امت شاہ کے نام میں ایک مسلم اور دوسرا عیسائی کاہے
شہروں وٹاؤنس کے بجائے پہلے اسے بدلنے کامشورہ
حیدرآباد:۔23 ؍دسمبر
(زین نیوزبیورو)
ریاستی سکریٹری سی پی آئی کے سامباشیواراؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ نریندر مودی کے دور حکومت میں تمام سرکاری نظام بدعنوانیوں سے دوچار ہوا ہے۔ مرکز پر سوال اٹھانے والوں کو دبانا، ای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپوں کی دھمکی دینا مودی حکومت کا معمول بن گیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ مودی نے ان آٹھ سالوں میں عوام کیلئے ایک بھی اچھا کام نہیں کیا۔سامباشیوا راؤ نے آج حیدرآباد کے نارائن گوڑہ میں سی پی آئی کے ریاستی دفتر میں میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کیا کہ مودی حکومت آئینی اداروں کو کمزور کر رہی ہے۔
بنڈی سنجے کا کہنا ہے کہ وہ تلنگانہ حکومت کو تھپڑ ماریں گے اگر یہ ثابت کرتی ہے کہ اس نے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے بھی کئی وعدوں پر عمل نہیں کیا اور کیا عمل درآمد نہ کرنے پر مرکز کو تھپڑ مارا جائے ؟جس کا انہوں نے سوال کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدہ کو فراموش کردیا گیا ہے۔
کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کرکے د ھوکہ دیا گیا اسی طرح کالا دھن لائیں اور ملک کے شہریوں کے کھاتوں میں روپے جمع کروانے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا۔مودی نے کہا کہ وہ 15 لاکھ جمع کرائیں گے۔ امت شاہ کے نام میں ایک مسلم اور دوسرا عیسائی کاہے۔
سامباشیواراؤ نے کہا کہ ان کا نام پارسی زبان کا ہے۔ کیا ملک کے تمام عیسائی اور مسلمان اپنے نام بدل لیں گے؟ امت شاہ کو دوسروں اور شہروں کے نام تبدیل کرنے سے پہلے اپنا نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ ملک کے بہت سے قصبوں کے انگریزی نام ہیں۔
ان کو بھی بدل دیں؟ قصبوں کے نام من مانی کیسے تبدیل کیے جائیں؟ انہوں نے کہا کہ کریم نگر کو کرین نگر کہنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ ان میں محمدغوری اورنگزیب میں کیا فرق ہے جنہوں نے اس دن اپنے نام بدلے تھے۔ انہوں نے بہم جاننا چاہا کہ وہ نام بدلنے والے کون ہوتے ہیں؟