لدھیانہ میں آدھی رات کو 7 کروڑ کی لوٹ
اے ٹی ایم کیش کمپنی کے دفتر میں 10 ڈاکو داخل، عملے کو یرغمال بنالیا؛ وین بھی لے گئے
لدھیانہ :۔10؍جون
(زین نیوز ڈیسک)
پنجاب کے شہر لدھیانہ میں 7 کروڑ سے زائد کی لوٹ مار رات 2 بجے 10 بدمعاش ہتھیاروں کے ساتھ راج گرو نگر میں اے ٹی ایم میں کیش جمع کرنے والی سی ایم ایس سیکوریٹی کمپنی کے دفتر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے یہاں تعینات 5 سیکوریٹی گارڈز کو یرغمال بنا لیا۔
اس کے بعد والٹ کے باہر رکھی 4 کروڑ کی نقدی اور دفتر کے باہر کھڑی کار اٹھالے گئے۔ اس گاڑی میں 3 کروڑ سے زیادہ کی نقدی تھی۔ اس کے ساتھ سی سی ٹی وی کا ڈی وی آر بھی چھین لیا گیا۔
بدمعاشوں کے جانے کے بعد ملازمین نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کی اطلاع پر بدمعاش گاڑی کو مولان پور کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ یہ گاڑی پولیس نے برآمد کر لی ہے۔ گاڑی سے 2 پستول ملے ہیں جبکہ نقدی غائب ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ڈاکو تقریباً ڈھائی گھنٹے تک لوٹ مار کرتے رہے۔ انہوں نے سیکوریٹی گارڈز کے موبائل بھی توڑ ڈالے۔ پولیس ان تمام 5 سیکوریٹی گارڈز سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
معلومات کے مطابق 2 شرپسند پچھلے گیٹ سے دفتر میں داخل ہوئے تھے جبکہ 8 شرپسند سامنے والے گیٹ سے داخل ہوئے تھے۔ ان کے پاس پستول کے ساتھ تیز دھار ہتھیار بھی تھے۔ ان میں ایک خاتون ہونے کا بھی شبہ ہے۔ سیکوریٹی گارڈ کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے درمیان ایک خاتون کی آواز آئی۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ڈاکو کمپنی آفس سے پوری طرح واقف تھے۔ اس لیے وہ یہاں آئے اور سی سی ٹی وی کیمروں کو بند کر دیا۔ اس کے علاوہ سینسرز کی تاریں بھی کاٹ دی گئیں، تاکہ اندر داخل ہونے پر کوئی الارم وغیرہ نہ بجے۔ اس لیے کسی کو اس کا علم نہیں ہوا۔
ساتھ ہی پولیس کو شبہ ہے کہ اس معاملے میں اندر کا کوئی ملازم بھی مل سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ڈاکوؤں کو اتنی نقدی رکھنے اور اندر گھسنے اور دیگر بہت سی چیزوں کا علم نہ ہوتا۔
لوٹ کی معلومات دینے میں تاخیر پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں،اس معاملے میں پولیس نے کیش کمپنی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی رات 2 بجے ہوئی تھی تو صبح 7 بجے اطلاع کیوں دی گئی؟ تاہم اس معاملے پر کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
کیس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی نے ہی اس علاقے کو کیش رکھنے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا تھا۔ اس کی رپورٹ تقریباً 2 سال قبل تیار کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھی کمپنی یہاں اپنا دفتر چلاتی رہی۔ سوال یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ 7 کروڑ سے زیادہ کیش کے لیے صرف 5 سیکیورٹی گارڈ کیوں تعینات کیے گئے؟
پولیس نے لدھیانہ کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا ہے۔ یہاں ہر گاڑی کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ شہر میں ناکہ بندی بھی کر دی گئی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کو چیک کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ کال کی تفصیلات کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
