ایشیا کپ 2023 کا شیڈول جاری: پاکستان میں صرف 4 میچز کھیلے جائیں گے
نئی دہلی:۔15؍جون
(زین نیوز ڈیسک)
کافی تنازعات کے بعد بالآخر ایشین کرکٹ کونسل نے ایشیا کپ 2023 کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ 31 اگست سے 17 ستمبر تک کھیلا جائے گا۔
پاکستان میں ٹورنامنٹ کے صرف 4 میچز ہوں گے۔ بقیہ 9 میچز سری لنکا میں ہوں گے۔ ابتدائی گروپ مرحلے کے چار میچز پاکستان میں ہوں گے۔ ان میں ایک گروپ سے پاکستان بمقابلہ نیپال اور دوسرے گروپ سے افغانستان بمقابلہ بنگلہ دیش، افغانستان بمقابلہ سری لنکا اور بنگلہ دیش بمقابلہ سری لنکا کے میچز شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کا پاکستان میں ایک بھی میچ نہیں ہوگا۔ فائنل بھی سری لنکا میں کھیلا جائے گا۔
اس ٹورنامنٹ میں ایشیائی جائنٹس ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور نیپال کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔ ٹورنامنٹ میں کل 13 ون ڈے کھیلے جائیں گے۔ جن میں سے چار میچ پاکستان اور باقی سری لنکا میں کھیلے جائیں گے۔ٹورنامنٹ کی میزبانی پاکستان کے تجویز کردہ ہائبرڈ ماڈل پر کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس بار ایشیا کپ کی میزبانی کا حق پاکستان کے پاس تھا ۔ لیکن بی سی سی آئی کے سکریٹری جئے شاہ نے ٹیم انڈیا کو دورہ پاکستان کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان نے کئی مراحل میں اے سی سی اور آئی سی سی کو دھمکیاں دی ہیں۔
پاکستان نے اس سال ہندوستا ن میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے ایشیا کپ کے لیے ہائبرڈ ماڈل بھی متعارف کرادیا۔
اے سی سی نے تقریباً وہی ہائبرڈ ماڈل اپنایا ہے، جس میں ہندوستان کو اپنے میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کرنا پڑے گا۔ اے سی سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ٹورنامنٹ کی میزبانی ہائبرڈ ماڈل میں کی جائے گی،
جس میں چار میچز پاکستان میں اور بقیہ نو میچ سری لنکا میں کھیلے جائیں گے۔ 2023 کے ایڈیشن میں دو گروپ ہوں گے، ہر گروپ سے دو ٹیمیں سپر فور مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی
ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ سپر فور مرحلے کی ٹاپ دو ٹیمیں فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔ اگرہندوستان فائنل میں کوالیفائی کرتا ہے تو یہ میچ پاکستان کے بجائے سری لنکا میں کھیلا جائے گا۔
اے سی سی نے کہا کہ ہم دنیا بھر کے شائقین کو کرکٹ کے اس جشن کو بہترین انداز میں دیکھنے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اے سی سی نے ابھی تک صرف تاریخوں کا اعلان کیا ہے، مکمل شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا