نئی دہلی:۔12؍دسمبر
(پریس ریلیز)
انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر اور سابق رکن پارلیمان پروفیسر کے ایم قادر محی الدین نے گزشتہ 5دسمبر کو دہلی میں منعقد ولاے کل جماعتی جی۔20کانفرنس میں اپنی تقریر میں کہا کہ بلاشبہ ہندوستان امن قائم کرنے والا ملک ہے ایسا دنیا کو باور کرانے کیلئے ہمیں روس۔ یوکرین جنگ کا حل نکالنا چاہئے۔
واضح رہے کہ بھارت، امریکہ، چین، آسٹریلیا، کناڈا، سعودی عرب، روس، جنوبی افریقہ، ترکی، ارجنٹائن، برازیل، میکسیکو، فرانس، جرمنی، اٹلی، انگلینڈ، انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا ا 19 ممالک اور یورپی یونین کو ملا کر جی۔20 گروپ تشکیل دی گئی ہے۔ہر سال ایک رکن ملک اس تنظیم کی قیادت کرتا ہے۔
2022 میں جی 20 سربراہی اجلاس انڈونیشیا کی قیادت میں جزیرہ بالی میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میں ہندوستان کو سال 2023 کے لیے G20 تنظیم کی صدارت سونپی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کو G20 سربراہی اجلاس کی میزبانی اور صدارت کرنے کا موقع ملا ہے۔ مرکزی حکومت اس کانفرنس کو اچھی طرح سے منعقد کرنا چاہتی ہے۔
مرکزی حکومت نے اس کانفرنس کے حوالے سے تمام بڑے شہروں میں 32 محکموں کی جانب سے 200 مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس کی بنیاد پر وزیر اعظم مودی نے 5دسمبر کو دہلی میں راشٹر پتی بھون میں G20 کانفرنس کے حوالے سے 40 پارٹیوں کے رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔
اس میٹنگ میں شریک پروفیسر کے ایم قادر محی الدین نے اپنی تقریر میں کہا کہ محترم وزیراعظم! عزت مآب مرکزی وزراء! محترم وزیر اعلیٰ! اور مختلف سیاسی جماعتوں کے معزز قائدین! انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے، مجھے اس تاریخی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کرنے کے لیے عزت مآب وزیر اعظم کا پہلا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
جی 20 سربراہی کانفرنس کی صدارت کی ذمہ داری ہمارے ملک کو سونپا جانا واقعی ایک بڑا اعزاز ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کے تمام لوگ خوشی اور فخر محسوس کر رہے ہیں۔
"سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمار” ہمارے ہندوستان کا ورثہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جی 20 ممالک بھارت کے قائدانہ کردار کو قبول کریں گے، بھارت ایک سال میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے گا۔اس ایک سال کی مدت میں منعقد ہونے والے پروگرام، آئیڈیلز، پروجیکٹس وغیرہ کی تفصیل دی گئی ہے۔
میں دعا کرتا ہوں کہ دنیا کے لیے سب سے بڑی بھلائی پیدا کرنے کے لیے یہ تمام خواب پورے ہوں۔روس یوکرین جنگ: آج روس یوکرائن جنگ نے عالمی امن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
نام نہاد سپر پاورز اس تباہ کن جنگ کا کوئی حل تلاش نہ کر سکی ہیں۔ جی 20 ممالک کی قیادت سنبھال کر، ہندوستان اس جنگ کو ختم کرے گا اور عالمی سطح پر ایک امن ساز کے طور پر ہندوستان اپنے آپ کو پیش کرے گا۔
جی 20 سربراہی کانفرنس کا ایجنڈا وزیر اعظم نے جاری کر دیا ہے۔ یہ زمین، پانی، آگ، ہوا اور آسمان کے پانچ فلسفے کے بارے میں بات کرتا ہے۔ لیکن دراوڑین روایت کے سدھوں، باباؤں اور سنتوں کے مطابق یہ زمین، پانی، آگ، ہوا اور روشنی ہے۔
میں آپ سے عاجزانہدرخواست کرتا ہوں کہ مستقبل میں اس کو درست کریں۔ہماری خواہش اور امید ہے کہ ہمارا مادر وطن نہ صرف ایک اچھا ملک سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمار ا”ہی نہیں بلکہ دنیا کی رہنمائی کے لیے ایک روحانی مینار بھی ثابت ہو۔
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتییں ہمارے پیارے وطن اور سب پر ہوں۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہاکہ ”ہندوستان نے G20 کی قیادت سنبھال لی ہے۔ یہ پورے ملک کے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ اس میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے، ہر ایک کو اپنا تعاون دینا چاہیے۔
اس کانفرنس میں ایم کے اسٹالن (تامل ناڈو)، جگن موہن ریڈی (آندھراپردیش)، ممتا بنرجی (مغربی بنگال)، نتیش کمار (بہار)، اروند کیجریوال (دہلی)، نوین پٹنائک (اڈیشہ)، ایکناتھ شندے (مہاراشٹرا) بھی شامل تھے۔
پریم سنگھ تمانگ (سکم) نے بھی میٹنگ میں شرکت کی اور حکومت کو اپنی تجاویز دیں۔اس کے علاوہ انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر پروفیسر کے ایم قادر محی الدین، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا،کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے،
سابق وزیر اعظم اور سیکولر جنتا دل کے صدر دیوے گوڑا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی۔راجہ، تیلگو دیشم پارٹی کے صدر چندرابابو نائیڈواوراپنا دل کی انوپریا پٹیل نے بھی شرکت کی۔