پولیس تشدد وبربریت کا شکار 38سالہ محمد قدیر خان کا انتقال
اقبال جرم کروانے مسلسل چار دن تھرڈ ڈگری کا استعمال
حیدرآباد :۔ 17؍فروری
( زین نیوز بیورو)
پولیس بربریت کا شکار 38سالہ محمد قدیر خان ساکن محلہ پٹلم بیس میدک تلنگانہ کا بالآخر گاندھی ہاسپٹل میں دوران علاج کل درمیانی شب انتقال ہوگیا ۔ تفصیلات کے بموجب عرب گلی میدک میں ایک خاتون کے گلے سے چین چھین لینے کی واردات کے بعد سی سی
ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر پولیس میدک ٹاؤن نے شبہ کے بنیاد پر حسینی عالم حیدرآباد میں لیبر کی حیثیت سے کام کرنے والے قدیر خان کو 29جنوری کو حراست میں لے کر میدک منتقل کرکے اقبال جرم کروانے 2فروری تک مسلسل تھرڈ ڈگری کا استعمال کیا ۔متوفی قدیر نے یہ بتائی تھی۔
پولیس تشدد وبربریت کا یہ عالم تھا کہ اس کے جسم کے ہر حصہ پر زخموں کے نشانات عیاں تھے۔ قدیر خان کو پولیس سرکاری دواخانہ میدک سے رجوع کروایا جہاں ڈاکٹروں نے بعد معائنہ گردوں کے ناکارہ ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے حیدرآباد منتقل کرنے کا مشورہ دیا
جس پر مقامی پولیس نے عجلت میں بیوی پر زور زبردستی کرتے ہوئے اسے رنیوا ہاسپٹل منتقل کروایا جہاں وہ 2دن تک زیر علاج رہا مگر حالت میں کوئی خاص سدھار نہیں آیا ۔
ڈاکٹروں نے اسے گاندھی ہاسپٹل منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ مہلوک کی اہلیہ سدیشوری(نو مسلم) کے مطابق میدک ٹاؤن پولیس نے قدیر خان کو زبردستی گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا یہاں چار دن تک زیر علاج رہنے کے بعد 16فروری کی نصف شب انتقال کرگیا۔
جیسے ہی آج صبح محمد قدیر خان کے انتقال کی اطلاع عام ہوئی مسلم حلقوں میں شدید غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مقتول قدیر خان کی بیوہ نے آج میدک ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں خاطی سب انسپکٹر پولیس راج شیکھر ‘پولیس کانسٹبلس آر پون کمار اور بی پرشانت کے خلاف ایک تحریری شکایات درج کروائی کی
میدک مسلم قائدین و کمیٹی کے افراد نے الزام عائد کیا کہ ان ظالموں نے تحقیقات کے نام پر اس کے شوہر کو ناقابل بیان ازیتیں دیتے ہوئے موت کے منہ میں لاچھوڑا ۔ ان درندہ صفت ایس آئی وکانسٹلبس کے خلاف شکایت کو سننے سے خاتون ایس پی نے بھی نہ صرف انکار کیا بلکہ شکایت کرنے اور ان کا ساتھ دینے والوں کو مقدمات میں پھانسنے کی مبینہ طور پر دھمکی دی۔
مقامی بی آرایس ایم ایل اے پدما دیویندرریڈی کو اطلاع ملی تو انہوں نے ایس پی سے بذریعہ فون ربط پیدا کرتے ہوئے خاطی پولیس کے خلاف عدم کاروائی کا جواز طلب کیا تو ایس پی نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ معاملہ کی تحقیقات کیلئے ایک عہدیدار کا تقرر کیاگیاہے ۔
حیرت کی بات ہے کہ واقعہ کے 15منٹ کے اندر اندر تحقیقاتی کام کو مکمل کیا جاسکتا تھا ۔ اس کے بجائے صرف دو خاطی کانسٹبلس کو قریبی پولیس اسٹیشنوں کو تبادلہ کردیا۔ ایس آئی حسب حال اسی پولیس اسٹیشن میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ پولیس مینول میں سیول سرونٹ کی ذمہ داریوں میں محکمہ کی دیکھ بھال تو انصاف عامہ کو بھی یقینی بنانا ہے ۔
ایس پی ابھی بھی اس تعلق سے نہی میڈیا اورنہ سیاسی قائدین سے بات کرنے راضی ہے۔ پولیس کی مار پیٹ کی وجہہ سے قدیر خان کے دونوں گردے ناکارہ ہوگئے جبکہ اس سے قبل اسے اس کی شکایت ہی نہیں تھی۔ چونکہ قدیر خان یتیم ویسر وغریب ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں پولیس کو بھی اس کی ہلاکت پر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کوئی افسوس نہیں ہے۔
بلکہ درمیانی افراد کو جو انصاف دلانے کیلئے بیوہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں پولیس انہیں مبینہ طور پر دھمکا رہی ہے۔ محمد قدیر خان نے تشدد کے بعد اپنا تفصیلی ویڈیو بیان بھی جاری کیا۔ مہلوک کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں شوہر کی ہلاکت کی وجہہ بننے والے پولیس ملازمین کوملازمت سے برطرف کر کے انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ۔
بیوہ نے 50لاکھ روپئے ایکس گریشیاء کی مانگ کی اور کہا کہ اس کا شوہر ہی خاندان کی کفالت کا اصل ذریعہ تھا۔ چونکہ مہلوک کے پسمانگان میں بیوہ کے علاوہ دو دختران اور ایک فرزندشامل ہیں۔ اب خاندان کی کفالت ایک مسئلہ بن گئی ہے۔
سدیشوری نے اپنے درخواست کی ایک نقولات وزیر داخلہ ‘ڈی جی پی ‘ ڈی آئی جی ‘ حقوق انسانی کمیشن حیدرآباد ‘قومی حقوق کمیشن نئی دہلی ‘ قومی وریاستی اقلیتی کمیشنس کے بشمول اسد اویسی ایم پی وصدر مجلس کو روانہ کی ہے
۔ بتایا جاتا ہے کہ کل درمیانی شب انتقال کے باوجود 17فروری کی شام تک بھی قدیر خان کی نعش کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا جن کی میت ہنوز گاندھی ہاسپٹل کے مردہ خانہ میں ہے۔
اطلاع کے مطابق ترجمان مجلس بچاؤ تحریک امجد اللہ خان خالد نے پوسٹ مارٹم میں تاخیر اور خاطیوں کے خلاف عدم کاروائی پر گاندھی ہاسپٹل کے احاطہ پوسٹ مارٹم روم کے پاس احتجاج کیا۔ ابھی تک بھی پولیس محمد قدیر خان سے چین برآمد نہ کرسکی جبکہ اس کی کسی اور سے برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔
