’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘‘
کے خالق علامہ اقبال باب دہلی یونیورسٹی کے نصاب سے نکالا جا سکتا ہے !!
دہلی یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل میں قرارداد منظور۔
نئی دہلی:۔27؍مئی
(زین نیوز ڈیسک)
’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘‘لکھنے والے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا باب دہلی یونیورسٹی کے نصاب سے نکالا جا سکتا ہے۔
دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل (AC) نے حال ہی میں نصاب میں کئی ترامیم کی منظوری دی ہے، جس میں خاص طور پر بی اے سیاسیات کے نصاب سے شاعر اور فلسفی محمد اقبال کو ہٹانا شامل ہے۔
جمعہ کو دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے اس حوالے سے ایک قرارداد منظور کی ہے۔ ماڈرن انڈین پولیٹیکل تھاٹ کے عنوان سے باب بی اے کے چھٹے سمسٹر کے نصاب کا حصہ ہے۔
یونیورسٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسے ہٹانے کے لیے یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کو معلومات دی جائیں گی، وہ حتمی فیصلہ کرے گی۔ کونسل کا اجلاس 9 جون کو ہوگا۔ 1877ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے علامہ محمد اقبال پاکستان کے قومی شاعر ہیں۔ وہ پاکستان بنانے کے خیال کو جنم دینے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سلیبس میں کل 11 چیپٹر ہیں۔ ان میں راجہ رام موہن رائے، پنڈتا رما بائی، سوامی وویکانند، مہاتما گاندھی اور بھیم راؤ امبیڈکر جیسی شخصیات کے افکار سے متعلق ابواب بھی اس نصاب کا حصہ ہیں۔ ان میں اقبال برادری کے نام سے ایک باب ہے، اسے ختم کرنے کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔
پانچ ارکان نے نصاب سے اقبال کا باب نکالنے کی تجویز کی مخالفت کی۔جمعہ کو شروع ہونے والا اکیڈمک کونسل کا اجلاس ہفتے کی دوپہر تک جاری رہا۔ کونسل کے 100 ارکان میں سے پانچ نے نصاب میں تبدیلی کی تجویز کی مخالفت کی۔ اس نے اسے تفرقہ انگیز قرار دیا۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے قرارداد کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے علامہ محمد اقبال کو نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وہ پاکستان کے فلسفیانہ باپ اور ایک بنیاد پرست ذہن رکھنے والے شخص تھے۔ جناح کو مسلم لیگ کا لیڈر بنانے کے پیچھے اقبال کا بڑا ہاتھ تھا۔ تقسیم ہند کے لیے جتنا جناح ذمہ دار ہے اتنا ہی اقبال بھی ہے۔
