محدث دکن،تلمیذ شیخ الاسلام،استاذالاساتذہ،حضرت مولانامحمدانصارصاحب کی خدمت میں کچھ دیر
✍️ سرفرازاحمدقاسمی،حیدرآباد
(مضمون نگار)
کل گذشتہ یعنی 2 فروری 2025 بروزاتوارشہرحیدرآبادکی معروف اورمرکزی،دینی درسگاہ دارالعلوم حیدرآباد میں سالانہ جلسہ اور ختم بخاری کے پروگرام میں شرکت کی غرض سے ہوا،وہاں کی انتظامیہ ہرسال ختم بخاری کےلئے ملک کے کسی نامور عالم کا انتخاب کرتی ہے،
سال رواں،شہرگلستاں بنگلور سے مختلف کتابوں کےمصنف اور ممتازعالم دین حضرت مولانا مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی کو مدعوکیاگیاتھا،یہ پروگرام شہر کے ان بڑے پروگراموں میں سے ایک ہے جہاں عوام وخواص کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی ہے،
پروگرام سے فراغت کے بعد میں بغرض ملاقات حضرت کے کوارٹرکی جانب چل پڑا،جومدرسے کی چہاردیواری اورجنوبی حصے میں مطبخ سےپچھم واقع ہے،دروازے پر پہونچا،سلام کیا اوردروازے پر کھٹکا مارا تو اندر آنے کی اجازت مل گئی،حضرت مولانا کچھ اورلوگوں کے ساتھ دسترخوان پر کھاناتناول فرمارہے تھے،
مجھے دیکھتے ہی فرمایا آئیے کھانے کھائیے،میں نے بارک اللہ کہا،بیٹھنے کا حکم ہوا اور بیڈ کے ایک کنارے پرمیں بیٹھ گیا،اس موقع پررشتے دار اور عزیز واقارب کی ایک بڑی تعداد حضرت سے ملاقات کےلئے آجاتی ہے چنانچہ آج بھی ہمیشہ کی طرح گھربھراہواتھا،کچھ دوسرے مہمان اور شاگرد حضرات بھی ملاقات کےلئے آرہےتھے۔
اساتذہ کےلیے جوفیملی کوارٹرہے اس میں پہلے نمبرپر حضرت مولانا ہی کا کوارٹر ہے،جس میں تقریبا چالیس سال سے حضرت قیام پذیر ہیں،عمرنوے سال کے قریب ہے،1938/39 میں چمپانگر،بھاگلپورکے ایک محلے میں آپ کا وجودہوا اور اس جہان رنگ بو میں آپ نے آنکھیں کھولیں،اصلاح المسلمین،دارالیتامی چمپانگر سے ابتدائی تعلیم کا آغاز ہوا،مدرسہ امدادیہ دربھنگہ،دارالعلوم مئو اور پھر ازہرہند دارالعلوم دیوبند میں تعلیم مکمل ہوئی،
جہاں آپ نے بڑے بڑے اساتذہ سےاکتساب فیض کیا اور 1956 میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمدمدنی رح سے بخاری شریف پڑھی،اسکے بعد مزیددوسال فنون کی تعلیم دارالعلوم دیوبندمیں ہی اپنے اساتذہ حاصل کی،1958 میں یعنی فنون کے سال میں ہی آپ کے مشفق ومربی استاذ حضرت علامہ بلیاوی نے تدریس کےلئے آسام کے ایک مدرسے میں نائب صدرمدرس کے عہدے پر بھیج دیا،
یہاں سے آپ نے باضابطہ تدریس کا آغازفرمایا،جوالحمدللہ اب تک جاری ہے67/68 سالہ طویل تدریسی زندگی میں بہت سے نشیب وفراز دیکھے،مدرسہ عالیہ،دارالعلوم بانسکنڈی آسام،جامعہ مدینتہ العلوم رسولی بارہ بنکی،مدرسہ اصلاح المسلمین چمپانگر،مدرسہ امدادالعلوم زیدپور بارہ بنکی میں ہدایہ آخرین،ملاحسن،میبذی،متنبی،سبعہ معلقہ،ابن ماجہ،طحاوی،ترمذی اور بخاری شریف جیسی اہم کتابوں کادرس دیا،
1985 سے اب تک دارالعلوم حیدرآباد میں خدمت انجام دے رہے ہیں اورشیخ الحدیث کے منصب پرفائز ہیں،یہاں آپ نے ہدایہ رابع،ابوداؤد شریف،مسلم شریف،بخاری شریف جلدثانی وغیرہ کتابیں پڑھائیں،اسوقت بخاری شریف جلداول اورابوداؤد شریف آپ کے زیردرس ہے،عمرکے تقاضے اورمختلف اعذار کی وجہ سے نقاہت اورکمزوری لاحق ہے،
اللہ تعالی صحت وعافیت کے ساتھ تادیر قائم رکھے،انکے کمرے میں جب میں داخل ہواتو اسوقت شام کے 3بج رہے تھے،میری طالب علمانہ گفتگو شروع ہوئی اورعلمی،سیاسی،تاریخی،علاقائی اورسماجی مختلف موضوعات پرگفتگو ہوتی رہی،ایک دوگھنٹے کےبعد آنے والے حضرت کے تمام رشتے دار اور عزیز سب چلے گئے
،میں تنہا حضرت کے یہاں رہ گیا،درمیان میں نمازکا وقفہ ہوا،عصراورمغرب کی نماز وہیں اداکی گئی،بلکہ مغرب کی امامت مجھے ہی کرنی پڑی،چائے اورشام کا کھانا بھی ہم نے حضرت کے ساتھ ہی کھایا،ہماری گفتگو جاری تھی کہ گھڑی پر اچانک نظر پڑی تو رات کے ساڑھے دس بج چکے تھے،
میں نے اجازت چاہی اورمصافحہ کرکے رخصت ہوگیا،عشاء کی نماز باقی تھی راستے میں ایک مسجدمیں اداکرکے واپس ہوگیا،گذشتہ سال ہی حضرت کی اہلیہ کا انتقال ہوا جسکی وجہ سے صحت مزید ڈاؤن ہوتی جارہی ہے،اللہ تعالی صحت عطافرمائے،آٹھ گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد رخصت ہوا لیکن تشنگی باقی رہی۔
سال میں دوتین ملاقات تو ہوہی جاتی ہے،گذشتہ 26 جنوری 2025 کوبھی ایک مہمان کے ساتھ مختصرملاقات کےلئےحاضری ہوئی تھی، کشف الملہم شرح مقدمہ مسلم حضرت کے افادات کا مجموعہ ہے،جسے گذشتہ سال مفتی عماراحمدقاسمی صاحب نے ترتیب وتخریج کے بعد شائع فرمایاہے،
کاش بخاری اور دیگر کتابوں کے افادات بھی منظرعام پرآجاتے۔ملک بھرمیں حضرت شیخ الاسلام کے دوچار شاگرد ہی اسوقت باحیات ہیں،بھاگلپور میں دوہیں ایک تو حضرت ہی ہیں اور دوسرے حضرت مولانا امداللہ صاحب قاسمی پتھنہ،جنھوں نے1957 میں حضرت مدنی سے بخاری شریف پڑھی ہیں،اور بانکا کے دور دراز علاقے میں ایک مدرسے کے ذمے دارہیں، اللہ تعالی دونوں بزرگوں کی عمر دراز فرمائے