نئی دہلی:۔یکم؍ڈسمبر
(زیڈ این ایم ایس)
جواہر لال نیشنل یونیورسٹی (جے این یو) کیمپس کی دیواروں پر برہمنوں اور بنیوں کے خلاف نعرے لکھے ہوئے پائے گئے ہیں۔اسکول آف لینگوئج اینڈ لٹریچر کی دوسری اور تیسری منزل کی دیواروں اور کئی فیکلٹی ممبران کے دروازوں پر سرخ پینٹ سے قابل اعتراض نعرے تحریر کیے گئے
۔ برہمن بنیا، ہم آپ کے لیے آرہے ہیں، آپ کو بخشا نہیں جائے گا۔ واپس برانچ میں جاؤ… جیسے دھمکیاں لکھی ہوئی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دیواروں پر کچھ نعرے تحر یر کیے گئے ہیں "برہمن کیمپس چھوڑ دیں”، "وہاں خون ہو گا”، "برہمن بھارت چھوڑدو” اور "برہمنو بنیا، ہم تمہارے لیے آ رہے ہیں! ہم بدلہ لیں گے”۔
جے این یو کی خاتون پروفیسر کے کیبن کے دروازے پر نعرہ ‘شاکھا لوٹ جاؤ’ بھی لکھا گیا ہے، جسے بائیں بازو نے نومبر 2019 میں 3 دن تک حراست میں رکھا تھا۔ ابھی تک جے این یو انتظامیہ کی طرف سے اس واقعہ کو لے کر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
1) This is from JNU.
Slogans on the wall:
1. Brahmin Bharat Chhodo.
2. Brahmino-Baniyas, we are coming for you! We will avenge.School of Language Literature and Culture Studies in JNU. (2nd building, 3rd floor). pic.twitter.com/h4lGkotana
— Anshul Saxena (@AskAnshul) December 1, 2022
اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) نے ان نعروں پر آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن (AISA) کے کمیونسٹ طلبہ کو نشانہ بنایا ہے۔ اے بی وی پی کا کہنا ہے کہ بائیں بازو والوں نے کھلے ذہن کے پروفیسروں کو دھمکانے کے لیے ان کے چیمبروں پر دھمکیاں لکھی ہیں۔
طلباء نے دعویٰ کیا کہ برہمن اور بنیا برادریوں کے خلاف نعرے تحریر کرکے دیواروں کو خراب کیا گیا، جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ہیں۔ اے بی وی پی نے جے این یو انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمین کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ساتھ ہی، AISA کے رکن اور جے این یو کے سابق صدر این سائی بالاجی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ اے بی وی پی کیا بات کر رہی ہے۔ ہم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ یہ کام خود اے بی وی پی نے کیا ہوگا۔