Burqa-clad-girl-allegedly-harassed

تمل ناڈو:  کوئمبتور میں طالبہ کے ساتھ اسلامو فوبک ہراسانی

تازہ خبر قومی
تمل ناڈو:  کوئمبتور میں  طالبہ کے ساتھ اسلامو فوبک ہراسانی
برقعہ پہنے اور بیف  کھانے پر طلبہ کے جوتے صاف کروانے کا شرمناک واقعہ
  متاثرہ طالبہ کے والدین نے شکایت درج کرائی
کوئمبتور :۔23؍نومبر
(زین نیوز)
تمل ناڈو کوئمبتور کے ایک مسلم خاندان نے ضلع کے چیف ایجوکیشنل آفیسر (سی ای او) سے شکایت درج کرائی ہے جس میں اشوک پورم کے گرلز گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول میں ان کی بیٹی کو اسلامو فوبک ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اسکول کے خلاف الزامات میں بچے کو اپنے ہم جماعت کے جوتے اپنے نقاب سے صاف کرنے پر مجبور کرنا اور اسے بیف کھانے پر سرعام شرمندہ کرنا شامل ہے۔
منگل 22 نومبر کو درج کرائی گئی شکایت میں والدین نے الزام لگایا کہ ان کی 13 سالہ بیٹی کو اسکول میں دو ماہ سے زائد عرصے تک ہراساں اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔
 والدین نے محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ا سکول کے دو اساتذہ اور ہیڈ مسٹریس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ شکایت کی بنیاد پر ضلع کے چیف ایجوکیشنل آفیسر (سی ای او) نے انکوائری شروع کی ہے۔
10 نومبر کوکلاس 7 کی طالبہ کو مبینہ طور پر اس کے کلاس ٹیچر نے اس کے ہم جماعتوں کے سامنے تھپڑ مارا تھا جب طالب علم نے اپنے والدین کے بارے میں استاد کے مبینہ طور پر فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی تبصروں پر اعتراض کیا تھا۔
ٹیچر نے مبینہ طور پر طالبہ سے اس کے والدین کے پیشوں کے بارے میں پوچھا۔ طالبہ نے جواب دیا کہ اس کی والدہ گھریلو خاتون ہیں اور اس کے والد بیف کا اسٹال چلاتے ہیں۔ اس پر استاد نے کہا تھا کہ تم اتنا مغرور ہو کیونکہ تم بیف  کھاتے ہو۔
متاثرہ خاندان نےمیڈیا کو بتایا کہ ٹیچر نے لڑکی کو اس وقت تھپڑ مارا جب وہ اپنے اور اپنے والدین کے لیے کھڑی ہوئی۔ ایک بار پھر 20 نومبر کولڑکی کو مبینہ طور پر استاد نے اپنے نقاب کا استعمال کرنے پر دیگر طالب علموں کے جوتے صاف کرنے پر مجبور کیا۔
خاندان کے ایک رکن نے نیوز منٹ کو بتایا کہ یہ سب برقعہ پہنے ہوئے بچے پر جھگڑے سے شروع ہوا۔ دو اساتذہ نے مبینہ طور پر اسےا سکول میں نقاب نہ پہننے کو کہا اور بعد میں ہیڈ مسٹریس سے بات کرنے اور اسے نکالنے کی دھمکی دی۔
 طالبہ کے رشتہ دار جے ایم حسین نے کہاکہ جب سے اس نے ایک سال قبل اس اسکول میں پڑھنا شروع کیا تھا وہ اسکول کے احاطے میں داخل ہونے تک اپنی یونیفارم کے اوپر نقاب پہنتی رہی ہے۔ کیمپس کے اندروہ صرف اپنے اسکول یونیفارم میں ہوگی۔
 انہوں نے یہ بھی کہا کہ والدین نے ابتدائی طور پر ہیڈ مسٹریس سے ملاقات کی تھی اور اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ان کے رسم و رواج کا سکول کے دیگر طلباء پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
 ان کے مطابق ہیڈ مسٹریس نے اس وقت وعدہ کیا تھا کہ یہ واقعہ نہیں دہرایا جائے گا۔ تاہم ٹیچر اس بات پر ناراض تھی کہ طالبہ نے یہ معاملہ اپنے والدین کے علم میں لایا تھا۔ اگلے دو ماہ تک طالبہ کو انتقامی کارروائی میں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔
ان کی متعدد شکایات سننے کے بعد اسکول انتظامیہ سے مایوس ہو کر والدین نے آخر کار سی ای او سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے طالبہ کے والدین اس معاملے کی شکایت کے لیے کئی بار اسکول جا چکے تھے لیکن انھیں اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا
۔ جمعرات 16 نومبر کو جب اس کے والدین دوبارہ اسکول گئے، تو ہیڈ مسٹریس نے والدین کو اگلے دن واپس آنے کو کہا اور انہیں فی الحال کیمپس چھوڑنے کی تاکید کی۔
حسین نے کہاکہ جب ہم اسکول چھوڑنے ہی والے تھے اس نے ٹھڈیالور پولیس اسٹیشن اور اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) چندر شیکھرن کو فون کیا اور ان سے شکایت کی کہ ہم کیمپس کے اندر مسائل پیدا کر رہے ہیں۔” تاہم اے سی پی نے صورتحال کو سمجھا اور والدین اور لڑکی کو تسلی دی۔
 انہوں نے انہیں گھر واپس آنے کو کہا اور انہیں یقین دلایا کہ طالب علم کو اسکول میں مزید امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود20 نومبر کو اسکول کی طالبہ کو اپنے نقاب کا استعمال کرتے ہوئے دیگر طالب علموں کے جوتے صاف کرنے پر مجبور کیا گیا
ٹھڈیالور پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ہیڈ مسٹریس نے واقعی کنٹرول روم کو کال کی تھی اور اس کے بعد اسٹیشن کو مطلع کیا گیا تھا۔ "مسئلہ کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کے لیے ہماری ٹیم اسکول گئی لیکن ہمیں دونوں طرف سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی،۔
طالب علم کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں اسکول سے انصاف ملنے کا یقین ختم ہوگیا ہے اور وہ محکمہ تعلیم پر امیدیں لگا رہے ہیں۔ جب میڈیا کے نمائندوں نے ہیڈ مسٹریس تک پہنچی تو اس نے کہاکہ میرے خلاف تمام شکایات جھوٹی ہیں۔ سی ای او کی انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد میرا عملہ اور طلباء ہمارے محکمہ (تعلیم) اور میڈیا کے سامنے سچ ثابت کریں گے۔