سونیا کی قریبی دوست امبیکا سونی کو ٹاسک
نئی دہلی :۔30؍دسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد، جنہوں نے چار ماہ قبل کانگریس کو خیرباد کہہ دیا تھا، کے دوبارہ پارٹی میں شامل ہونے کے چرچے شروع ہو گئے ہیں۔
اگرچہ انہوں نے اکتوبر میں اپنی نئی سیاسی تنظیم ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن راہل کی بھارت جوڑو یاترا کشمیر پہنچنے سے پہلے ہی پارٹی نے اپنے پرانے دوست کو گھر واپس لانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
پارٹی کی سینئر لیڈر امبیکا سونی خود غلام نبی آزاد کی واپسی کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امبیکا سونی نے غلام نبی آزاد آزاد سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے غلام نبی آزادآزاد سے راہل گاندھی سے بات کرنے کو بھی کہا ہے۔ بتا دیں کہ امبیکا سونی کو سونیا گاندھی کی بہت قریبی لیڈر مانی جاتی ہیں۔
راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 20 جنوری کو جموں و کشمیر کے لکھن پور میں داخل ہوگی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر چاہتے ہیں کہ وہ اس سے پہلے آزاد کو قبول کر لیں اور پارٹی میں واپس آجائیں۔
آزاد نے اس سال 26 اگست کو کانگریس پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ گزشتہ 52 سالوں سے کانگریس سے وابستہ تھے۔
ان کی راجیہ سبھا کی میعاد اس سال ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد پارٹی نے انہیں دوبارہ راجیہ سبھا نہیں بھیجا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بھی ان کی ناراضگی کی ایک وجہ تھی۔
اس کے علاوہ انہوں نے جی 23 تشکیل دیا، جس میں کانگریس کے منحرف رہنما تھے۔ یہ لوگ پارٹی میں مضبوط قیادت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ وہ تمام تبدیلیوں کے لیے تجاویز بھی دے رہے تھے۔ آزاد نے اپنے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔
آزاد نے اپنے استعفیٰ میں یہ لکھا تھا سونیا گاندھی کو اپنے استعفیٰ خط میں آزاد نے پارٹی قیادت بالخصوص راہول گاندھی کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ جس طرح سے پارٹی کو پچھلے نو سالوں سے چلایا جا رہا ہے، اس کی وجہ سے پارٹی آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔
آزاد نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک حلقہ پارٹی چلاتا ہے، جب کہ سونیا گاندھی صرف برائے نام سربراہ ہیں۔ تمام بڑے فیصلے راہول گاندھی یا ان کے سیکورٹی گارڈز اور پی اے کے ذریعہ لئے گئے تھے۔
اب ہم جانتے ہیں کہ آزاد کی کانگریس میں واپسی کی بات کیوں ہو رہی ہے۔گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران غلام نبی آزاد نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ صرف کانگریس ہی کر سکتی ہے۔
آزاد نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کانگریس کی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن انہیں اس کے کمزور نظام سے مسئلہ ہے۔آزاد کے بیان کے بعد بھارت جوڑو یاترا کے کنوینر ڈگ وجے سنگھ نے آزاد کو یاترا کا حصہ بننے کی کھلے عام دعوت دی۔
اس کے بعد G23 کے سابق لیڈروں- اکھلیش پرساد سنگھ اور بھوپندر سنگھ نے آزاد سے رابطہ کیا اور ان کے علاوہ کانگریس میں ان کی واپسی کی وکالت کی۔
گاندھی خاندان کی ناراضگی، لیکن پارٹی آزاد کی واپسی چاہتی ہےاگر کانگریس سے جڑے ذرائع کی مانیں تو آزاد نے اپنے استعفے میں راہول گاندھی پر شدید حملے کیے تھے۔ انہوں نے راہل کو نادان بھی کہا۔
راہل پر حملوں کو لے کر گاندھی خاندان آزاد سے کافی ناراض ہے، لیکن ناراضگی کے باوجود پارٹی لیڈر آزاد کو وطن واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
آزاد نے راہل سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔کانگریس لیڈر امبیکا سونی نے آزاد سے کہا کہ وہ بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوں اور راہل گاندھی سے بات کریں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آزاد کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے یا نہیں۔