بھارت کو افغانستان بنانے کی کوشیش

تازہ خبر تلنگانہ
ملک کی ترقی کیلئے  امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ضروری
محبوب آباد کیلئے گورنمنٹ انجینئرنگ کالج کی منظوری۔  کلکٹریٹ کا  افتتاح  ‘چیف منسٹر کی تقریر
حیدرآباد :۔12جنوری
 (زین نیوزبیورو) 
چیف منسٹر مسٹر کے  چندرشیکھرراؤنے کہا ہے کہ بھارت کی ترقی کے لئے عوام کو امن وفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت ہے جہاں پر تمام شہریوں کی بہتری کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔
 انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لئے فرقہ وارانہ اور ذات پر مبنی منافرت کو ہوا دی جارہی ہے تاکہ ملک کے عوام کو تقسیم کرتے ہوئے ہندوستان کو طالبان حکمرانی والا افغانستان بنایا جائے ۔
 انہوں نے محبوب آباد ضلع میں انٹی گریٹیڈ ڈسٹرکٹ کلکٹریٹ کامپلکس کے افتتاح کے بعد جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے مرکز میں ترقی پسند اور غیرجانبدار حکومت کی ضرورت ہے تاکہ ریاستیں بھی ترقی کرسکیں۔ تلنگانہ ملک کو ترقی کی راہ دکھائے گا اس سلسلہ میں انہیں عوام کی حمایت کی ضرورت ہے ۔
چندرشیکھرراؤنے تلنگانہ کے خطوط پر کارکردگی نہ دکھانے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مرکز کی ناکامی کے سبب موجودہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) 11.5لاکھ کروڑ کے برخلاف تلنگانہ 3لاکھ کروڑ جی ایس ڈی پی سے محروم ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانہ پر وسائل کے باوجود مرکز کی حکومتیں ان سے زیادہ سے زیادہ استعمال میں ناکام ہوگئی ہیں۔
 عوام کو حکومتوں پر نظررکھنی چاہئے تاکہ وہ موثر طور پر کام کرسکیں۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ 20سال کے باوجود بالائی ریاستوں کے درمیان دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کا تنازعہ مرکزی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے زیرالتواء ہے تاہم تلنگانہ نے پیشرفت کی ہے کیونکہ وہ آبپاشی پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے پرعزم ہے ۔۔
چیف منسٹر نے کہا کہ محبوب آباد ماضی میں انتہائی پسماندہ علاقہ تھا لیکن اب جب یہ ضلع بن چکا ہے تو ترقی کا سفر جاری ہے۔  انہوں نے ضلع میں ایک نیا انجینئرنگ کالج قائم کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اسے اگلے تعلیمی سال سے ہی دستیاب کرائیں گے۔
قیام تلنگانہ کے بعد ہم نے بہت سے کام کئے ہیں۔ کئی اضلاع میں نئے کلکٹریٹس بنائے ہیں۔ اب محبوب آباد ڈسٹرکٹ کلکٹر کا دفتر شروع ہونے پر خوشی ہے۔ اس کلکٹریٹ کو عوامی مسائل کے حل کے لئے دفتر بننا چاہیے۔ تشکیل تلنگانہ  سے  قبل 3 یا 4 میڈیکل کالج تھے۔ ریاست کی تشکیل کے بعد ہمیں بہت سے نئے میڈیکل کالج ملے۔
 محبوب آباد ضلع کے بہت سے تانڈوں کو گرام پنچایتوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ ہر گرام پنچایت کو 10 لاکھ روپیئے کی منظوری دی جائے گی۔  علاوہ ازیں محبوب آباد ٹاؤن کو 50 کروڑ روپیئے اور تھورور، مری پیڈا اور ڈورنکل کو 25 کروڑ روپیئے خصوصی فنڈ سے منظور کئے جائیں گے۔
چیف منسٹر  نے مقامی وزراء   اور ایم ایل ایز کو ہدایت دی کہ وہ منظور شدہ فنڈس کا ایک ایک روپیہ عوام کی بھلائی کے لئے استعمال کریں۔وہ تلنگانہ تحریک کے دوران محبوب آباد کے علاقے میں آئے تھے۔ تب یہاں خشک سالی جیسے حالات تھے۔
جب انہوں نے تنگاتورتی، وردھناپیٹ اور پالاکورتی کے علاقوں کا دورہ کیا تو   وہاں آدھی بنی ہوئی نہریں دیکھ کر دکھ ہوا کہ انہیںزندگی  بھر پانی نہیں آئے گا۔
 جب بھی وہ ایٹوناگارم آتے تو چھوٹے موٹے پیسے لگاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری زمین پر ماتا گوداوری کب آئے گی اور آپ ہماری خشک سالی کب دور کریں گی۔
  اس پروگرام میں وزراء  پرشانت ریڈی، ای دیاکر راؤ، ستیہ وتی راٹھوڑ،  چیف سکریٹری شانتی کماری، ایم پی کویتا، ایم ایل سیز کڈیم سری ہری، پلا راجیشور ریڈی، ایم ایل ایز شنکرنائک، راجیا اور بی آر ایس کے کئی عوامی نمائندوں اور دیگر قائدین نے شرکت کی