غیرت کے نام پر باپ نے ہی دو گولیاں مارکر نعش پھینک دی تھی ۔ماں اور باپ گرفتار
نئی دہلی:۔21؍نومبر
(زیڈ این ایم ایس)
سرخ بریف کیس سے سے لڑکی کی نعش ملنے کے بعد ملک اس قتل کو لیکر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ آیوشی یادو 22 سالہ کی نعش 18 نومبر کو متھرا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک سرخ بریف کیس میں ملی تھی۔ ایوشی کو گولی مار دی گئی تھی
متھرا پولیس نے تین دن بعد اس معاملے میں بڑا انکشاف کیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ایوشی کی والدہ نے بھی اس واقعہ میں اس کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد نعش کو کافی دیر تک دہلی کے بدر پور گھر میں رکھا گیا۔
Not a Single TV channel is debating on this. Victim Ayushi's father shot her, Her body was packed in a suitcase & later Parents drove to Yamuna expressway to discarded it. Police clarified that victim had married a man despite her parents’ disapproval. pic.twitter.com/ixvcvyGZj7
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) November 21, 2022
دوسری ذات کے ایک لڑکے سے افیئر تھا آیوشی کا بھرت پور کے رہنے والے چھترپال نامی لڑکے سے افیئر تھا۔ دونوں کی شادی ایک سال قبل آریہ سماج مندر میں ہوئی تھی۔ آیوشی اپنے والدین کے گھر رہتی تھی۔ گھر والے شادی کے خلاف تھے۔
ایوشی کو قتل کرنے کے بعد والد نے گھر کے قریب کی دکان سے پولی تھین خریدا۔ دوپہر کو اس کی نعش کو سوٹ کیس میں پیک کیا۔
سوٹ کیس کو کار میں دیر سے 3 بجے رکھا اور صبح 5 بجے 150 کلومیٹر دور متھرا کے قریب یمنا ایکسپریس وے پر پھینک دیا۔ اس کے بعد 7 بجے دہلی چلے گئے۔ باپ گاڑی چلا رہا تھا اور ماں اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔
آیوش کی ماں برج والا اور بھائی آیوش اتوار کو متھرا میں پوسٹ مارٹم ہاؤس پہنچے اور نعش کی شناخت کی۔ شناخت کے بعد گھر والے کسی سے بات کیے بغیر سیدھا پولیس کے ساتھ گاڑی میں چلے گئے۔ میڈیا نے سوالات کرنے کی کوشش کی لیکن والدہ اور بھائی نے کچھ نہ کہا۔
آیوشی بی سی اے میں پڑھ رہی تھی۔ ماں اور بھائی کو پہچانتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے لگے۔
جس ریوالور سے اسے گولی ماری گئی اس کا لائسنس دیوریا میں بنایا گیا تھا۔ پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران دونوں والدین روتے رہے۔ اس نے بتایا کہ جو کچھ ہوا وہ اچانک اور غصے میں ہوا۔ باپ نے بتایا کہ بیٹی بدتمیزی کرتی تھی۔ اسے کئی بارسمجھایالیکن، وہ ماننے کو تیار نہیں تھی۔