عادل آباد : نوجوان کے قتل کی کوشش کے الزام میں چار گرفتار
کونسلر اور اس کی بیوی مفرور ۔قتل کا مقدمہ درج
عادل آباد :۔24؍ڈسمبر
(زین نیوز)
اپنی بیٹی سے پیار کرنے سے ناراض ایک باپ کے کرائے کے قاتلوں (کنٹریکٹ کلر)کے ساتھ مل کر ایک نوجوان کو قتل کرنے کی کوشش کے واقعہ نے عادل آباد ضلع کے مولا منڈل میں سنسنی پھیلا دی۔ دریں اثناء ضلعی پولیس نے معاملہ حل کرلیا
عادل آباد کی موالا پولیس نے ہفتہ کے روز کارپوریٹر یو رگھوپتی کی بیٹی سے محبت کرنے والے ایک شخص کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں کنٹریکٹ کلرز،چار افراد کو گرفتار کیا
، ڈی ایس پی وی اومندر نے بتایا کہ رگھوپتی نے اس مقصد کے لیے کنٹریکٹ کلرزسے معاہدہ کیا تھا۔ بی سی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کونسلر رگھوپتی مبینہ طور پر ایک دلت نوجوان کی محبت میں اپنی بیٹی سے خوش نہیں تھے۔جو کچھ سالوں سے رشتہ میں تھے۔
پولیس افسر نے کہا کہ رگھوپتی اور اس کی بیوی اروندھاتی، مرکزی ملزم مفرور ہیں۔ نوجوان کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے چا ر افرادجو عادل آباد قصبے میں کے آر کے کالونی سے تعلق رکھنے والے چوہان روی، جی اشوک، شیخ دلشاد اور جیناد منڈل کے وی راجو کو گرفتار کیا گیا
پوچھ گچھ کے دوران روی اور دیگر نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رگھوپتی سے 15 لاکھ روپے میں قتل کا کنٹریکٹ معاہدہ کیا تھا ۔رگھوپتی نے 50,000 روپے ایڈوانس ادا کیے تھے۔
پولیس عہدیدار نےکہاکہ روی نے کہا کہ عادل آباد قصبہ کی درگا نگر کالونی کے کونسلر رگھوپتی کی بیٹی کو ومشی نامی نوجوان سے محبت ہو گئی جو ایس سی ذات سے تعلق رکھتا تھا
انہوں نے ومشی کو ختم کرنے کی کوشش کی جو کونسلر رگھوپتی کی بیٹی سے پیار کر تا ہے روی کے مطابق 18 دسمبر کو ماوالا منڈل مرکز میں ومشی کے اسکوٹر کو جیپ سے ٹکر مار کر قتل کی کوشش کی گئی ۔ منصوبے کے ایک حصے کے طور پریہ سوچا گیا تھا کہ اگر جیپ ٹکرائی تو اسے حادثے کا مقدمہ درج کیا جائے گا اور کوئی شبہ نہیں ہوگا۔اس وقت ومشی کے سر میں شدید چوٹیں آئیں
وہ حیدرآباد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ متاثرہ کے اہل خانہ کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد مولا پولیس نے رگھوپتی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
ڈی ایس پی نے بتایا کہ روی پر پہلے جین ناتھ اور حیات نگر میں چوری کی دو بار مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اسے چند ہفتے قبل ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔
روی حالیہ انتخابات کے دوران انتخابی مہم چلاتے ہوئےکونسلر رگھوپتی سے رابطہ میں آیا۔ رگھوپتی نے مبینہ طور پر دو سال قبل ومشی کو اغوا کر لیا تھا اور اسے دھمکی دی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ دوستی جاری نہ رکھے۔اس کے بعد بھی ومشی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس لیے اس نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا
پولیس نے بتایا کہ رگھوپتی اس نوجوان ومشی کو قتل کرنا چاہتا تھا تاکہ اس کی بیٹی کی شادی دلت نوجوان سے نہ ہو جائے تو وہ "بے عزتی” سے بچا جائے۔ومشی کے والدین کی جانے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ چھ افراد کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
