شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پروگرام جناب رفیق جعفر سے ایک ملاقات 

تازہ خبر تلنگانہ
رپورتاژ:  اسماء امروز     
                                                                    
شعبہ اردو‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد میں بتاریخ۱۲ نومبر ۲۲۰۲ء بروز پیر دوپہر۰۳:۳ بجے ایک تقریب بعنوان ”شاعر سے ایک ملاقات“منعقد ہوئی۔جس میں اردو کے ممتاز شاعر و ادیب جناب رفیق جعفر(پونے) نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
صدر شعبہ اردو پروفیسر فضل اللہ مکرم صاحب نے رفیق جعفر صاحب کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ رفیق جعفر صاحب حیدر آباد کے ہی ہیں لیکن یہ پونہ میں رہتے ہیں۔
اس سے پہلے ۰۳ برس تک ممبئی میں تھے۔وہاں انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا پھر فلم کو ذریعہ معاش بنایا۔اوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے رفیق جعفر نے اردو زبان میں میڑک تک تعلیم حاصل کی،زبان سے محبت اور ادب سے لگاو بچپن ہی سے رہا۔حیدر آباد میں انھوں نے اردواخبارات کے لئے رپورٹنگ بھی کی۔ہفتہ وار ”ونگس“کے نام سے اخبار نکالا۔
شاعری بھی کرتے رہے لیکن ۲۷۹۱ء میں یہ تلاش معاش میں ممبئی چلے گئے۔جدوجہد یہاں بھی تھی اور وہاں بھی روداد زندگی طویل ہے۔میں تو انھیں صرف چار ایک برس سے جانتا ہوں مگر یہاں صحافتی اور ادبی حلقے کے تقریبا تمام مشہور مشہور ہستیوں سے ان کے تعلقات رہے ہیں۔اس سے پہلے کہ ہم ان کی جدو جہد کی روداد ان ہی کی زبان میں سنیں،
ہمارے ساتھ تین اور مہمان خصوصی پروفیسرشمش الہدی دریابادی صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی‘ نامور طبیب ومزاح نگار ڈاکٹر عابدمعز  اور نامور سرجن ڈاکٹر عمر بن حسن(سابق اسسٹنٹ پروفیسر دکن کالج آف میڈیکل سائنس حیدرآباد) کا بھی استقبال کرتے ہیں۔
پروفیسرشمش الہدی دریابادی نے پہلے صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدر آباد کا شکریہ ادا کیا اور مبارکبادی کہ انھوں نے رفیق جعفر صاحب جیسی شخصیت کو اعزاز بخشا پھر انھوں نے تعلیمی مسائل پر موثر تقریر کی۔ان کے  ڈاکٹرعابد معز کو اظہار خیال کے لئے مدعو کیا گیا۔
ڈاکٹر عابد معز نے رفیق جعفر صاحب کی ادبی صلاحیتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی،اور کہا کہ ان کی تین کتابیں یادگار اس لیے بھی ہے کہ انہوں نے ممبئی اور پونہ میں رہ کر حیدر آباد کے ادیبوں پر کام کیا۔ایک کتاب ”اردو ادب کے تین بھائی“(محبوب حسین جگر،ابراہیم جلیس،مجتبی حسین)‘ دوسری کتاب ”طنز و مزاح کے تین ستون“ اور تیسری کتاب ”عابد معز کی ادبی شناخت“۔یہ نہ صرف نقاد و محقق ہیں بل کہ شاعر بھی بہت اچھے ہیں۔
آج برسوں بعد ان کو سننے کا موقع مل رہا ہے۔اس کے بعد رفیق جعفر صاحب کی شال پوشی کی گئی۔اور پروفیسرسید فضل اللہ مکرم صاحب نے رفیق جعفر صاحب سے گزارش کی کہ آپ اپنی زندگی کی جدو جہد کے بارے میں کچھ کہیں۔ رفیق جعفر نے اپنے مخصوص پر اثر انداز میں محسن بھوپالی کے شعر سے گفتگو کا آغاز کیا۔
نہ جہد مسلسل نئی ہے نہ جبر وقت نیاتمام عمر گزاری ہے امتحان کی طرحانہوں نے سب سے پہلے شعبہ اردو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عاجزانہ انداز میں کہا کہ شعبہ کے ذمہ داران نے اس کم علم شخص کو ایک ایسی جگہ بلایا جوحیدر آباد ہی نہیں بلکہ ملک کی ایک بڑی دانش گاہ ہے۔ جہاں یہ شخص آنے کے لئے برسوں ترستا رہا ہے۔
اس وقت بھی میری ہمت نہیں ہورہی تھی یہاں آنے کی، جب میں حیدر آباد میں صحافتی اور ادبی حلقوں میں فعال تھا۔خیر یہ موقع پانچ دہائیوں بعد ہی سہی اللہ نے دیا۔شکر ہے رب کا کہ تقریبا آدھی صدی سے صرف اردو کی روٹی کھا رہا ہوں اور بال بچوں کو کھلا رہا ہوں۔یہ احسان ہے اس شہر حیدر آباد کا کہ مجھ کم تر کو خوب تر بنایا۔حیدر آباد کا ادبی ماحول میرا استاد ہے۔
برسوں پہلے کی وہ تربیت ممبئی کی جدوجہد میں بھی کام آئی اور وہاں کے حیدر آبادیوں نے میرا ساتھ بھی دیا۔یہ اردو ہی ہے جو ذریعہ عزت بنی اور ذریعہ شہرت بھی۔دولت جو قسمت میں تھی اس کو ملنا ہی تھا ملی۔یہ اردو ہی تھی جس کی وجہہ سے میں ریڈیو سیلون کے مشہور اناونسر ”امین سیانی“کے گروپ آف رائیٹرز میں شامل ہوا۔اور اردو زبان اور شعر و ادب نے ہی مجھے فلم انڈسٹری میں پہونچایا۔
اسسٹنٹ ڈائیرکٹر بنایا،اسسٹنٹ رائیٹر بنایا، ڈائیلاگ رائیٹر بنایا۔ہاں یہ ہوا کہ مسلسل کام نہیں ہوتا تھا میں بار بار بیروزگار ہوتا،لیکن ہر حال میں زندگی کی دھوپ میں اردو ادب ہی میرا سائبان بنا۔خیر ۰۵ برس کی جدو جہد پندرہ منٹ میں سنائی نہیں جاسکتی۔خدا کا فضل ہے کہ مجھے میرے حصے کی شہرت ملی ہے،سمیناروں میں بلایا جاتا ہوں۔
ادبی نشستوں میں کبھی صدارت کے لئے تو کبھی بطور شاعر شرکت کرتا ہوں۔آل انڈیا مشاعرے چار پانچ بڑے ملکوں میں بھی پڑھے ہیں۔شاعری کا ایک مجموعہ اور ایک تحقیق اور ایک تنقید کا مجموعہ شائع ہوا ہے۔ای۔ ٹی وی اردو کا مشہور سیرئل ”ہماری زینت“کے مکالمے لکھے ہیں جسے غالبا ۱۰۰۲ میں دی بیسٹ سرئیل کا ایوارڈ ممبئی کے مشہور ادارے ”راپا“ کی طرف سے ملا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں جو قلم کو ذریعہ معاش بنایا،کامیاب نہیں تو ناکام بھی نہیں ہوں۔اور طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر حال میں جینا سیکھیں،تعلیم حاصل کرکے مہذب زندگی گزاریں،نا انصافیوں کو ناکامی نہ سمجھیں،سوال کرتے رہیں۔
اپنے اساتذہ سے علم حاصل کرنے جتن کرتے رہیں۔بقول امجد حیدر آبادی کام کرنا ہی کامیابی ہے۔      صدر شعبہ اردو پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے رفیق جعفر صاحب سے کلام سنانے کی فرمائش کی اور انھوں نے اپنی نظمیں اور غزلیں سنائی۔
سامعین میں طلباو طالباتو ریسرچ اسکالرز کی تثیر تعداد کے علاوہ  شعبہ کے اساتذہ میں پروفیسر حبیب نثار‘ ڈاکٹر عرشیہ جبین‘ڈاکٹر اے آر منظر‘ڈاکٹر محمد کاشف‘ڈاکٹر نشاط احمد اور ڈاکٹر رفعیہ بیگم موجود تھیں،جو آپ کی اشعار سے محظوظ بھی ہوئے اور داد سے بھی نوازا۔
آپ کے کچھ اشعار ملاحظہ ہو۔
پھر زندگی کی فلم ادھوری ہی رہ گئ
وہ سین کٹ گئے جو کہانی کی جان تھے
جب بھی ہوتے ہیں شہر میں دنگے
زندگی زندگی سے ڈرتی ہے
گھر بیٹھ کے ہم کو تو مقدر نہیں ملتا
ہیرا تو بڑی چیز ہے پتھر نہیں ملتا
دوست بازو ہیں مرے اور میرے پیچھے بھی
پیٹھ پر ہو نہ کہیں وار خدا خیر کرے