Chandrababu-naidu-arrest-ap-high-court-orders

سابق وزیر اعلی ٰچندرابابو نائیڈو کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ سے راحت

بین الریاستی تازہ خبر
سابق وزیر اعلی ٰچندرابابو نائیڈو کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ سے راحت
سی بی آئی کی کارروائی پر عبوری روک۔ درخواست پر سماعت بھی 19 ستمبر تک ملتوی
حیدرآباد:۔13؍ستمبر
(زین نیوز)
 بدعنوانی کے معاملے میں گھرے آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے اے سی بی کورٹ کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے۔ یہ پابندی 18 ستمبر تک نافذ رہے گی۔
اس وقت تک نائیڈو عدالتی حراست میں رہیں گے۔ جسٹس کے سرینواس ریڈی نے اپنے حکم میں کہا کہ سی آئی ڈی 18 ستمبر تک نائیڈو کو اپنی تحویل میں نہیں لے سکتی۔ ہائی کورٹ 19 تاریخ کو کیس کی دوبارہ سماعت کرے گی۔
ہائی کورٹ نے تیلگو دیشم پارٹی کے صدر چندرابابو نائیڈو کی درخواست پر سماعت بھی 19 ستمبر تک ملتوی کر دی ہےجس میں انہوں نے کروڑوں روپے کے اسکل ڈیولپمنٹ اسکام کیس میں اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔
عدالت نے سی آئی ڈی کو درخواست پر جواب داخل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سی آئی ڈی کیس میں عدالت نے نائیڈو کو عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ وہ اس وقت راجہ مہندرا ورم جیل میں بند ہیں۔
نائیڈو اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔آندھراحکومت کے وکیل نے کہا کہ حکومت 18 ستمبر تک نائیڈو کی پولیس حراست سے متعلق سی آئی ڈی کی درخواست پر دباؤ نہیں ڈالے گی۔ اس پر دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق ہو گیا ہے۔
وجئے واڑہ کی ایک عدالت نے منگل کو چندرابابو نائیڈو کو ان کے گھر کی تحویل میں رکھنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ کے وکلاء کی ٹیم نے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ ان کی اپیل تھی کہ چندرابابو نائیڈوکے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کیا جائے۔
چندرابابو نائیڈوکو اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق ایک مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے ریاستی حکومت کے خزانے کو 300 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچنے کا اندازہ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نائیڈو کو حراست میں لینے کا فیصلہ مکمل تجزیہ کے بعد ہی کیا گیا۔ فی الحال کیس کی تفتیش جاری ہے۔ ہم نائیڈو کے خلاف مقدمہ کو عدالت میں مضبوطی سے پیش کرنے جا رہے ہیں۔