حیدرآباد: پاکستانی شہری کے غیر قانونی طور پرمقیم رہنے میں سازشی زاویہ کی تحقیقات
فیض محمد کے خلاف تعزیرات ہند اور غیر ملکی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج
حیدرآباد:۔یکم؍ستمبر
(زین نیوز)
(زین نیوز)
ایک 24 سالہ پاکستانی کو جمعرات کے روز اپنی حیدرآبادی بیوی کے ساتھ گزشتہ 10 ماہ سے شہر میں غیر قانونی طور پر رہنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ جوڑے نے تقریباً تین سال قبل شارجہ میں ملازمت کے دوران متحدہ عرب امارات میں شادی کی تھی۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ویسٹ زون) پی سائی۔ چیتنیا نے ایک ریلیز میں کہا کہ مصدقہ معلومات کی بنیاد پر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع شانگل کے رہائشی فیض محمد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فیض محمد نیپال کی سرحد کے ذریعے بغیر ویزا کے ہندوستان میں داخل ہوا تھا اور فیض محمد اپنی ہندوستانی بیوی کے ساتھ رہنے آیا تھا اور کشن باغ کے این ایم گوڑا میں اپنے سسرال کے گھر غیر قانونی طور پر رہ رہا تھا۔ فیض کی اہلیہ حیدرآباد کی رہنے والی ہیں۔ فاطمہ صحت کے مسائل کے باعث متحدہ عرب امارات سے شہر واپس آئی تھیں
پولیس نے بتایا کہ اس کے قبضے سے ایک پاکستانی پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات بھی ضبط کی گئی ہیں۔ 24 سالہ نوجوان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع شانگل کے گاؤں سوات کا رہائشی ہے۔
پولیس کے مطابق فیض محمد کے خلاف تعزیرات ہند اور غیر ملکی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فیض کے سسر اور ساس جنھوں نے اسے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے اور مقامی شناخت حاصل کرنے میں مدد کی تھی مفرور ہیں۔
ویسٹ زون کے ڈپٹی کمشنر پولیس پسائی چیتنیا نے میڈیا والوں کو بتایا کہ ملزم فیض دسمبر 2018 میں شارجہ (یو اے ای) گیا تھا، اور ڈیزرٹ اسٹوڈیو گارمنٹس کمپنی میں سلائی اور فنشنگ کے شعبے میں کام کرتا تھا۔دونوں شارجہ میں ایک ساتھ کام کرتے تھے
سال 2019 میں ملزمان کی ملاقات ہندوستانی شہری نیہا فاطمہ سے ہوئی جو حیدرآباد کے اسد بابا نگر، کشن باغ کی رہائشی ہے اور اسے ملینیم فیشن انڈسٹری میں درزی کی نوکری دلانے میں مدد کی۔
دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے اور شارجہ میں شادی کر لی۔ان کا ایک تین سال کا بیٹا بھی ہے۔ نیہا فاطمہ بعد میں ہندوستان واپس چلی گئیں جبکہ فیض پاکستان واپس آگئے۔
پولیس نے بتایا کہ فیض محمد کے سسر زبیر شیخ اور ساس افضل بیگم نے اسے یہ یقین دہانی کر کے پاکستان سےہندوستان لے گئے کہ وہ اسے ہندوستان میں رہنے کے لیے مقامی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا بندوبست کریں گے۔ وہ متعلقہ اتھاریٹی سے درست ویزا حاصل کیے بغیر نیپال (کھٹمنڈو) کے راستے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوا۔
زبیر شیخ اور افضل بیگم نے سرحدی عہدیداروں کو منظم کیا کہ فیض کو نیپال کی سرحد سے اٹھا کر حیدرآباد لے آئے۔ وہ اسے مادھا پور میں آدھار دفتر بھی لے گئے اور پیدائش کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا اور اسے اپنے بیٹے محمد غوث کے طور پر درج کرایا۔
پولیس نے پاکستانی پاسپورٹ ایک موبائل فون پاکستان کے قومی شناختی کارڈ، فلائٹ ٹکٹ، بورڈنگ پاس، کھٹمنڈو کے ہوٹل کونارک ان میں بکنگ کے ٹکٹ، کھٹمنڈو میں بک کیے گئے بس کے ٹکٹ، اور 14 ہندوستانی ریلوے ٹکٹ بھی قبضے میں لے لیے۔
پولیس نے ایک برتھ سرٹیفکیٹ اور ایک آدھار انرولمنٹ فارم بھی ضبط کیا جو حیدرآباد میںمحمد غوث کے نام سے غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا
۔ پولیس نے کاؤنٹر انٹیلی جنس اور مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر مشتمل ایک جامع تحقیقات کا آغاز کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا پاکستانی شہری کے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے میں کوئی سازشی زاویہ تو نہیں تھا۔