سپریم کورٹ آئینی معاملات کی سماعت نہ کرے، وقت ضائع ہو رہا ہے
مشورہ پر مشتمل خط لکھنے والے وکیل کی سرزنش، کیا آرٹیکل 370 کی سماعت ضروری نہیں؟
آئینی بنچ کے معاملات میں آئین کی تشریح شامل ہے : چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ
مشورہ پر مشتمل خط لکھنے والے وکیل کی سرزنش، کیا آرٹیکل 370 کی سماعت ضروری نہیں؟
آئینی بنچ کے معاملات میں آئین کی تشریح شامل ہے : چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ
نئی دہلی:۔15؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کو یہ کہتے ہوئے میل کیا تھا کہ عدالت کو آئینی مقدمات کی بجائے عام مقدمات کی سماعت کرنی چاہئے (ایسے معاملات جن کی آئینی بنچ سنتی ہے)۔ جس پر چیف جسٹس نے جمعہ یعنی 15 ستمبر کو اختلاف ظاہر کیا۔۔اورشکایت کرنے پر وکیل کی سرزنش کی اور کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ آپ اس بات سے لاعلم ہیں کہ آئینی بنچ کے معاملات کیا ہیں۔ اس میں آئین کی تشریح شامل ہے
چیف جسٹس کو میل کرنے والے ایڈووکیٹ میتھیوز جے۔ نیڈم پارا جمعہ کو ایک کیس کی سماعت کے لیے سی جے آئی جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد سی جے آئی نے کہاکہ میرے سکریٹری جنرل نے آپ کا وہ شکایتی ای میل دکھایا۔ جس میں آپ نے کہا تھا کہ آئینی بنچ کے زیر سماعت مقدمات کو بیکار سمجھا جاتا ہے۔
جواب میں میتھیوز نے کہاکہ یقیناً سپریم کورٹ کو عام آدمی کے مقدمات کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں صرف آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نہیں جانتے کہ آئینی بنچ کن کیسوں کی سماعت کرتی ہے۔ یہ معاملات اتنے پیچیدہ ہیں کہ انہیں اکثر آئین کی تشریح کی ضرورت پڑتی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کے خلاف دائر درخواستوں کا ذکر کیا۔ سی جے آئی نے کہاکہ کیا اس معاملے کو سننا ضروری نہیں ہےمجھے نہیں لگتا کہ حکومت یا عرضی گزار ویسا ہی محسوس کرے گا جیسا آپ محسوس کر رہے ہیں۔ آئینی بنچ کے معاملات بعض اوقات آئین کی تشریح سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ایڈووکیٹ میتھیوز نے کہا کہ میں لوگوں کے بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کی سماعت کے خلاف نہیں ہوں۔ میں عدالت میں دائر ان درخواستوں کی سماعت کے خلاف ہوں جو لوگ مفاد عامہ کی آڑ میں اپنے مفادات کے لیے کرتے ہیں۔
ایسے مقدمات کی سماعت سے پہلے عدالت کو عوام کی رائے جاننی چاہیے۔ سی جے آئی نے کہا کہ یہاں بھی آپ غلط ہیں۔ وادی کے لوگوں نے بھی دفعہ 370 سے متعلق کیس میں عرضیاں داخل کیں۔ اس لیے ہم صرف قوم کی آواز سن رہے ہیں۔
عدالت نے ڈرائیوروں کی ملازمت کا مسئلہ اٹھایا۔سی جے آئی نے ملک بھر میں ڈرائیوروں کی ملازمت سے متعلق ایک مسئلہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات نہ صرف معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہوتا ہے۔
اگر آپ کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں ہوتے تو آپ کو سارا معاملہ سمجھ میں آ جاتا۔ کیس میں سوال یہ تھا کہ اگر کسی کے پاس ہلکی گاڑی کا لائسنس ہے تو کیا وہ کمرشل گاڑی چلا سکتا ہے؟