میں عورت یا مرد پر نہیں بلکہ ان کے بنیادی مسائل پر لکھتی ہوں

ادبستان تازہ خبر
شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ڈاکٹر صادقہ نواب سحر سے ایک ملاقات
    اسماء امروز :۔ ریسرچ اسکالر  
      شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدر آباد میں مورخہ ۱۶ جنوری ۲۰۲۳ ء بوقت شام تین بجے بعنوان ’’فکشن نگار سے ایک ملاقات ‘‘کی ایک نشت رکھی گئی۔پروگرام کی مہمان خصوصی مشہور فکشن نگار’’ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر‘‘ تھیں۔
اس پروگرام میں شعبہ اردو سے فارغ ریسرچ اسکالرڈاکٹر طیب پاشا قادری،ڈاکٹرسعد اللہ سبیل ‘ڈاکٹر محسن جلگانوی اور زڈاکٹر صبیحہ نسرین  بھی شریک تھے۔ شعبہ کے صدر پروفیسرسید فضل اللہ مکرم نے مہمانان کا استقبال کیا اور صادقہ نواب سحر کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا صادقہ نواب سحر عرصہ دراز سے مہاراشٹرامیں قیام پذیر ہیں لیکن آپ کا اصل وطن گنٹور آندھرا پردیش ہے۔
آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں،آپ نے ہر صنف ادب میں طبع آزمائی کی ہے ۔آپ نے شاعری، ناول،افسانے ،ڈرامے،انشائیے،لکھے۔ آپ کے علمی و ادبی خدمات پرہندوستان کی مختلف جامعات میں تحقیقی کام بھی ہورہا ہے۔ بالخصوص ہمارے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدر آباد میں آپ پر ایم فل کا کام ہوا ہے ۔
اس تعارف کے ساتھ روایت کے مطابق مہمان خصوصی کی شال پوشی کی گئی اورترو تازہ گل پیش کئے گئے۔ بعد ازاںڈاکٹر رفیعہ بیگم نے صادقہ نواب سحر کا تعارف پیش کیا جس کی ابتداء انہوں نے اس شعر سے کی ۔
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
      ڈاکٹر رفیعہ بیگم نے بتایا کہ آپ کا تعلق ہندی درس و تدریس سے ہے ۔لیکن آپ نے اردو میں کم و بیش ہر صنف میں طبع آز مائی کی۔آپ کی ادبی زندگی کاآ غاز شعر گوئی سے ہوا۔اور آپ کا پہلا شعری مجموعہ ’’انواروں کے پھول ‘‘۱۹۹۶ ء میں منظر عام پر آیا۔بچوں کے لئے نظمیں بعنوان ’’پھول سے پیارے پھول ‘‘ لکھیں۔
 لیکن وہ تخلیقی فن پارہ جس نے صادقہ نواب سحر کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے وہ ہے ناول ’’ کہانی کوئی سنائو متاشا ‘‘جو ۲۰۰۸ء میں شائع ہوااور منظر عام پر آتے ہی ادبی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔
اور آپ کا دوسرا ناول ’’جس دن سے ‘‘ہے ۔اس مختصر سے تعارف کے بعدصادقہ نواب سحر کو مدعو کیا گیااور پھر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ پروگرام در اصل ذو طرفین تھا۔جس میں لیکچر کے بجائے سوال و جواب اور گفتگو کو ترجیح دی گئی۔
ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے اپنے خاندانی حالات ‘اپنی تعلیم و تربیت خصوصاََ اپنے شوہر نواب صاحب کا تفصیل سے تذکرہ کیا کہ انہوں نے مجھے لکھنے پڑھنے اور پروفیشنل خدمات انجام دینے میں بھرپور ساتھ دیا اگر ان کا یہ ساتھ نہ ہوتا تو شاید میں اتنا سب کچھ حاصل نہیں کرپاتی۔ گفتگو کا آغاز صدر شعبہ پروفیسر فضل اللہ مکرم نے اپنے سوال سے کیا ۔
پروفیسر فضل اللہ مکرم :’’آپ امور خانہ داری اوردرس و تدریس کے فرائض ادا کرتے ہوئے لکھنے پڑھنے کے لئے وقت کیسے نکال پاتی ہیں؟
 صادقہ نواب سحر :وقت ہر کسی کے پاس ہوتا ہے اور اگر کوئی کچھ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے وقت نکال ہی لیتا ہے۔ میں وقت کو دو حصوں میں بانٹتی ہوں،زیادہ تر وقت تو ذہنی ہوتا ہے ۔
اگر کوئی کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ۸۰ فیصد کام ذہن میں ہی تیار ہوجاتا ہے۔جیسے ایک کردار میرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے اور مجھے اسے لکھنا ہے تو وہ میرے ذہن میں چلتا رہتا ہے۔جتنا زیادہ وہ ذہن میں چلے گا لکھنے کی مدت دوگنی ہوجائے گی کیونکہ سارا کام ذہن میں ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر محمد کاشف :کس فکشن نگار سے آپ متاثر ہے؟
صادقہ نواب سحر:بچپن میں پہلی کہانی جس نے میرے دل کو چھوا تھا اور اب بھی میں اس سے کافی متاثر ہوں، وہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی کہانی ’’ابو خان کی بکری ‘‘ ہے۔اور اسی طرح پیغمبران اسلام کی کہانیاں ہیں عموماََبچپن میں نانی یا گھر کی خواتین کا گھرکے لڑکوں کو زیادہ اہمیت دینا ‘ہمارے سماج میں عورتوں کو دبایا جانا وغیرہ سب کچھ میرے لکھنے کا محرکہ بنا۔
لیکن اب میرے نزدیک عورت اور مرد انسانیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ایسی ہی بہت سی کہانیوں نے میرے ذہن پر اثر ڈالا ہے ۔اور بہت سارے افسانہ نگاروں،ناول نگاروں ، شاعروں کی تخلیقات سے متاثر ہوں۔آپ لوگ بھی لکھئے کیونکہ لکھنا صفحہ قرطاس پراپنے ذہن کو اتارنا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم لکھا کریں۔
اورخواتین کو خاص طور سے لکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ویسے ہی سماج انہیں بولنے سے روکتا رہتا ہے ۔جو بھی لکھے تہذیب کی حد میں رہ کر لکھے۔اور وہی سچ لکھے جسے آپ سچے دل سے سچ سمجھتے ہیں ۔کیونکہ ہر کسی کا سچ مختلف ہوتا ہے۔جیسے شکیل بدایونی کا شعر ہے کہ
 ایک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
   ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے
 اور اسی طرح ساحر لدھیانوی نے بھی کہا
 ایک شہنشاہ نے بنواکے تاج محل
 ہم غریبوں کی محبت کا اڑیا ہے مزاق
دونوں کی باتیں اپنی اپنی جگہ سچ ہیں ۔ایک شاعر نے اپنی نظر سے اس کو دیکھا اور سچ مان کر لکھا اور دوسرے شاعر نے اپنی نظر سے سچ کو دیکھا اور لکھا۔
  پروفیسر فضل اللہ مکرم :آپ کا تعلق آندھرا پردیس سے ہے لیکن آپ کا مہاراشٹرا کوجا نے کے کیا اسباب رہے؟
صادقہ نواب سحر: ہمارا تعلق ضلع گنٹور سے ہے۔کرمان سے ہمارے ننھال والے اسلام کی تبلیغ کے لئے آئے تھے۔میرے والد ویدر انسپکٹڑ تھے پھر بزنس شروع کیا اورجب میں چھ ماہ کی تھی تو میرے والدین ممبئی لے کر چلے گئے اور میری پڑھائی بھی وہی ہوئی ۔لیکن گنٹور بلکہ پورا پرانا آندھرا پردیش ہمارے دل میں ہے۔
محمد خوشتر:آپ خالص تلگو علاقے میں پیدا ہوئیں اور پھر مراٹھی سے واسطہ پڑا تو کیا زبانوں کو لے کر کبھی آپ کو لکھنے میں دقت پیش آئی؟
صاقہ نواب سحر: تلگو ہمارے یہاں چھپانے کی زبان تھی،میرے والدین آپس میں بولا کرتے تھے ،مجھے تلگو نہیں آتی۔میں نے مراٹھی پڑھی اور مراٹھی میں پڑھایا ۔
جاوید رسول:آپ کا ناول ’’ کہانی کوئی سناو متاشا‘‘میں تانیثیت جھلکتی ہے۔جس میں عورت پر ہونے والے ظلم کو دکھایا گیا ہے لیکن مرد پر جو ظلم ہوتا ہے اس پر کیوں نہیں لکھاجاتا؟
صاقہ نواب سحر:میں انسان کے مسائل پر لکھتی ہوں میرے ناول’’راجدیو کی امرائی‘‘ کا مرکزی کردارمرد ہے۔لیکن جب مرد عورت کے مسائل پر لکھتا ہے تو اس کی خوب واہ واہی ہوتی ہے اور جب کوئی عورت عور ت کے مسائل پر لکھتی ہے تو پھر وہ فیمنیسٹ ہوجاتی ہے۔میں ان چیزوں میں نہیں پڑتی اور نہ کسی کو پڑنا چاہئے۔
اس کے بعدطیب پاشاہ قادری نے اپنے چند اشعار سناے۔ان کا ایک شعر مجھے یاد رہ گیا ملاحظہ ہو۔
 نظر سے گزرے یوں تو ہزارہا چہرے
نظر میں ٹھرا تو ایک چہرہ آپ کا ٹھرا
طیب پاشا کے بعد صبیحہ نسرین نے بھی اپنے کلام کو سامعین کو محظوظ کیا ۔ان کا لب و لہجہ نیایت سادہ تھا۔ان کے کلام سے ایک شعر ملاحظہ ہو۔
ملا کر قدم سے قدم چاندنی میں
 چلو تاج دیکھے صنم چاندنی میں
 ان کے بعدڈاکٹر سبیل نے اپنا کلام پیش کیا ۔ایک شعر ملاحظہ ہو۔
خدا کی انوکھی نگارش ہو تم
 مرا خواب ہو مری خواہش ہو تم
ان کے بعد ڈاکٹرمحسن جلگانوی نے بڑے خوبصورت اور پر کشش انداز میں اپنا کلام پیش کیا جن میں سے ایک شعربہت پسند کیا گیا۔
لحد کی مٹی بھی دینے کوئی نہیں آیا
   ہزاروں چاہنے والے لواحقین میں تھے
پروگرام کے اختتام پر صادقہ نواب سحر نے اپنی نظم ’’ گلا ‘‘ سنائی۔جس کا ایک مصرعہ ملاحظہ ہو
چاند کا پھول کا ،چاندنی رات کا پیار کی بات کا
قدر داں اب زمانے میں کوئی نہیں
من میں ایسی کوئی جاگ اٹھے لگن
جس سے تن پائے سکھ خوشی پائے من
جس سے دھل جائے غم ،جس سے کھل جائے دل
ایسی برسات کا قدر داں اب زمانے میں کوئی نہیں
          اس طرح یہ دلچسپ پروگرام  ڈاکٹر رفیعہ بیگم کے شکریہ پر اختتام پذیر ہوا جس میں شعبہ اردو کے دیگر اساتذہ پروفیسر حبیب نثار‘ڈاکٹر اے آر منظر‘ڈاکٹر محمد کاشف‘ڈاکٹر نشاط احمدکے علاوہ  طلبا و طالبات اور ریسرچ اسکالرز کی تثیر تعداد شریک تھی۔