بی جے پی کے دوانجن کا مطلب( موڈانی) ایک مودی دوسرا اڈانی

تازہ خبر
بی جے پی کے دوانجن کا مطلب ایک مودی دوسرا اڈانی
اڈانی‘ وزیراعظم کا بے نامی‘ اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائی‘ 
یہ ای ڈی سمن نہیں مودی سمن‘کے ٹی آر کا الزام
حیدرآباد:۔ 10؍مارچ 
(زین نیوزبیورو) 
بی آر ایس کے کارگزار صدر اور وزیر کے ٹی راما را ؤنے دہلی ایکسائز پالیسی کیس کی تحقیقات کی آڑ میں بی آر ایس و چیف منسٹر کے چندر شیکھر را ؤکو نشانہ بنانے پر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کھل کرحملہ کیا اور بی آر ایس وزرا ئومنتخب نمائندوں بشمول ایم ایل سی کے کویتا کے خلاف مقدمات کو سیاسی  انتقام سے تعبیر کیا۔
 انہوں نے صنعت کار گوتم اڈانی اور مرکزی ایجنسیوں کے الزامات کا سامنا کرنے والے بی جے پی لیڈروں کے خلاف بے عملی پر وزیر اعظم سے کئی سوالات بھی کئے۔
ایم ایل سی کویتا کو ای ڈی کے سمن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے ٹی آر نے ای ڈی سمن کو مودی سمن قرار دیااورکہا کہ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ بی آر ایس قومی سطح پر ایک خطرہ بن رہا ہے
 مودی حکومت نے تقریبا ایک درجن بی آر ایس قائدین بشمول وزراء ‘ارکان پارلیمنٹ اور قانون سازوں کو پھنسایا اور اب ایم ایل سی کے کویتا کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بی آر ایس کسی بھی نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے اور انصاف کیلئے عدالتوں سے رجوع کرے گی۔
بی آر ایس کے کارگزار صدر نے دلیل دی کہ اپوزیشن پارٹیوں پر ای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپوں کا مقصد ملک میں جمہوریت کو ختم کرنا ہے۔ای ڈی کے ذریعہ کئے گئے95فیصد سے زیادہ چھاپے اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں پر تھے۔ تاہم2014میں مودی حکومت کے آغاز کے بعد سے دائر5,422سے زیادہ مقدمات میں سے صرف23مقدمات میں سزا سنائی گئی۔
وہ آج تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں  سے خطاب کررہے تھے۔مودی پر  چاروں طرف سے حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ڈبل انجن کا مطلب ہے ایک انجن مودی اور دوسرا اڈانی۔’’ایک سیاسی انجن ہے اور دوسرا مالیاتی انجن‘‘ہے۔
کے ٹی آرنے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وزیر اعظم ان کے یا اڈانی کے خلاف الزامات پر وضاحت کیوں نہیں کرتے ہیں۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ گوتم اڈانی نریندر مودی کا پراکسی ہے۔ کیا وزیراعظم جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ لیں گے؟ کیا اس میں ہمت ہے کہ وہ ملک کے سامنے اصلیت واضح ہوجائے؟
انہوں نے یاد دلایا کہ ہنڈن برگ کی رپورٹ کے باوجود جس میں اڈانی گروپ کی خامیوں کو بے نقاب کیا گیا اور اسٹاک مارکیٹوں سے 11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا اخراج ہوا، نہ تو وزیر اعظم مودی اور نہ ہی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے ابھی تک اس پرکوئی ردعمل ظاہر کیا ہے۔
کئی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے، بی آر ایس کے کارگزار صدر نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں کوئی بھی مودی کے سمن سے نہیں ڈرے گا اور اس کے بجائے وہ ای ڈی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
 کویتا کو دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں نوٹس دی گئی۔ بی جے پی لیڈر بی ایل سنتوش کے برعکس کویتا اس کا سامنا کرے گی جبکہ ایم ایل ایز کی غیر قانو نی خریداری کے معاملہ میں پوچھ گچھ سے بچ ر ہے ہیں۔
ہم قانون کی پاسداری کرنے والی شہری ہونے کے ناطے دہلی میں ای ڈی کے دفتر میں پوچھ گچھ کیلئے حاضر ہوں گے۔ے ٹی آرنے یاد دلایا کہ بی جے پی کی حکمت عملی یا تو "جملہ نہیں بلکہ حملہ ہے۔
اپنی نا اہلی کو چھپانے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دیگر مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کر کے انہیں ہراساں کر رہی ہے۔
 بی آر ایس کے ورکنگ  پریسڈنٹ نے کہا کہ میڈیا وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے اقدامات پر سوال کرنے سے ڈرتا ہے جواپنی ریڑھ کی ہڈی کھو چکا ہے۔مودی میں میڈیا کا براہ راست سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
لیکن جیسا کہ وہ بی بی سی پر بھی آئی ٹی کے چھاپوں کا حکم دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے   اس لیے کوئی بھی میڈیا گھرانے کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔
کے ٹی راما را ؤنے کہا کہ بی آر ایس صحافیوں اور یہاں تک کہ ان کی انتظامیہ کا احترام کرتی ہے، لیکن مخر الذکر ملک میں موجودہ حالات کی وجہ سے مودی حکومت سے سوال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نمستے تلنگانہ اور تلنگانہ ٹوڈے اخبارات پر بی جے پی نے اپنے ریاستی دفتر میں پابندی لگا دی تھی۔
 انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی ایجنسیوں نے آندھرا پربھا اخبار کے دفاتر پر چھاپہ مارا اور ابھی تک کسی نے اس سے پوچھ گچھ نہیں کی۔کے ٹی آر نے مودی-اڈانی جوڑی کے پانچ گھوٹالوں پر مرکزی ایجنسیوں کی عدم فعالیت پر سوا ل بھی کیا۔