9؍جنوری تک انتظار کرنا ہوگا‘بی آر ایس نے اب تک دوسری پارٹیوں کے جملہ 37 ایم ایل ایز کو خریداہے‘ ہائی کورٹ میں کیس کانیا موڑ
حیدرآباد:۔7؍جنوری
(زین یوزبیورو)
ہائی کورٹ نے فارم ہاؤس کیس میں سنگل جج کے فیصلہ کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی کی جانب سے ایڈوکیٹ دامودر ریڈی نے دلائل پیش کئے۔
بنچ کوبتایاکیا گیا کہ بی جے پی نے کسی بھی ریاستی حکومت کو نہیں گرایا ہے اور نہ ہی کسی پارٹی سے ایم ایل اے خریدے ہیں۔
دمودر ریڈی نے عدالت کی توجہ دلائی کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے عوامی طورپر اعلان کیا ہے کہ دوسری جماعتوں کے ایم ایل اے بی آر ایس میں شامل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ2014 سے2018تک37 ایم ایل ایز بی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں۔
دامودر ریڈی کے دلائل پرجج نے سوال کیا کہ فارم ہاؤس کیس میں دراصل بی جے پی اور بی آر ایس کا ذکر کیوں کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی کی عرضی کو سنگل جج نے خارج کر دیا، پھر آپ بی جے پی کی طرف سے دلائل کیوں دے رہے ہیں۔
دامودر ریڈی نے کہا کہ انہیں ایس آئی ٹی کے وکیل دشینت دیو کے دلائل کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا جس سے ان کی پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے سیاست کا ذکر صرف ایس آئی ٹی کے دلائل کا جواب دینے کیلئے کیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کر دی۔ ایم ایل اے خریداری کیس میں ایک اور نیا پہلو سامنے آیا ہے۔
2014سے 2018تک ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے دیگر جماعتوں کے ایم ایل ایز کی فہرست ملزمین کی جانب سے وکیل عدالت میں پیش کریں گے۔ ملزم کے وکیل نے الزام لگایا کہ بی آر ایس پارٹی نے اس ایام میں دوسری جماعتوں کے جملہ37 ایم ایل ایز کو اپنی پارٹی میں شامل کیا مگر الٹا وہ دوسری جماعتوں پر ان کے ایم ایل ایز کی خریداری کے لالچ کا الزام لگایا جارہا ہے۔
ٹی آر ایس ایم ایل ایز کی خریداری کے معاملے میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ سی بی آئی نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس نے اس معاملے میں تفصیلات فراہم کرنے کے لیے حکومت کو لکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفصیلات بتائی جائیں توکیس کی تحقیقات وہ کریں گے۔ سی بی آئی نے حکومت سے کیس کی تفصیلات دینے کو کہا ہے۔
لیکن ہائی کورٹ نے مشورہ دیا کہ کیس زیر تفتیش ہے اور سی بی آئی کو انتظار کرنا چاہیے۔ بنچ، جو پیر9؍جنوری کو سی بی آئی کے دلائل کی سماعت کرے گی ۔ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کی طرف سے سی بی آئی ڈائریکٹر کو کیس کی جانچ کرنے کی ہدایت کے بعد سی بی آئی ڈائریکٹر نے تحقیقات کی ذمہ داریاں سی بی آئی دہلی ڈویژن کو سونپ دی تھیں۔
اس کے ساتھ سی بی آئی دہلی کی ٹیم حیدرآباد پہنچی۔ سی بی آئی نے ایس آئی ٹی سے کیس کے دستاویزات دینے کے لئے چیف سکریٹری حکومت تلنگانہ کو خط لکھا۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی سے کہا کہ وہ پیر تک کیس کی فائلوں پر دبا نہ ڈالے۔ حکومت کی اپیل پرعدالت کا موقف واضح ہونے کے بعد سی بی آئی پیر کو ایف آئی آر درج کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
اس معاملے میں ہائی کورٹ کے حکم کی کاپی حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ ہائی کورٹ نے 26 مقدمات کے فیصلوں کے حوالے سے اپنا فیصلہ صادر کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کیس سی بی آئی کو سونپنے کے لیے 45 نکات کا ذکر کیا۔ ہائی کورٹ نے حکم میں تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی پریس کانفرنس کو بھی شامل کیا۔
ہائی کورٹ کی بنچ نے ایس آئی ٹی کے وجود پر سوال اٹھایا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی نے اپنے دائرہ کار سے باہر کام کیا جس نے اس بات پر برہمی ظاہر کی کہ جو دستاویزات عدالت کو دی جانی تھیں اس کو عام کردیا گیا۔
ہائی کورٹ نے تبصرہ کیا کہ ایس آئی ٹی کے سی آر کو یہ بتانے میں ناکام رہی کہ ثبوت کس نے دیا۔ ہائی کورٹ نے تحقیقات کی اطلاع کے سی آر کو بھیجے جانے پر اعتراض کیا ہے۔
اس پرعدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایس آئی ٹی کی جانچ صحیح طریقے سے نہیں ہوئی تھی۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے ایس آئی ٹی کی تحقیقات کو منسوخ کر دیا اور ایف آئی آر 455/2022 سی بی آئی کو منتقل کر دی۔
دوسری طرف، ہائی کورٹ نے اس معاملے میں بی ایل سنتوش، تشار، جگوسوامی اور سرینواس کو ملزم کے طور پر شامل کرنے کیلئے ایس آئی ٹی کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست کو خارج کر دیا۔ قبل ازیں اے سی بی کورٹ نے ایس آئی ٹی میمو کو مسترد کر دیا تھا۔ اے سی بی نے عدالتی فیصلے کو ایس آئی ٹی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
ایسا لگتا ہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایس آئی ٹی کی نظرثانی کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے اس معاملے میں کے سی آر حکومت کو جھٹکا دیا ہے۔ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی پائلٹ ریڈی(تانڈور)‘ جیبالاراجو(اچم پیٹ)‘ بیرم ہرش وردھن ریڈی(کہلاپور) اورریگاکانتاراؤ
(پنپاکا)نے حال ہی میں الزام لگایا ہے کہ ان سے دہلی کے چند افراد نے معین آباد منڈل عزیز نگر کے ایک فارم ہاؤس پر رابطہ پارٹی سے منحرف ہونے کی صورت میں ہر ایک کو 100 کروڑ روپیئے دینے کی پیش کش کی تھی اور انہیں ٹھیکے دینے کا بھیوعدہ کیا۔
اس معاملے میں رام چندر بھارتی عرف ستیش شرما، تروپتی کے سمہا یاجولو اور حیدرآباد کے نند کمار کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔کمشنر پولیس حیدرآبادمسٹر سی وی آنند کی زیر قیادت کیس کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی کیتشکیل عمل میں لائی گئی تھی۔ جس میں چھ سینئر پولیس عہدیدار شامل تھے۔
نلگنڈہ کے ایس پی راجیشوری، سائبرآباد کرائمز کے ڈی سی پی کلمیشور، نارائن پیٹ کے ایس پی وینکٹیشورلو، راجندر نگر اے سی پی گنگادھر، شمس آباد کے ڈی سی پی جگدیشور ریڈی اور معین آباد سی آئی لکشمی ریڈی کو ایس آئی ٹی کے ممبرس نامزد کیا گیاتھا۔
