کیا گورنر کو سکریٹریٹ کے مدعوکرنا آئین کاحصہ ہے؟
وزیر ہریش راؤ کا سوال، گورنر پر تلنگانہ کی عزت نفس کو نقصان پہنچانے کا الزام
حیدرآباد 4/مئی
(زین یوزبیورو)
وزیر صحت ہریش راؤ نے واضح کیا ہے کہ وہ گورنر کی حیثیت سے وہ تمیلی سائی سوندراراجن کا احترام کریں گے مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی کریں گے کہکیا گورنر کوسکریٹریٹ کی افتتاحی تقریب میں مدعو کرنا آئین کا حصہ ہے۔وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وزیر اعظم نے وندے بھارت ٹرین کے آغاز کیلئے صدر کو فون کیا تھا..؟ گورنر کا رویہ ریاست کے مفادات کیلئے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا میڈیکل ایجوکیشن کے پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے بل کو روکنا ضروری تھا؟ ہریش را ؤنے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا گیا اس وقت تک گورنر نے حرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تجربہ کار پروفیسرس نہیں ہیں اسلئے وظیفہ کی عمر میں اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کیا دیگر ریاستیں یونیورسٹیوں میں مشترکہ بھرتی نہیں کر رہی ہیں؟ وزیر نے سوال کیا کہ اس بل کو7ماہ تک روک کر واپس بھیجنا کتنی ناانصافی ہے۔ کیا یہ حرکت بے روزگاروں کو نوکریوں سے روکنا نہیں؟ ہریش را ؤنے کہا کہ ریاست کے طلبہ سے معیاری تعلیم چھین لی جارہی ہے۔
گورنر میری پیٹھ میں چھرا گھونپ رہا ہے کہ یہ میری حکومت ہے۔وزیر ہریش را ؤنے کہا کہ گورنر یہ کہہ کر اپنی حکومت کی پشت پناہی کر رہے ہیں کہ یہ میری حکومت ہے۔ گورنر بچوں کی تعلیم اور بے روزگار نوجوانوں سے نوکریاں چھین رہی ہیں۔ بہار، جھارکھنڈ اور اڈیشہ ریاستیں کئی سالوں سے یونیورسٹی میں مشترکہ بھرتیاں کررہی ہیں۔
یہاں انہوں نے سوال کیا کہ گورنر کو اس پر اعتراض کیوں ہے۔ گورنر اپنے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ طنز کر رہی ہیں۔ گورنر جنہوں نے پہلے5خانگی یونیورسٹیزکے بل کی منظوری دی تھی اب اسے کو روک رہی ہیں۔ مہاراشٹر اور کرناٹک جیسی کئی ریاستوں میں بڑی تعداد میں خانگی یونیورسٹیزہیں۔
کیا وہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں نہیں ہیں؟ سدی پیٹ میں ویٹرنری کالج کو منظوری دی گئی۔ اس میں پروفیسرس کی کمی ہے۔ ہریش را ؤنے سوال کیا کہ کیا گورنر بل کو روک کر ریاست کی ترقی میں حائل نہیں ہورہی ہیں؟ہریش را ؤنے کہا کہ گورنر نے جی20سے متعلق میٹنگوں میں تلنگانہ کی عزت نفس کو نقصان پہنچانے کی بات کی۔
کے سی آر کے بارے میں ان کے الفاظ تلنگانہ کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کے سی آر ایک عام آدمی ہے۔کیا کوئی ایسا لیڈر ہے جو اتنی بار استعفی دے کر کامیابی حاصل کیا ہو۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا گورنر جیتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنی بار الیکشن لڑے۔ جیسا کہ کہاوت ہے کہ ہمارا گھر تمہارے گھر سے اتنا ہی دور ہے جتنا تمہارا گھر ہمارے گھر سے ہے۔
ہریش را ؤنے تجویز پیش کی کہ گورنر کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے۔ یہ نہ بھولیں کہ کے سی آر عوام کے آدمی ہیں۔رجنی کانت تمل ناڈو کے ایک شخص ہیں، انہوں نے ریاست کی ترقی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پنچایت اور بلدیاتی اداروں میں عدم اعتماد کی چار سال کی کم از کم حد بڑھا دی جائے تو گورنر کو کیا پریشانی ہے۔
ہم نے یہ فیصلہ ترقی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا ہے۔ کیا گورنر ایسی بل کو بھی روک سکتی ہیں؟ لوگ قیاس کرہے ہیں کہ گورنر بی جے پی کے اشارہ پر کام کر رہی ہیں۔ ہریش راؤ نے مشورہ دیا کہ اگر گورنر کو سیاست پسند ہے تو وہ دوبارہ بی جے پی میں شامل ہوکر مقابلہ کر نے کیلئے آزاد ہیں۔انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ البتہ ایک دستوری عہدہ رہکر سیاست کرنا کسی بھی لحاظ سے قابل سبول نہیں ہے۔
