سائبر حملے کے بعد یورپی ہوائی اڈوں پر چیک ان اور بورڈنگ سسٹم متاثر
کئی پروازیں تاخیر اور منسوخ
نئی دہلی، 20 ستمبر
(زیڈ این میڈیا سرویس)
یورپ میں ہفتہ کے روز کئی اہم ہوائی اڈوں پر ایک سائبر حملے کے باعث چیک ان اور بورڈنگ سسٹم معطل ہو گئے، تین بڑے ہوائی اڈے سائبر حملوں کی زد میں آئے ہیں: لندن کا ہیتھرو ایئرپورٹ، جرمنی کا برلن ایئرپورٹ اور بیلجیم کا برسلز ایئرپورٹ۔سائبر حملے نے ہفتے کے روز ان ہوائی اڈوں پر چیک ان اور بورڈنگ کے نظام کو درہم برہم کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور کچھ کی منسوخی بھی ہوئی۔
چیک اِن اور بورڈنگ کا نظام خراب ہے جس کی وجہ سے مسافر دستی طور پر چیک اِن کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں پروازوں میں نمایاں تاخیر اور بعض کو منسوخ کرنا پڑا۔برسلز ایئرپورٹ کے حکام نے بتایا کہ جمعہ کی رات (19 ستمبر) کو ان کے سسٹم فراہم کنندہ پر سائبر حملہ ہوا، جس کے بعد مسافر صرف دستی چیک ان تک محدود ہو گئے۔
اس کے نتیجے میں پروازوں کے شیڈول میں خلل پیدا ہوا۔ برلن کے برانڈنبرگ ایئرپورٹ پر بھی مسافروں کو سنبھالنے کا نظام متاثر ہوا اور حکام نے سسٹم کو عارضی طور پر منقطع کرنا پڑا۔رائٹرز کے مطابق، تیسرے فریق کے سروس فراہم کنندہ کو نشانہ بنانے والے سائبر حملے سے لندن کے ہیتھرو، برسلز اور برلن سمیت کئی بڑے یورپی ہوائی اڈوں پر چیک ان اور بورڈنگ سسٹم متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پروازیں تاخیر اور منسوخ ہو گئیں۔
برسلز ایئرپورٹ نے کہا کہ سائبر حملے نے خودکار چیک ان اور بورڈنگ سسٹم کو ناکارہ بنا دیا، جس سے ایئر لائنز کو دستی پروسیسنگ پر مجبور ہونا پڑا اور آپریشنز نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ ایئرپورٹ کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا گیا، "فلائٹ شیڈول پر بڑا اثر پڑا ہے اور بدقسمتی سے پروازوں میں تاخیر اور منسوخی ہوئی ہے۔
سروس فراہم کنندہ اس مسئلے کو حل کرنے پر فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ایئرپورٹ ترجمان ایریانے گوسنس کے مطابق، ہفتے کی صبح 10:30 بجے تک برسلز ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی 10 پروازیں منسوخ ہو چکی تھیں اور 17 دیگر پروازیں ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار تھیں۔
لندن ہیتھرو ایئرپورٹ نے بھی بیان میں کہا کہ فریق ثالث فراہم کنندہ، کولنز ایرو اسپیس میں "تکنیکی مسئلہ” کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوئی، جس کی وجہ سے مسافروں کی روانگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
کولنز ایرو اسپیس کے ترجمان نے کہا کہ کچھ ہوائی اڈوں پر ان کے MUSE سافٹ ویئر پر سائبر سے متعلق رکاوٹ” اثر انداز ہوئی، اور وہ مسئلہ حل کرنے اور سروس مکمل بحال کرنے کے لیے فعال کام کر رہے ہیں۔متاثرہ ہوائی اڈوں نے مسافروں کو ہدایت دی کہ وہ روانگی سے قبل اپنی ایئر لائن سے رابطہ کریں۔
برلن ایئرپورٹ نے اپنے ہوم پیج پر نوٹس جاری کیا، جس میں طویل انتظار کے اوقات اور سسٹم فراہم کنندہ کے تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کی گئی۔ انہوں نے کہا، "ہم فوری حل پر کام کر رہے ہیں۔
فرینکفرٹ اور زیورخ ہوائی اڈوں کے اہلکاروں نے تصدیق کی کہ ان کے آپریشنز اس مسئلے سے متاثر نہیں ہوئے۔سائبر حملے کی اصل حد اور اثرات ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں، لیکن یورپ بھر کے ہوائی اڈے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

