چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی طبیعت ناساز
سپریم کورٹ میں آج کے طے شدہ معاملات اورمنی پور کیس پر سماعت ملتوی۔
سپریم کورٹ میں آج کے طے شدہ معاملات اورمنی پور کیس پر سماعت ملتوی۔
نئی دہلی:۔28؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
سپریم کورٹ نےجمعہ کی صبح کو ایک سرکاری نوٹس جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ جمعہ کو عدالت میں طے شدہ معاملات نہیں اٹھائیں گے کیونکہ وہ بیمار ہیں۔
جمعہ 28 جولائی کوسپریم کورٹ آف انڈیا کا ایک مصروف دن تھا جس میں اس کے دائرہ کار میں اہم مقدمات شامل تھے۔ ان میں سے بدنام زمانہ نٹھاری قتل کیس کے ایک ملزم مونندر سنگھ پنڈھر کی درخواست پر سماعت کرنا تھی۔
مزید برآں سپریم کورٹ ورنن گونسالویس اور ارون فریرا کی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنانے والی تھیجو دونوں حساس بھیما کوریگاؤں کیس میں ملزم تھے۔
ایجنڈے کا ایک اور اہم معاملہ معذوروں کے حقوق کے لیے قومی پلیٹ فارم کی طرف سے پیش کی گئی ایک درخواست تھی، جس میں مختلف معذور افراد کی مدد کے لیے فلاحی اقدامات کی وکالت کی گئی تھی۔
وہیں منی پور کیس پر سپریم کورٹ میں جمعہ کو ہونے والی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے کرنی تھی لیکن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ آج عدالت نہیں آئے۔ اس وجہ سے جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ کے سامنے زیر التوا مقدمات کی سماعت آج نہیں ہوگی۔
مرکزی وزارت داخلہ نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ کے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے عدالت سے کیس کی سماعت منی پور سے باہر منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس معاملے میں 7 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جس موبائل سے واقعے کی ویڈیو بنائی گئی تھی وہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے موبائل سی بی آئی کے حوالے کر دیا ہے۔ ویڈیو بنانے والے شخص کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واتین کو برہنہ کرنے پر سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ حکومت کارروائی کرے، ورنہ ہم کریںگے۔منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ کے ویڈیو کے بعد سپریم کورٹ نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 20 جولائی کو کہا تھا – ویڈیو دیکھ کر ہم بہت پریشان ہیں۔ ہم حکومت کو اقدامات کرنے کا وقت دیتے ہیں۔ اگر وہاں کچھ نہیں ہوا تو ہم اقدامات کریں گے۔
وہیں پریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا تھاکہ اب تک مجرموں کے خلاف کیا قدم اٹھائے گئے ہیں؟ سی جے آئی نے کہا کہ فرقہ وارانہ تصادم کے دوران خواتین کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنا کبھی بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آئین کی بدترین توہین ہے۔
سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں سے کہا کہ کوئی ٹھوس حل لے کر ہمارے پاس آئیں۔سپریم کورٹ نے 10 جولائی کو منی پور کیس کی بھی سماعت کی تھی۔
منی پور ٹرائبل فورم دہلی کے ایڈوکیٹ کولن گونسالویس نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت نے پچھلی سماعت میں تشدد روکنے کا یقین دلایا تھا۔ مئی میں 10 اموات ہوئیں جس سے یہ تعداد 110 ہو گئی۔
اس پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آپ کے عدم اعتماد کے باوجود ہم ریاست کے قانون و انتظام کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔ یہ ریاست اور مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آپ ہمارے پاس ٹھوس حل لے کر آئیں۔