کے سی آر کا ریموٹ کنٹرول مودی کے پاس ہے

تازہ خبر تلنگانہ
کے سی آر کا ریموٹ کنٹرول مودی کے پاس ہے
بی آر ایس کا مطلب بی جے پی رشتہ دار سمیتی
تلنگانہ میں ضعیفوں اور بیواؤں کو ماہانہ 4 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
جلسہ سے راہول گاندھی کا خطاب
حیدرآباد:۔2؍جولائی
(زین نیوز)
 کانگریس لیڈر راہول گاندھی تلنگانہ کے دورے پر ہیں۔ راہول گاندھی نے تلنگانہ کے کھمم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔  راہول گاندھی نے اپنی تقریر میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ بی آر ایس پر بھی شدید حملہ کیا۔
 تلنگانہ میں جنا گرجنا سبھا کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ان کا ریموٹ کنٹرول پی ایم مودی کے پاس ہے۔ راہول نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ ایوان میں بی جے پی کے خلاف کھڑی رہی ہے، لیکن کے سی آر کی پارٹی نے بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کیا ہے۔
  راہول گاندھی نے بی آر ایس پر شدید حملہ کیا۔ کے سی آر کی پارٹی  بھارت راشٹر پارٹی پر الزام لگاتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ انہوں نے کسانوں کے مسئلہ پر بی جے پی کی مدد کی ہے۔
  راہول گاندھی نے کہا کہ جب ہم نے پارلیمنٹ میں کسانوں کا مسئلہ اٹھایا تو بی آر ایس نے بی جے پی کی مکمل مدد کی تھی۔ جو کچھ وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں
 آپ کے وزیر اعلیٰ کرتے ہیں کیونکہ آپ کے وزیر اعلیٰ کا ریموٹ کنٹرول وزیر اعظم مودی کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے تلنگانہ جنا گرجن سبھا میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سمجھتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہیں اور تلنگانہ ان کی بادشاہت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی پارٹی بی آر ایس بی جے پی کی رشتہ دار سمیتی کی طرح ہے

  راہول گاندھی نے کہا کہ ہم نے بھارت جوڑو یاترا کے دوران ملک کو متحد کرنے کی بات کی تھی۔ پورے ملک نے یاترا کی حمایت کی اور ظاہر کیا کہ وہ نفرت اور تشدد پھیلانے کی حمایت نہیں کرتے بلکہ ملک کو متحد کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
 کھمم کانگریس کا گڑھ ہے اور لوگوں نے ہمیشہ ان کی حمایت کی ہے۔ یہاں کے لوگ ہمارے نظریہ کو سمجھتے ہیں۔ تلنگانہ ایک خواب تھا، غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کا خواب تھا۔
 9 سال تک بی آر ایس نے اس خواب کو چکنا چور کرنے کی کوشش کی۔ اب ٹی آر ایس بی آر ایس نے اپنا نام بدل کر بی آر ایس۔بی جے پی رشتہ دار کمیٹی رکھ لیا ہے۔
راہول گاندھی نے کہا کہ کے سی آر اور ان کی پارٹی کے قائدین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ اس لیے وہ بی جے پی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اپوزیشن کے ایسے کسی گروپ میں شامل نہیں ہوگی جہاں بی آر ایس ہو ہم بی آر ایس کے ساتھ اسٹیج شیئر نہیں کر سکتے۔
 وہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے جانے والے اپوزیشن اتحاد کا حوالہ دے رہے تھے۔ حال ہی میں پٹنہ میں اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہوئی، جس میں راہول گاندھی  نے بھی شرکت کی۔
کانگریس پارٹی نے حال ہی میں کرناٹک میں بدعنوان اور غریب مخالف حکومت کے خلاف الیکشن لڑا ہے۔ وہاں ہم نے اسے غریبوں، او بی سی، اقلیتوں اور مظلوموں کی حمایت سے شکست دی۔ تلنگانہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے۔
 ایک طرف ریاست کے امیر اور طاقتور لوگ ہوں گے اور دوسری طرف غریب، قبائلی، اقلیتیں، کسان اور چھوٹے دکاندار ہوں گے۔ کرناٹک میں جو ہوا ہے وہی تلنگانہ میں دہرایا جائے گا۔
 راہول گاندھی نے کہاکہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی بر سر اقتدار آتی ہے معمرین وضعیفوں اور بیواؤں کو ماہانہ  4 ہزار روپے وظیفہ دیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ بھٹی وکرمارک کی طرف سے عوامی مارچ پد یاترا کے حصہ کے طور پر کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کریں گے اور ساتھ ہی پہلے سے کئے گئے رعیتو اعلامیہ اور بے روزگاری کے اعلان میں دیئے گئے وعدوں کو بھی پورا کریں گے۔