آسام۔ میزورم سرحد پرتنازعہ ۔ سرحدی تشدد میں 6 پولیس اہلکار ہلاک

تازہ خبر قومی

نئی دہلی:26؍جولائی
(زین نیوز؍ایجنسیز)
آسام۔میزورم سرحد پر تشدد پھوٹ پڑنے کی اطلاعات ہیں‘آسام کے وزیر اعلی ہمنتا بسواشرما نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعہ سے خبردی کہ آسام-میزورم سرحدی تشددمیں 6 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے

آسام پولیس نے اطلاع دی ہے کہ میزورم میں اشرار نے دونوں ریاستوں کی سرحد پرسنگباری اور فائرنگ کی ہے۔ اس تصادم میں آسام پولیس کے 6 اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلی نے اس واقعہ پر یک دوسرے کوموردالزام ٹہرایااورمرکزی وزیر داخلہ سے مداخلت کی درخواست کی۔

میزورم کے وزیر اعلی زور م تھنگا اور آسام کے ان کے ہم منصب ہمنتا بسواشرماکے درمیان سرحدی مسلہ کولیکرسرد جنگ جاری ہے اور دونوں کے درمیان شخت الفاظ کا تبادلہ بھی عمل میں آیا۔

ایک ٹویٹ میں وزیر اعلی ہیمنتا بسوا شرما نے کہا "مجھے یہ جان کربے حد تکلیف ہوئی کہ آسام پولیس کے 6 بہادر جوانوں نےآسام۔میزورم بارڈر پر ریاست کی آئینی حدود کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ میں شہدا کے لواحقین کے ساتھ اظہاریگانگت کرتاہوں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے سرحدی تنازعہ پرایک میٹنگ طلب کی تھی۔

اسی دوران میزورم کے وزیر اعلی تھنگانےجوابی ٹویٹ میں کھا ہے کہ ہمنتاجی ، امت شاہ جی سے دونوں وزرائے اعلی نے ایک فیصلہ کن ملاقات کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس کے بعد آج آسام پولیس کی دو کمپنیاں میزورم میں ورنٹے آٹو رکشہ اسٹینڈ کے قریب آئیں اور آنسو گیس کے گولے برساۓ اور وہاں موجود شہریوں پر لاٹھی چارج کیااور انہیں تشدد کانشانہ بنایا۔ انھوں نے سی آر پی ایف اور میزورم پولیس اہلکاروں کو بھی بھگا دیا۔

چیف منسٹر زورم تھنگا نے امت شاہ سے مداخلت کی خواہش کی ہے ۔پیر کے روز میزورم کے وزیر اعلیٰ زورم تھنگا نے اس جھڑپ کی ایک ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ کو ٹیگ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے پر فوری کارروائی کریں۔ وزیر اعظم کے دفتر کو بھی اس میں ٹیگ کیا گیا ہے۔

ہفتہ کو شیلانگ میں امیت شاہ کی زیر صدارت وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ میں آسام کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ، زورم تھنگا نے کہا کہ مؤخر الذکر کے ذریعہ دعوی کیا گیا علاقہ میزورم کے لوگوں نے 100 سالوں سے استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا ، "سرحدی تنازعات نوآبادیاتی دور کی ایک میراث ہیں جو موجودہ حکومت کو اپنے پیش رو سے وراثت میں ملا ہے جو ناگالینڈ ، میگھالیہ ، اروناچل پردیش اور میزورم جیسی ریاستوں کی تشکیل کے وقت حل طلب مسئلہ رہا ہے۔”