منی پور میں المناک و شرمسار کر دینے والے واقعات اور نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف آج 27 جولائی کو میڈیا پلس آڈیٹوریم میں ایک گول میز مباحثہ کا انعقاد عمل میں آیا
جس میں جے آئی ایچ تلنگانہ ایم پی جے ، اے پی سی آر، یوتھ ویلفیر ، وی سی کے، اسے آئی ڈی ایم پی ایف اور آل انڈیا تلنگانہ کونسل بشمول مسلم، ہندو، عیسائی ودلت طبقہ کے قائدین نے شرکت کر کے اس مباحثہ میں حصہ لیا۔
اس موقع پر جسٹس چندر چور ریٹائر ڈ نے کہا کہ نا انصافی کے خلاف میٹنگیں کرنے ، جلوس نکالنے، وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ ہند کو یورنڈم دینے سے مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں خصوصا منی پور کے شرم نام واقعہ نے ملک کے سیکولر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں ہونے والے انتخابات میں حکمراں بی جے پی کو ہرانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نفرت کی سیاست کو ختم کرنے کیلئے سیکولر کردار کی حامل شخصیتوں اور جماعتوں کو کامیابی دلانا وقت کا تقاضا ہے۔ جسٹس چندر چور نے اس بات کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آنے والے انتخابات میں بی جے پی کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت کی باگ ڈور سنبھالے گی تو ملک
میں ہند و مسلم متحد و طور پر رہنا محال ہو جائے گا اور آج منی پور کے واقعات کیلئے مل بیٹھ کر اسکے خلاف جو آواز اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ایسا بیٹھنے کے مواقع بھی ختم کر دیئے جائینگے ، یہی نہیں بلکہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو جیلوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔
مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں متحدہ طور پر منی پور جیسے واقعات کے سہ باب کیلئے متحدہ آواز اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ متحدہ جدو جہد میں وہ برابر کے شریک رہینگے ۔
جناب ابو فیل مسیح الدین نے کہا کہ جوالمیہ منی پور یا دیگر مقامات پر پیش آچکے ہیں یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کیلئے تمام این جی اوز ، سول سوسائٹیز کومل کر آواز ظلم کے خلاف لڑنا ہوگا۔
یہ مسئلہ صرف مسلمان ، عیسائیوں کا نہیں بلکہ ساری انسانیت کا مسئلہ ہے اس کے لئے مذہب سے بالا تر ہو کر متحد و طور آواز اٹھانا چاہیے۔
محمد شکیل ایڈوکیٹ نے کہا کہ ملک میں نو جوانوں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سلیم پاشاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ سب مل کر یونائٹیڈ پلٹ فارم قائم کریں مودی حکومت نے آپسی بھائی چارہ کوختم کر دیا ہے۔
انہوں نے مظلوم چاہے وہ کسی بھی مذہب وطبقہ سے تعلق رکھتے ہوئے انکے لئے متحدہ آواز اٹھانا ضروری ہے۔ محم عبد الحق قمر نے کہا کہ آج فسادات کرنے والوں یا انہیں کھلی چھوٹ دینے والوں میں پولیس وردی نظر آتی ہے۔
محترمہ قدسیہ تقسیم ایڈوکیٹ نے کہا کہ ان مظالم پر مشتمل واقعات سے باخبر کرانے کیلئے بڑے پیمانے پر اکز بیشن کرنا چاہیے تا کہ عوام میں شعور بیدار ہو محترمہ عرشیہ نے کہا کہ مالیگاؤں، گجرات اور اب منی پور میں انسانیت سوز واقعات نے ملک کو شرمسار کر کے رکھ دیا ہے۔
جناب انور خان نے کہا کہ منی پور واقعات نفرت پر مبنی سیاست کا ایک حصہ ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ اس جیسے واقعات کا اعادہ نہ ہونے کیلئے متحد ولائحہ عمل ترتیب دیں۔
انہوں نے کہا ملک میں شرمسار کر دینے والے ظلم وزیادتی کے واقعات آزادی سے پہلے کی بنیاد ہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف طبقات ، مذاہب کے افراد کوٹڑ اکر ملک میں ظلم و زیادتی کے ذریعہ انتشاری کیفیت پیدا کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہیں اس کے لئے تمام مذاہب کے لوگ مل کر ان واقعات کے خلاف ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے آواز اٹھا ئیں ۔
جناب عثمان نے کہا کہ آنے والے انتخابات سے قبل تلنگانہ ریاست میں بھی حالات بگارنے کی کوششیں ہونگی اسکے سب کو محفوظ را میں تلاش کرنی ہوگی۔
جناب عبدالمجید شعیب محترمہ ماریہ عاف الدین ، جناب افسر جہاں ایڈوکیٹ ، سید جلال الدین ظفر، جناب یزدانی، مسٹر فادر راجو ایلیس، مسٹر جے بی راجو ، ٹی اسکائی لیب بابو، مسٹر آتش بروا، و دیگر نے بھی اپنے اپنے تجاویز پیش کئے ۔
اس موقع پر اکثریت کی رائے تھی کہ منتظم طور پر پیں مارچ بڑے پیمانے پر کیا جائے اور ریاستی تلنگانہ حکومت کومنی پور جیسے واقعات کے سدباب کیلئے مرکزی حکومت کو ایکٹ پاس کرنے پر زور دیا جائے۔
اس موقع پر چند قرارداد میں منظور کی گئیں۔ 1۔ ہم منی پور اور ہندوستان کے دیگر حصوں میں تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور مرکز اور ریاستی حکومت سے اپیل کرتے ہیں۔