Mushatq malik

تلنگانہ میں کانگریس کو تحریک مسلم شبان کی مکمل تائید

تازہ خبر تلنگانہ
تلنگانہ میں کانگریس کو تحریک مسلم شبان کی مکمل تائید
اقلیتوں کے مفادات اور دستور کے تحفظ کے تیقن پر فیصلہ۔مشتاق ملک
حیدرآباد :۔ 14 نومبر 
(زین نیوز)
تحریک مسلم شبان نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کیوں کہ نئی کانگریس آرایس ایس اور بی جے پی سے مقابلہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اور دستور کے تحفظ کی ضامن ہے۔ یہ اعلان صدر تحریک مسلم شبان جناب محمد مشتاق ملک نے کیا۔
 14 نومبر کو میڈیا پلس آڈیٹوریم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب مشتاق ) ملک نے بتایا کہ تحریک مسلم شبان نے اپنے تیرہ نکاتی منشور مطالبات تمام سیاسی جماعتوں کے ذمہ داروں کو پیش کئے تھے۔ کانگریس کے اعلیٰ سطحی قائدین مسٹر مالک راؤ ٹھا کرے انچارج تلنگانہ،
منصور علی خاں جنرل سکریٹری اے آئی سی سی ، مسٹر داس منشی ممبر کانگریس ورکنگ کمیٹی و سابق وزیر کے علاوہ ریاست کے اہم ترین قائدین نے تحریک مسلم شبان کے ہیڈ کوارٹر پر تحریک کی قیادت سے کئی راؤنڈس کی بات چیت اور تبادلہ خیال کے بعد 13 نکاتی منشور مطالبات کو تسلیم کیا ہے
 جس کے بعد ہی تحریک مسلم شبان نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا۔ تا ہم بودھن، بہادر پورہ، یا قوت پورہ، چند رائن گلہ ، گوشہ محل اور چار مینار میں ابھی تائید کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ گوشہ محل سے شاتم رسول کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔
 جناب مشتاق ملک نے ریاست کے عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں اپنا ووٹ کا استعمال کریں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحرک مسلم شبان نے الیکشن کے اعلان سے دو مہینے پہلے پریس کانفرنس کے ذریعہ تمام سیاسی جماعتوں سے 13 نکاتی منشور مطالبات کئے تھے۔
 جس میں فیس ری ایمبر سمنٹ اسکیم کی بحالی، اوور سیز اسکالرشپ پر عمل آوری ، مسلمانوں کی معاشی ترقی کے لئے مائناریٹی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ پانچ سو کروڑ بجٹ الاٹمنٹ، اوقافی جائیدادوں کا تحفظ، وقف کمشنریٹ کا قیام اور اسے آئینی اختیارات، مسلم ویمن اکنا میکل امپاورمنٹ بورڈ کا قیام، پرانے شہر حیدرآباد کی سلم بستیوں کی ترقی جہاں کوئی سرکاری دفتر نہیں ہے
قلی قطب شاہ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعہ ٹھوس ترقیاتی پروگرام، مسلمانوں کے لئے سب پلان ، تعلیم اور روزگار میں مسلم 8 فیصد تحفظات، مساجد اور قبرستانوں کا تحفظ، ائمہ اور موذنین کے اعزازیہ کی ہر ماہ اجرائی، دوسرے طبقات کی طرح ڈبل بیڈ روم
الائمنٹ میں امتیازات کا خاتمہ اور دس فیصد پٹہ جات کی غریب مسلمانوں میں تقسیم کا مطالبہ، ہر ایک سرکاری ادارے میں %4 تحفظات پر عمل آوری کا جائزہ لینے تین رکنی کمیٹی کا قیام، پولیس عدلیہ یو نیورسٹیز ریوینیو اور ہیلتھ سیکٹرس میں مسلمانوں کے تقررات پر خصوصی توجہ، اردو زبان کی ترویج و اشاعت ، اردو اکیڈیمی کو فعال بنانے کے اقدامات، اردو ٹیچرس اور لکچررس کے تقررات، اردو کو
روزگار سے جوڑا جائے، سیاست میں مسلمانوں کے اختیارات کے علاوہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی قدیم عمارت کا تحفظ اور اس کی تعمیر و مرمت، نظامیہ طبی کالج کی عمارت کی بھی تعمیر نو اور اس قومی ورثے کے موقف کے حامل عمارت کے تحفظ کے لئے فنڈس کی اجرائی، مسلم بندھو اسکیم، شیعہ طبقہ کے لئے علیحدہ قبرستان اور مسافر خانہ کا قیام نکاتی منشور میں شامل ہیں۔ تحریک مسلم شبان نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد یہ مناس سمجھا کہ فرقہ پرستوں کے مقابلہ میں کانگریس کی تائید کی