فرانس میں 300 طالبات نے عبایا پر مکمل پابندی قبول نہیں کی
اسکول پہنچے والی 67 طالبات نے عبایا اتارنے سے انکار کردیا
اسکول پہنچے والی 67 طالبات نے عبایا اتارنے سے انکار کردیا
پیرس:۔ 5؍ستمبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
فرانس میں پیر کو ایک نیا تعلیمی سیشن شروع ہوا۔ صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے تمام اسکولوں میں مکمل برقعہ (عبایا) پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے باوجود 300 مسلمان طلبہ عبایا پہن کر اسکول پہنچے۔
ان میں سے 67 نے اسے اتارنے سے انکار کر دیا۔ باقیوں نے کلاس میں داخل ہونے سے پہلے اسے ہٹا دیا۔ عرب دنیا کی ویب سائٹ ‘مڈل ایسٹ مانیٹر نے اپنی رپورٹ میں یہ معلومات دی ہیں۔
فرانس کے وزیر تعلیم گیبریل اٹول نے گزشتہ ہفتے سرکاری اسکولوں میں عبایا پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ کئی مسلم تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس کے بعد صدر میکرون نے واضح کیا تھا کہ اس اصول کو ہر صورت لاگو کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم اتل نے کہاکہ پابندی کے باوجود 300 مسلم طالبات عبایا پہن کر اسکول پہنچیں۔ 67 کلاس میں داخل ہونے سے پہلے اسے اتارنے سے انکار کر دیا۔ باقیوں نے اصول کی پیروی کی۔
سیکولرازم کے اس ضابطہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو اس کے لباس سے پہچانا نہ جائے۔ اس کے لباس سے مذہب کی شناخت نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو بات چیت کے ذریعے بیان کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب مسلم رائٹس ایکشن (ADM) کے وکیل ونسنٹ برینگارتھ نے سوشل میڈیا پر کہاکہ ہم نے اس پابندی کے خلاف کونسل آف اسٹیٹ کے سامنے اپیل دائر کی ہے۔ یہ بنیادی آزادی کے حق کے خلاف اٹھایا گیا قدم ہے۔ اس کی سماعت جلد ہوگی۔
صدر میکرون پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ قدم طلباء کے خلاف نہیں بلکہ ان کے مفاد میں ہے اور اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔ میکرون نے کہا تھاکہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہر طالب علم برابر ہے۔ ان کا لباس مختلف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک جیسا ہونا چاہیے۔
میکرون کے دور میں فرانس میں مسلمانوں کے خلاف کئی بار بیانات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ پولیس نے مسلم چیریٹیبل فاؤنڈیشن اور عبادت گاہوں پر بھی چھاپے مارے ہیں۔