غزہ میں زمینی آپریشن کرنےوالے 66 فوجی ہلاک
اسرائیل غزہ کو آگ لگا دے۔رکن پارلیمنٹ نسیم ویتوری کے بیان پر تنازعہ
لڑائی اور ہلاکتوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت۔سعودی وزیر خارجہ
تل ابیب:۔21؍نومبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
غزہ میں زمینی آپریشن کرنے والی اسرائیلی فوج کے اب تک 66 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایسے کئی واقعات ہیں جن میں اسرائیلی فوجی اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مر رہے ہیں۔
اسے فرینڈلی فائرنگ کہتے ہیں یعنی غلطی سے فائر کرنا۔ ایسے معاملات میں، فوجی جنگ کے دوران دشمن پر گولی چلاتے ہیں لیکن یہ غلطی سے ان کے ساتھی کو لگ جاتی ہے۔
اسرائیل ہی نہیں ہر جنگ کے دوران فرینڈلی فائرنگ کے کیسز سامنے آتے ہیں، افغان جنگ کے دوران 9 جون 2014 کو ایک ہی دن میں 5 امریکی فوجی فرینڈلی فائر کا نشانہ بنے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ فرینڈلی فائر کے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے، تاکہ انہیں دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔ساتھ ہی آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ اب تک حماس اورعسکریت بندوںکے 300 جنگجوؤں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ یہ لوگ اسرائیل کو حماس کی سرنگوں اور ہتھیاروں کے اڈوں کے بارے میں معلومات دے رہے ہیں۔
چین نے کہاکہ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جمع ہوئے تاکہ جنگ بندی کے لیے اسرائیل جیسے ہمارے برادر عرب ممالک پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
ادھر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں لڑائی اور ہلاکتوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں ہمیں فوری طور پر غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کی ضرورت ہے۔’
ساتھ ہی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بیجنگ عرب اور مسلم ممالک کا اچھا دوست اور بھائی ہے۔ چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق اور مفادات کی بحالی کی حمایت کی ہے۔
اجلاس میں سعودی عرب کے علاوہ اردن، مصر، انڈونیشیا، فلسطین اور اسلامی تعاون تنظیم (IOC) سمیت کئی دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ادھر اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ کے ڈپٹی سپیکر اور رکن پارلیمنٹ نسیم ویتوری کے بیان پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ویتوری نے پیر کو اسرائیلی ریڈیو چینل 103 ایف ایم کو ایک انٹرویو دیا۔ کہاکہ اسرائیل غزہ کو آگ لگا دے۔ اگر آپ اس سے کم کچھ کرتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس کے منٹس لیک ہونے پر سخت موقف اپنایا ہے۔ نیتن یاہو جلد ہی ایک قانون لانے جا رہے ہیں۔ اس کے تحت اگر کوئی میڈیا ہاؤس کابینہ کی گفتگو شائع کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔