ہمیں لمحہ واحد اور چشم زدن کے لےء بھی اپنے نفس اور دنیا کے حوالہ نہ فرماے آمین بجاہ سید المرسلین
