سعودی عرب کا مسلم ممالک کے اتحاد کیساتھ فلسطینیوں کی حمایت کا اقدام قابل ستائش
متحدہ ٹھوس موقف ہی اسرائیلی جارحیت کو روک سکتا ہے: جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش
حیدرآباد:۔16؍نومبر
(پریس نوٹ)
جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے ذمہ داران بالخصوص صدر حضرت مولانا مفتی محمد غیاث الدین رحمانی قاسمی دامت برکاتہم نے سعودی عرب کی جانب سے تمام مسلم ممالک کو لے کر فلسطینی مسلمانوں اور غزہ کی مظلوم عوام کے سلسلہ میں اٹھائی جانے والی آواز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی اہم اور بروقت کیا جانے والا اقدام قرار دیا
، انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک متحدہ طور پر ٹھوس موقف اختیار کرتے ہوئے ہی اسرائیل کے ظلم کو روک سکتے ہیں اور فلسطینیوں کی مدد کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں واضح موقف اختیار کریں اور امریکہ اور اسرائیل پر معاشی اور تجارتی دباؤ بنانے کی حکمت عملی طئے کرے،
انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کی معیشت اس دنیا کی بہت بڑی معیشت ہے‘ اگر وہ چاہیں تو ان کا متفقہ موقف امریکہ اور اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ اس موقع پر مفتی محمود زبیر قاسمی نے کہا کہ موجودہ امریکی حکومت تبدیلی اور امریکہ فرسٹ کے نعرہ کے ذریعہ سے وجود میں آئی ہے اور اب تک جن کابینی افراد کے انتخابات کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے طرف بڑھتے ہوئے دکھانا خود کو پسند کررہے ہیں،
انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک فلسطینیوں کیلئے آزاد مملکت جس میں غزہ بھی شامل ہواس کیلئے بھرپور اور ٹھوس اقدام کریں اور دنیا کو مجبور کریں کہ وہ اسرائیل کو جارحیت اور ظلم سے روکے۔ واضح رہے کہ دو بنیادی عہدے جو راما سوامی اور ایلون مسک کو دیئے گئے ہیں
اس کا مقصد یہ ہی امریکی اخراجات پر کنٹرول ہے جبکہ یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کے ارب ہا ارب ڈالر اسرائیلی جارحیت پر اور مظلوم فلسطینیوں کے خلاف صرف ہورہے ہیں جو امریکی عوام کا محنت کا کمایا ہوا پیسہ ہے۔