israel- Tanks

 حماس کا حملہ ہماری ناکامی۔ اسرائیلی  وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہوکا اعتراف

تازہ خبر عالمی
 حماس کا حملہ ہماری ناکامی۔ اسرائیلی  وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہوکا اعتراف
حماس آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔رجب طیب اردوغان
غزہ پر حملے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ایران 
تل ابیب:۔26؍اکتوبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کا آج 20 واں دن ہے۔ دریں اثنا، پہلی بار اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو روکنے میں ناکام رہا۔
 نیتن یاہو نے کہا کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کو نہ روکنے پر مستقبل میں میرے ساتھ سب کو جواب دینا پڑے گا۔اسی دوران اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ بدھ کی رات ٹینکوں کے ساتھ شمالی غزہ میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے حماس کے متعدد ٹھکانوں اور راکٹ لانچنگ پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔
 دوسری جانب یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکا کے مشورے کو قبول کرتے ہوئے زمینی حملے کو کچھ وقت کے لیے ملتوی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے غزہ پر اسرائیل کے حملے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حماس پر جو حملے کر رہا ہے اس کے پیچھے امریکہ ہے۔
غزہ میں ہونے والے جرائم کی ہدایت امریکہ کر رہا ہے۔ امریکہ کے ہاتھ بچوں، خواتین اور بہت سے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ امریکہ مجرموں کا اتحادی ہے۔
اسی دوران امریکی صدر بائیڈن نے بدھ کی رات پی ایم نیتن یاہو سے فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان سب سے پہلے یرغمالیوں کو بازیاب کرانے پر اتفاق ہوا۔
 دونوں نے غزہ سے غیر ملکی شہریوں کے محفوظ انخلاء پر بھی بات چیت کی۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے نیتن یاہو سے جنگ کے درمیان دیرپا امن کا راستہ تلاش کرنے کو کہا۔
نتن یاہو نے جنگ کے درمیان بدھ کو ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہمارے وجود کی لڑائی ہے اور اسے جیتنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ حماس کے خاتمے اور یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے لیے جلد ہی غزہ میں زمینی کارروائی کی جائے گی۔ 7 اکتوبر ہماری تاریخ کا سیاہ دن تھا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ہم جنوبی سرحد اور غزہ کے قریب علاقے میں جو کچھ ہوا اس کی تہہ تک جائیں گے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اس جنگ کو جیتنے میں ملک کی مدد کروں۔ ہم سب کو مل کر ایک مقصد کے لیے کام کرنا ہے۔
‘نیویارک ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں 1600 افراد لاپتہ ہیں۔ ان میں 900 بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی بمباری میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے کچھ افراد اور بچوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ 149 خاندان ایسے ہیں جن میں ان کے خاندان کے 10 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے بدھ کو کہا کہ اس وقت غزہ کے 35 میں سے 12 ہسپتال سہولیات اور خاص طور پر ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہیں۔ ساتھ ہی 7 بڑے ہسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ مریض داخل ہیں جس کی وجہ سے وہاں لوڈ بڑھتا جا رہا ہے۔
 دریں اثناء یورپی یونین کے رہنما جمعرات کو برسلز میں ملاقات کریں گے۔ اس دوران وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے کچھ عرصے کے لیے جنگ روکنے کے امکان پر بات کریں گے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کل 150 پناہ گزین کیمپ چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں 6 لاکھ سے زیادہ مہاجرین ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شاید ہی کوئی امدادی سامان غزہ پہنچ رہا ہو۔
 جن گاڑیوں کو تقسیم کرنا ہے ان میں ایندھن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا – اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہونے والے ہیں۔
حماس کے زیر قبضہ غزہ کی وزارت صحت کے بیان کے مطابق غزہ میں اب تک 6,546 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
ان میں سے 2,704 بچے اور 1,584 خواتین ہیں۔ منگل اور بدھ کے درمیان 756 افراد ہلاک ہوئے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں 7 ہزار افراد شدید زخمی ہیں۔ اگر ہمیں بروقت دنیا سے مدد نہ ملی تو ان لوگوں کی جان بچانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ دنیا اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔
رجب طیب اردوغان نے کہاکہ حماس آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔نیٹوممالک کے اہم رکن ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل پر حملہ کرنے والی فلسطینی تنظیم حماس کا دفاع کیا ہے۔
رجب طیب اردوغان نے بدھ کو پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے اسرائیل پر مظالم کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے اپنا اسرائیل کا دورہ بھی منسوخ کر دیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اردگان نے کہاکہ میں اسرائیل نہیں جاؤں گا۔ حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ہے۔ اس کے ارکان مجاہدین ہیں جنہوں نے جدوجہد آزادی میں حصہ لیا۔
وہ اپنی زمین اور شہریوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم شہریوں پر حملوں کے خلاف ہیں، چاہے وہ اسرائیلی ہی کیوں نہ ہوں۔