Earthquake copy

دہلی۔این سی آر، گڑگاؤں، نوئیڈا اور آس پاس کے علاقوں میں زلزلے کےجھٹکے

تازہ خبر قومی
دہلی۔این سی آر، گڑگاؤں، نوئیڈا اور آس پاس کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
نیپال میں 5.6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے
نئی دہلی:۔6؍نومبر
(زین نیوز ڈیسک)
 دہلی ۔این سی آر میں پیر کی شام 4.16 بجے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے   ۔ زلزلے کا مرکز ایک بار پھر نیپال تھا۔کیونکہ نیپال میں 5.6 شدت کا زلزلہ دوبارہ آیا، یہ تین دنوں میں دوسرا زلزلہ ہے۔اس سے قبل 4 نومبر کو رات 11 بج کر 32 منٹ پر نیپال میں 6.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 157 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
زلزلے کا اثرہندوستان میں بھی دیکھا گیا۔ دہلی۔این سی آر کے علاوہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ تاہم ہندوستان میں جان و مال کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی نے کہا کہ زلزلے کا مرکز اتر پردیش میں ایودھیا سے 233 کلومیٹر شمال میں تھا۔ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کے جھٹکوں نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا،
دہلی اور قومی راجدھانی کے علاقے میں بہت سے لوگوں نے ڈیسک اور فرنیچر کے زور سے ہلنے کی اطلاع دی۔سوشل میڈیا پر فوٹیج میں لوگوں کو رہائشی عمارتوں سے باہر نکلتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے X (سابقہ ​​ٹویٹر) پر شیئر کیا کہ نیپال میں 6 نومبر کو شام 4:16 پر 5.6 شدت کا زلزلہ آیا۔ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی جو 28.89 طول بلد اور عرض البلد82.36  پر واقع تھی۔
2015 میں 7.8 شدت کے زلزلے نے نیپال میں بڑی تباہی مچائی تھی۔ اس دوران تقریباً 9 ہزار افراد مارے گئے۔ اس زلزلے نے ملک کا جغرافیہ بھی بگاڑ دیا۔
 یونیورسٹی آف کیمبرج کے ٹیکٹونک ماہر جیمز جیکسن نے بتایا کہ زلزلے کے بعد کھٹمنڈو کے نیچے کی زمین تین میٹر یعنی تقریباً 10 فٹ جنوب کی طرف ڈھل گئی۔ تاہم دنیا کی سب سے بڑی پہاڑی چوٹی ایورسٹ کے جغرافیہ میں کسی قسم کی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔ نیپال میں آنے والا یہ زلزلہ 20 بڑے ایٹمی بموں جتنا طاقتور تھا۔

ہماری زمین کی سطح بنیادی طور پر 7 بڑی اور کئی چھوٹی ٹیکٹونک پلیٹوں پر مشتمل ہے۔ یہ پلیٹیں مسلسل تیرتی رہتی ہیں اور بعض اوقات ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں۔
 کئی بار ٹکرانے کی وجہ سے پلیٹوں کے کونے جھک جاتے ہیں اور جب بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو یہ پلیٹیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ ایسی حالت میں نیچے سے خارج ہونے والی توانائی باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرتی ہے اور اس خلل کے بعد زلزلہ آتا ہے۔