نقصان دہ آن لائن گیمنگ پر پابندی: ایک دانشمندانہ اور دوراندیش قدم
شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ہر شعبۂ زندگی، چاہے وہ تعلیم ہو یا صحت، معیشت ہو یا سیاست، تفریح ہو یا سماجی تعلقات، سب پر ٹیکنالوجی کا گہرا اثر پڑا ہے۔ ایسے ماحول میں آن لائن گیمنگ ایک نئی صنعت اور تفریح کا مؤثر ذریعہ بن کر ابھری۔ ابتدا میں یہ کھیل محض وقت گزاری کے لیے بنائے گئے تھے، لکنے وقت کے ساتھ ان مںص مالی داؤ اور سٹے بازی جسےک منفی عناصر شامل ہو گئے۔
اس رجحان نے ایک پوری نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اورکل م، جو دراصل ایک صحت مند سرگرمی ہونا چاہےل تھا، کئی انسانوں اور خاندانوں کے لےا ایک بحران بن گال۔بھارت جیسے بڑے ملک میںجہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، وہاں آن لائن منی گمزک نے بہت تزڈی سے اپنی جڑیں مضبوط کر لی۔
یہ کھیل دلکش اور پرکشش وعدے کرتے تھے جیسےآسانی سے امیر بننے کا موقع اورمہارت سے پیسے کمانے کا بہترین طریہل وغیرہ مگر ان دلکش دعوؤں کے پیچھے چھپی حقیقت یہ تھی کہ جتنے بھی کھیل کھیلے جائیں، اصل جیت ہمیشہ ان کمپنیوں کی ہوتی ہے جو یہ پلیٹ فارم چلاتی ہیں۔ عام صارف اکثر مالی، نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی نقصان اٹھاتا ہے۔
کئی نوجوان ان گیمز کے عادی ہو گئے۔ یہ کھیل نشے کی مانند انسان کو بار بار اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ جیت کی صورت میں مزید جیت کی امید اسے کھیل میں الجھائے رکھتی ہے، اور ہار کی صورت میں نقصان پورا کرنے کی خواہش اسے دوبارہ کھیلنے پر مجبور کرتی ہے۔ یوں کھلاڑی ایک ایسے چکر میں پھنس جاتے ہیں جس کا انجام اکثر قرض، گھریلو مسائل، اور افسوسناک طور پر خودکشی کی صورت میں ہوتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں تقریباً 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی سطح پر ان گیمز سے متاثر ہیں، جب کہ 20 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ لاکھوں گھروں کی بربادی کی داستان ہے۔ ایسے میں حکومت کے پاس اس یلغار کو روکنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
چنانچہ، 21 اگست 2025 کو، پارلیمنٹ نے "آن لائن گیمنگ کا فروغ اور ضابطہ بندی بل،(پرموشن اینڈ ریگولیشن آف آن لائن گیمنگ بل 2025” منظور کیاجو کہ ایک انقلابی اور دانشمندانہ قدم ہے۔یہ قانون نہ صرف غیر قانونی منی گیمز پر پابندی عائد کرتا ہے، بلکہ واضح بھی کرتا ہے کہ کون سے کھیل جائز ہیں اور کون سے ناجائز۔
بل کے مطابق، قسمت پر مبنی کھیل، مہارت کے نام پر پیش کیے جانے والے وہ کھیل جن میں پیسے کا لین دین شامل ہو، اور ان دونوں کا امتزاج، سبھی غیر قانونی قرار دیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس، ای -اسپورٹس، تعلیمی اور سماجی گیمز کو فروغ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فرق سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مقصد تفریح پر پابندی لگانا نہیں بلکہ استحصال سے بچاؤ ہے۔
اس قانون مںک سخت سزائںگ بھی شامل کی گئی ہںی۔ اگر کوئی فرد یا کمپنی ایسے گمزج پشب کرے یا ان کی تشہرن کرے، تو اسے تنل سال تک قد اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح، اگر کوئی شخص یا ادارہ ان گمزی کی تشہرفی مہم یا پروموشن مںم شریک ہو، تو اسے دو سال تک قدا اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کاس جا سکتا ہے۔
مزید برآں، اگر کوئی بار بار یہ جرم دہراتا ہے، تو اس کے لےگ سزائںا مزید سخت ہوں گییعنی پانچ سال تک قد اور دو کروڑ روپے تک جرمانہ۔یہ جرائم ناقابلِ ضمانت اور سنگنئ نوعتم کے قرار دیے گئے ہںن، جس کا مطلب یہ ہے کہ پولسں کو بغر وارنٹ گرفتاری کا اختاکر حاصل ہو گا۔
یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ بینک،یوپی آئیاور دیگر مالیاتی ادارے ایسے لین دین کی اجازت نہیں دیں گے جو ان غیر قانونی گیمز سے جڑے ہوں۔ حکومت کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ غیر قانونی ویب سائٹس اور ایپس کو بلاک کر دے۔ اس کے ساتھ ایکآن لائن گیمنگ اتھارٹیبھی قائم کی جائے گی، جو گیمز کو رجسٹر کرے گی، ان کی درجہ بندی کرے گی،اور یہ فیصلہ کرے گی کہ کون سا کھیلقانونی ہے اور کون سا نہیں۔
یہ قانون بھارت کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے کئی حوالوں سے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ خاندان مالی بربادی سے محفوظ رہیں گے۔ نوجوان اپنی توانائیاں مثبت اور تعمیری میدانوں میں صرف کریں گے۔ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کم ہوں گےکیونکہ ان گیمز کا تعلق منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم سے بھی جڑا ہوا تھا۔ ڈیجیٹل معیشت کو استحکام ملے گا اور ای-اسپورٹس و تعلیمی گیمز کے ذریعے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا بھارت کا یہ قدم دنیا کے دیگر ممالک کے لیے مثال بن سکتا ہے؟ درحقیقت، کئی ممالک پہلے ہی اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین میں گیمنگ پر وقت کی پابندیاں لگائی گئی ہیں تاکہ بچے زیادہ دیر تک نہ کھیل سکیں۔
سنگاپور اور جنوبی کوریا میں بھی آن لائن گیمنگ کے لیے سخت قوانین موجود ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک نےلوٹ باکسیس پر پابندی عائد کی ہے کیونکہ انہیں جوا تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت نے اس بل کے ذریعے ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے، یعنی پورے منی گیمز سسٹم پر قانونی گرفت مضبوط کی ہے۔ اس طرح بھارت نہ صرف اپنے نوجوانوں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق، یہ کھیل انسانی دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتے ہیں جو انعام و سزا کے نظام کو منظم کرتے ہیں۔ بار بار جیتنے اور ہارنے کی کشمکش انسان کو اس طرح جکڑ لیتی ہے جیسے کسی نشے کی گرفت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان گیمز کے متاثرین اکثر ڈپریشن، اضطراب اور تنہائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اس پہلو کو دیکھتے ہوئے یہ قانون صرف قانونی ہی نہیں، بلکہ طبی اور نفسیاتی نقطہ نظر سے بھی ایک اہم قدم ہے۔عدالتوں نے بھی وقتاً فوقتاً ایسے معاملات پر اپنی رائے دی ہے۔ کئی بار ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا آن لائن رَمی، پوکر یا فینٹسی گیمز محض کھیل ہیں یا جوا؟ مختلف فیصلوں میں یہ کہا گیا کہ اگر پیسوں کا لین دین شامل ہو تو یہ کھیل جوا کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ نے اس بل کے ذریعے اس ابہام کو ختم کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ پیسے والے کھیل غیر قانونی ہیں۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آن لائن منی گیمز نے کس طرح دیہی اور نیم شہری علاقوں تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ سستے اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ پیکجز کی بدولت چھوٹے شہروں اور دیہات کے نوجوان بھی ان جالوں میں پھنس گئے۔
تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع کے باعث یہ کھیل ان کے لیےجلدی امیر بننے کا خواب بن گئے، لیکن انجام میں غربت اور بدحالی نے ان کا دامن تھاما۔ اس بل نے ان نوجوانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ محنت اور تعلیم ہی کامیابی کے اصل راستے ہیں، نہ کہ سٹے بازی۔
اسی طرح خواتین، بالخصوص گھریلو خواتین، بھی ان کھیلوں کا شکار ہوئیں۔ گھریلو فراغت کے وقت جب وہ ان ایپس پر آئیں تو ابتدائی جیت نے انہیں اپنی طرف کھینچا، لیکن وقت کے ساتھ مالی نقصان اور گھریلو جھگڑے ان کی زندگی کا حصہ بن گئے۔
کئی رپورٹوں میں سامنے آیا ہے کہ ان کھیلوں نے خاندانی رشتوں میں دراڑ ڈال دی، طلاق کے معاملات میں اضافہ ہوا،اور گھریلو تشدد کی شرح بڑھی۔ اس قانون کے ذریعے حکومت نے نہ صرف نوجوانوں بلکہ خواتین اور خاندانوں کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے۔
علاوہ ازیں، اس بل نے ڈیجیٹل کمپنیوں اور اشتہاری اداروں کو بھی واضح پیغام دیا ہے کہ منافع کمانے کے لیے معاشرے کو برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اخلاقی معیارات قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس بل نے یہ اصول طے کر دیا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی اور انسانی فلاح ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون ہیں۔
اس قانون کے نفاذ سے ایک بڑی سماجی تبدییو کی امدک ہے۔ خاندان اپنی بچت محفوظ رکھ سکںا گے، نوجوان اپنی توانائا ں تعلینف اور تخلیہ سرگرموےں مںی لگائںم گے، اور ملک کی معشت مضبوط ہوگی۔ اس کے علاوہ، ڈیٹل؟ پلٹو فارمز پر شفافتج اور اخلاقی معاار قائم ہوں گے، جس سے سماجی برائووں اور مالی استحصال کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ یہ قانون نہ صرف فرد کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے بلکہ بھارت کو ایک ذمہ دار، محفوظ اور ترقایافتہ ڈیٹل، معاشرہ بنانے کی راہ ہموار کرے گا۔
