تلنگانہ : الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کانگریس کے انتخابی اشتہارات پر پابندی لگا دی
جس میں گلابی کار‘ اورسی آر کی شکل ایک جیسی دکھائی دیتی ہے
حیدرآباد:۔14؍نومبر
(زین نیوز)
الیکشن کمیشن نے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کانگریس کے انتخابی اشتہارات پر پابندی لگا دی ہے اور ٹیلی ویژن چینل انتظامیہ کے ساتھ ساتھ یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خط لکھا ہے کہ وہ اشتہارات کو نشر کرنے سے روک دیں۔
ان سے مواد کو فوری طور پر ہٹانے کو بھی کہا گیا۔یہ ہفتہ نومبر 11 کو ECI کے زیر اہتمام تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے بعد ہوا۔جن میں گلابی کار (BRS کا نشان) اوربی آر ایس صدر کے سی آر کی شکل ایک جیسی دکھائی دیتی ہے۔
مہم کے ویڈیوز کی متنازعہ سیریز میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ایک شکل دکھائی دیتی ہے جو عوامی تقریر کرتے ہیں جس میں عوام ان کا سامنا پوتا ہے۔ اور کار پنکچر ہوجاتی ہے
ہر ویڈیو میں مرکزی فنکار کو ایک خراب پریمیئر پدمنی کار کو دھکیلتے ہوئے دکھایا گیا ہےجو لوگوں کی طرف سے حکمران بی آر ایس کو مسترد کرنے کی علامت ہے۔
الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ بی آر ایس کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد لیا کہ کانگریس کےمہماتی اشتہارات جن میں گلابی کار (بی آر ایس کا نشان) اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ایک جیسی شکل الیکشن کمیشن کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) وکاس راج نے کہا کہ اسمبلی عام انتخابات کے لیے ریاستی سطح کی سرٹیفیکیشن کمیٹی کی طرف سے منظور کیے گئے سیاسی اشتہارات کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے خط میں کہا کہ انہوں نے اشتہارات کو منسوخ کر دیا کیونکہ وہ اپنی مرضی سے نشر کر کے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
మీడియాలో కాంగ్రెస్ ప్రచార ప్రకటనలపై ఈసీ నిషేధం.
ఎటువంటి ముందస్తు సమాచారం లేకుండానే ప్రకటనలపై బ్యాన్ వాటర్ మార్క్.
ఓటమి భయం పట్టుకున్న బీఆర్ఎస్ & బిజెపి పార్టీల ఒత్తిడితోనే ఈసీ నిర్ణయం.#ByeByeKCR pic.twitter.com/k7tBjEdme6
— Telangana Congress (@INCTelangana) November 13, 2023
کانگریس کے انتخابی مہم کے کئی ویڈیوز کے ٹیلی کاسٹ کے لیے دی گئی اجازت کو منسوخ کرنے کے بعد کانگریس میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ پارٹی اب سوشل میڈیا پر متحرک سرخ رنگ میں پابندی کے نشان BANکے ساتھ ویڈیوز کو گردش کر رہی ہے۔
کانگریس نے کہا کہ ان اشتہارات کو میڈیا سرٹیفیکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نے منظور کیا تھا لیکن بی آر ایس اور بی جے پی کے دباؤ میں الیکشن کمیشن نے انہیں روک دیا ہے۔
7 نومبر کو تلنگانہ کانگریس نے کے سی آر اور بی آر ایس کا مذاق اڑانے کے لیے اشتہاری مہم کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اس کے بعد سے اشتہارات وائرل ہو چکے ہیں۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن کو بدنام کرنے کے لیے نشر کیے جانے والے بعض اشتہارات پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ میٹنگ کے بعد بی آر ایس نے تلنگانہ کے سی ای او وکاس راج سے شکایت کی کہ کانگریس کے اشتہارات ای سی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
اس کے مطابق الیکشن کمیشن نے 15 اشتہارات کی منظوری واپس لے لی جن میں کانگریس کے چھ بی جے پی کے پانچ اور بی آر ایس کے چار اشتہارات ایم سی ایم سی کے ذریعہ نافذ کردہ مہم کے ضوابط کی خلاف ورزی پر ہیں۔
تاہم بی آر ایس نے استدلال کیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پابندی کے احکامات کے باوجود کئی خبریں، تفریحی چینلز اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اب بھی اشتہارات نشر کر رہے ہیں۔
دوسری طرف ٹی پی سی سی کے نائب صدر چمالا کرن کمار ریڈی نے گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اشتہارات پر پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی جسے ای سی پینل نے پہلے منظور کیا تھا۔
چمالا کرن کمار ریڈی نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی آر ایس حکومت ایل اینڈ ٹی پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ میٹرو ریل کے ستونوں اور اسٹیشنوں پر انتخابی اشتہارات لگانے کے لیے کانگریس کو جگہ نہ دے، جن پر بی آر ایس کے پوسٹرس اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قابض ہیں۔