مولانا ارشد مدنی کے بیان اوم اور اللہ ایک ہیں پر مذہبی رہنما برہم

تازہ خبر قومی
جین دھرم گرو کے اعتراض کے بعد سنتوں نے احتجاجاً سٹیج چھوڑ دیا۔
نئی دہلی:۔12؍فروری
(زیڈ این ایم ایس)
جمعیت علمائے ہند کے اجلاس کے آخری دن مولانا ارشد مدنی کے بیان پر کافی ہنگامہ ہوا۔ مدنی آر ایس ایس کے سربراہ کے اس بیان کا جواب دے رہے تھے، جس میں انہوں نے کہا تھا – ہندو اور مسلمانوں کے آباؤ اجداد ایک جیسے ہیں
 مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ تمہارے آباؤ اجداد ہندو نہیں تھے، وہ منو یعنی آدم تھے۔ ان کے بیان کے خلاف احتجاجاً اجلاس میں پہنچنے والے مختلف مذہبی رہنما سٹیج چھوڑ کر چلے گئے۔
دہلی کے رام لیلا میدان میں جمعیۃ علماء ہند کے 34ویں اجلاس کے آخری دن مولانا مدنی نے کہاکہ میں نے پوچھا جب کوئی نہیں تھا۔ نہ شریی رام تھے، نہ برہما، نہ شیو۔ جب کوئی نہیں تھا تو مانو کس کی پوجا کرتا تھا؟
بعض کہتے ہیں کہ وہ شیو کی پوجا کرتے تھے۔ بہت کم لوگ بتاتے ہیں کہ منو اوم کی پوجا کیا کرتے تھے۔ اوم کون ہے؟ بہت سے لوگوں نے کہا کہ اس کی کوئی شکل یا رنگ نہیں ہے وہ ہوا ہے ۔ وہ دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔ ارے بابا ہم اس کو اللہ کہتے ہیں۔ تم اسے خدا کہتے ہو۔
جین منی لوکیش نے مولانا مدنی کے بیان کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کنونشن لوگوں کو جوڑنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کا بیان کس حد تک جائز ہے؟ یہ بات منی لوکیش نے اسٹیج پر کہی۔ اس کے بعد وہ پروگرام سے اٹھ کر چلے گئے۔ ان کے بعد دیگر مذاہب کے سنتوں نے بھی پروگرام چھوڑ دیا۔
مولاناارشد مدنی نے کہاکہ ‘حضرت آدم جو کہ نبی تھے، ہندوستان کی مٹی میں سب سے پہلے اترے تھے۔ اگر وہ چاہتا تو آدم کو افریقہ، عرب، روس میں اتار دیتا۔ وہ بھی جانتے ہیں، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آدم کو دنیا میں لانے کے لیے ہندوستان کی سرزمین کا انتخاب کیا گیا تھا۔
انھوں نےمزید کہاکہ میں نے بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں سے پوچھا کہ اللہ نے زمین پر پہلا انسان کس کی عبادت کیا؟ دنیا کے اندر صرف آدم تھے، اسے کیا کہا جائے؟
لوگ مختلف باتیں کہتے تھے۔ مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ ہم اسے منو کہتے ہیں، ہم اسے آدم کہتے ہیں، انگریزی بولنے والے اسے آدم کہتے ہیں۔ ہم بنی آدم کو انسان کہتے ہیں اور منو کی اولاد کو انسان کہتے ہیں۔
مدنی نے کہاکہ ملک میں تعلیم کا زعفرانیت قبول نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق مدنی نے پروگرام میں کہا کہ مسلمان پیغمبر اسلام کی توہین قبول نہیں کریں گے۔ اس وقت ہندوستان میں تعلیم کو بھگوا بنایا جا رہا ہے اور یہ منصفانہ نہیں ہے۔ دوسرے مذاہب کی کتابیں مسلط نہ کی جائیں۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔
مولانا ارشد جمعیت کے سربراہ محمود مدنی کے چچا ہیں،جمعیت علمائے ہند کے قومی صدر مولانا اسعد مدنی تھے۔ ان کا انتقال 2008 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد جمعیت علمائے ہند کے موجودہ سربراہ محمود مدنی کا اپنے چچا مولانا ارشد مدنی سے جمعیت کی قیادت کو لے کر جھگڑا ہوگیا۔
طویل جھگڑے کے بعد جمعیت دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک گروپ کی قیادت محمود مدنی اور دوسرے گروپ کی قیادت ارشد مدنی کر رہے تھے۔ دونوں نے اپنی اپنی جمعیت علمائے ہند کے قومی صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ تاہم گزشتہ سال دونوں میں صلح ہوگئی۔
جمعیت علمائے ہند ہندوستان کی سرکردہ اسلامی تنظیموں میں سے ایک ہے۔ یہ دیوبندی نظریہ سے متاثر ہے۔ یہ 1919 میں قائم کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جمعیت کے پیروکار ملک بھر میں کروڑوں میں ہیں۔  اس تنظیم کی تاریخ ملک کی آزادی کی لڑائی سے بھی وابستہ رہی ہے۔