پدیاترا کے دوران وائی ایس شرمیلا کے قافلے پر حملے کی مذمت کی

تازہ خبر تلنگانہ
 بچیوں پر حملہ کرنا مناسب نہیں۔کانگریس ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی
وائی ایس وجیما کا اظہار برہمی
حیدرآباد:۔29؍نومبر
(زین نیوز) 
کانگریس ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی نے حکمراں ٹی آر ایس پارٹی کے کارکنوں کے ذریعہ وائی ایس آر ٹی پی کے بانی صدر وائی ایس شرمیلا کے قافلے پر حملے کی مذمت کی . ا ور چیف منسٹر کے سی آر سے دریافت کیاکہ کیا وہ کسی خاتون کے لیڈر ہونے کوپسند نہیں کرتے؟
پولیس کی طرف سے شرمیلا کو پدا یاترا کی اجازت کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جمہوری طریقہ سے منعقدہ یاترا کی اجازت کو کیسے منسوخ کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تمام جمہوریت کے ماننے والوں سے کہا کہ وہ پولیس کے اس فعل کی مذمت کریں۔
 جیون ریڈی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت آئین کے ذریعہ فراہم کردہ اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی کررہی ہے اگر سیاسی پارٹیاں اپنے انتخابی وعدوں پر عمل آوری کے سلسلے میں پدا یاترا نکالتی ہیں تو انہیں روک کر حملہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ منظور شدہ یاترا کے لئے سیکوریٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔
جیون ریڈی نے اس طریقہ پر بھی سوال اٹھایا کہ کے سی آر حکومت جس انداز پر عمل کر رہی ہےاسے لگتا ہے ایک لڑکی  پارٹی کا صدر نہیں بننا چاہے۔ وائی ​​ایس کے مجسمے کو گرانے کا مطلب کسان ‘خواتین اور طلباء کے جذبات مجروح کرناہے
 غیر منقسم آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر وائی ایس آر کے مجسمہ کو تباہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک بار پھر وائی ایس آر کا مجسمہ بنائے۔ جیون ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وائی ایس کی توڑ پھوڑ کی گئی مورتی کو بحال کیا جائے
 انہوں نے حکمراں جماعت کے رہنماؤں سے سوال کیا کہ وہ ایک خاتون لیڈر پر کیسے حملہ کر سکتے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں مفت برقی کی فراہمی کا سہرا سابق وائی ایس آر کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالیشورم لفٹ اریگیشن پراجیکٹ‘ پراناہیتا ۔چیوڑلہ  پراجیکٹ کی توسیع ہے جسے سابق وزیر اعلی وائی ایس آر نے شروع کیا تھا۔
وائی ایس وجیما کا اظہار برہمی
وائی ایس وجیما نے وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی سربراہ شرمیلا کی گرفتاری پر سخت برہما کا اظہار کیااور وہ ٹی آر ایس حکومت پر ناراضگی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ ان کی  بیٹی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔
 جب  وہ انہیں دیکھنے جا ناچارہی تھی تو انہیں بھی پولیس نے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ  شرمیلا کوگھر لے آئے گی۔ جب تک اسے نہیں لایا جاتا وہ گھر کے گیٹ پر بیٹھی رہے گی۔
انہوں نے بتیا کہ ان کی بیٹی نے کبھی سخت الفاظ استعمال نہیں کیا اگر وہ تنقید کرتی ہے تو اسے جواب دینا چاہیے یہ سیاست کا طریقہ کار بھی ہے اس کے بجائے  حملہ کرنا کہا ں کا اصول ہے۔
وجیما نے کہا کہ حکومت کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی ۔ جب کسی خاتون پر حملہ ہوتا ہے تو ہر لیڈر کا ردعمل ہونا چاہئے۔ وجیما نے واضح کیا کہ وہ  ہمیشہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑی رہیں گی ۔