بیدر۔ یکم جنوری 2021
عبدالصمد منجوالا
بی جے پی کے قائدین یہ بتائیں کہ بھارت کے آئین میں یہ کہاں لکھاہے کہ گوشت نہ کھایاجائے ؟یہ سوال رکن قانون سازکونسل جناب اروندکمارارلی نے کیاہے۔ انھوں نے آج بیدر میں صحافیوں کو بتایاکہ بھارت میں جتنے مذبحہ خانے ہیں جہاں جانورذبح کئے جاتے ہیںاور ان کاگوشت ایکسپورٹ کیاجاتاہے ۔ یہ تمام مذبحہ خانے اگر بندکردیں تو موجودہ قانون بنانے کاناٹک کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی ۔ مذبحہ خانے بندہونے سے جانوروں اور گائے کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اور حکومت کہہ رہی ہے کہ 13سال عمر والے ناکارہ گائے اور جانور وں کو گؤشالہ کو بھیجنے کے لئے کہاجارہاہے۔ اس کے لئے کسان کاجواصل مسئلہ ہے اس کو سمجھاجائے۔ کوئی جانور جب باربرداری کے قابل نہیں ہوتا تو کسان وہ جانور بازار میں قصائی کو فروخت کردیتاہے۔ اور ملنے والی رقم میں کچھ اور رقم اپنی طرف سے ڈال کر دوبارہ صحت مند جانور خرید لیتاہے تاکہ کھیتوں میں کام آسکے یاگائے اگر ہوتو اس کادودھ لیاجاسکے۔ اب اگر کسان جانور کو گؤشالہ بھیجے گا تو اس سے کسان ہی کانقصان ہوگا۔کرناٹک حکومت سے میرامطالبہ یہ ہے کہ کسان گؤشالہ کے حوالے جب اپناجانور کرے گاتوحکومت کوچاہیے کہ وہ اس جانور کی آدھی قیمت کسان کو اداکرے ۔ اور اگرکسان اپنے گھر میں ہی ناکارہ جانورکو پالتاہے تو حکومت اس کو اس کامعاوضہ دے۔ جناب اروندکمارارلی نے کہاکہ یہ کانگریس پارٹی ہی تھی جو گاؤ ذبیحہ ممانعت قانون لائی تھی۔آج جبکہ کرناٹک کی بی جے پی حکومت دھوکے سے کرناٹک کے ودھان سودھا میں بغیر کسی بحث کے قانون کو پاس کیاہے تو یہ بی جے پی کاچورراستہ ہے۔ لوور ہاوز کے بعد اپپر ہاوز میں بل آنا چاہیے تھا تاکہ اس پر بحث ہوسکے لیکن حکومت بل پیش نہیں کرسکی۔ اگر بل پیش کیاجاتاتو اس پر بحث ہوتی جبکہ وزیر افزائش مویشیاں کو بولنا ہی نہیں آتا۔ شاید اسی خدشہ کے پیش نظر آرڈی ننس لایاگیاہے۔موجودہ ممنوعہ ذبیحہ قانون ایک آرڈی ننس کے ذریعہ پاس کیاہے ۔ دیگر قوانین بھی ایسے ہی پاس کئے جارہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کواس طرح قوانین پاس کرنے کی عادت پڑگئی ہے۔ یہ دراصل جمہوریت کا قتل ہے۔ اروندارلی ایم ایل سی نے گورنر ہاؤز پر الزام لگایاکہ گورنر ہاؤز دراصل بی جے پی کے پارٹی آفس میں تبدیل ہوچکاہے۔ جو کہاجارہاہے گورنر ہاؤز ویسا ہی آرڈر نکال رہاہے۔ یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ آنے والے دنوں میں اس سے دیش کوخطرہ ہے اور بھارت کے آئین کوخطرہ ہے۔
