ہم حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کو بھی نظرانداز کررہے ہیں 

بین الریاستی تازہ خبر قومی
مدرسہ تعلیم القرآن پرانا اصغریہ میں منعقدہ اصلاح پروگرام سے سید عقیل میاں حسین کا اظہار خیال 
دیوبند:۔4؍ نومبر
(رضوان سلمانی)
مدرسہ تعلیم القرآن پرانا اصغریہ دارالمسافرین میں اصلاح معاشرہ کے عنوان سے ایک مجلس کا انعقاد کیا گیا جس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس موقع پر ادارہ کے مہتمم سید عقیل میاں حسین نے اصلاح معاشرہ اور حقوق العباد کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے معاشرہ میں بہت سی برائیاں پیدا ہوگئی ہیں ، ان سب کی اصلاح کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
 انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا ، انسان کو پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ۔ انہوں نے حقوق العباد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دین اسلام نے دو قسم کے حقوق بیان کیئے ہیں۔ ایک ’’حقوق اللہ‘‘ جس کا تعلق براہِ راست اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہے جن میں توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج شامل ہیں جبکہ دوسرا ’’حقوق العباد‘‘ ہے جس کا تعلق براہِ راست خلق خدا سے ہے۔
 حقوق العباد میں دنیا کے ہر مذہب، ہر ذات و نسل، ہر درجے اور ہر حیثیت کے انسانوں کے حقوق شامل ہیں۔ اگر ہم عزیزوں کے حقوق ادا کریں تو اِس کے ساتھ غیروں کے حقوق بھی ادا کریں۔ غلام اگر مالک کی خدمت کرے تو مالک بھی غلام کا پورا پورا خیال رکھے۔ والدین اگر اولاد کیلئے اپنی زندگی کی ہر آسائش ترک کردیں تو اولاد بھی اِن کی خدمت اور عزت میں کمی نہ کرے۔
بیوی اگر شوہر کی خدمت گزاری کرے تو شوہر کو بھی چاہئے کہ وہ بیوی کے آرام و سکون کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑے، یہی دین اسلام کی پوری انسانیت کیلئے تعلیم ہے۔ سید عقیل میاں حسین نے کہا کہ قیامت کے روز نہ صرف حقوق اللہ کا حساب ہوگا بلکہ بندے کے حقوق کا بھی حساب ہوگا۔ اللہ کا مجرم ہونا اس قدر خطرناک نہیں جس قدر بندوں کے حقوق غصب کرنے کا خطرہ عظیم ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی نظر انداز کررہے ہیں۔ والدین، بہن بھائی، ہمسائیوں اور اپنے ماتحت کام کرنے والے لوگوں کی حق تلفی کرتے رہتے ہیں۔ والدین سے بدسلوکی، بہن بھائیوں کی مشکلات سے روگردانی، ہمسایوں کو اذیت دینا اور اپنے ماتحت ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک اور ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش نہ آنا۔
 یہاں یہ بات غورطلب ہے کہ حقوق العباد میں صرف مسلمان کا مسلمان پر نہیں ہے، بلکہ یہ غیر مسلموں پر بھی اتنا ہی لاگو ہوتا ہے جتناکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر۔
انہوں نے کہا کہ مال اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے؛ لیکن شریعتِ اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ صرف جائز وحلال طریقہ سے ہی مال کمائے۔
کیوں کہ کل قیامت کے دن ہر شخص کو مال کے متعلق اللہ رب العزت کو جواب دینا ہوگا کہ کہاں سے کمایا یعنی وسائل کیا تھے اور کہاں خرچ کیا یعنی مال سے متعلق حقوق العباد یا حقوق اللہ میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی۔ مال کے نعمت اور ضرورت ہونے کے باوجود، خالقِ کائنات اور تمام نبیوں کے سردار حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو متعدد مرتبہ فتنہ، دھوکے کا سامان اور محض دنیاوی زینت کی چیز قرار دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مال ودولت کے حصول کے لیے کوئی کوشش ہی نہ کریں؛ کیوں کہ حلال رزق کا طلب کرنا اور اس سے بچوں کی تربیت کرنا خود دین ہے،بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے خوف کے ساتھ زندگی گزاریں اور اخروی زندگی کی کامیابی کو ہر حال میں ترجیح دیں۔
اِن دنوں حصول مال کے لیے ایسی دوڑ شروع ہوگئی ہے کہ اکثر لوگ اس کا بھی اہتمام نہیں کرتے کہ مال حلال وسائل سے آرہا ہے یا حرام وسائل سے۔ ہمارے معاشرہ میں جو بڑے بڑے گناہ عام ہوتے جارہے ہیں، ان میں سے ایک بڑا خطرناک اور انسان کو ہلاک کرنے والا گناہ سود ہے۔ سود لینے اور دینے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا اعلانِ جنگ ہے۔
 سید عقیل میاں حسین نے کہا کہ مذہب اسلام نے انسان کو پاکیزہ زندگی گزارنے کی تعلیم دی اور صالح معاشرہ کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ حلال وحرام کی تمیز سکھائی، جائز وناجائز کے حدود بتائے، مفید ومضر کے فرق کو واضح کیا، کھانے پینے کی کن چیزوں کا اثر اس کے جسم کے ساتھ روح پر پڑتا ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت کے خسارہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
 اور کسی بھی موقع پر اللہ تعالیٰ نے بے لگام نہیں چھوڑا بلکہ پاکیزہ وپیاری تعلیمات کا ایک حسین گلدستہ عنایت کیا اور رہنمائی سے روشن راستہ دکھایا۔ایک مسلمان بلکہ ایک عام انسان بھی کھانے پینے کی چیزوں  کے بارے میں اسلامی ہدایات اور نبوی ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوگا تو یقینا اس کی دنیا وآخرت سنور جائے گی۔
 انہوں نے کہا کہ اسلام نے بڑی تاکید کے ساتھ منشیات اور شراب نوشی سے روکا اور اس کے استعمال سے سختی سے منع کیا ہے۔ شراب نوشی یا منشیات کا استعمال انسان کے لیے دین ودنیا دونوں اعتبار سے بہت ہی نقصان دہ اور ہلاکت خیز ہے۔
اسلام نے پاکیزہ معاشرہ کا جو تصور پیش کیا ہے اگر اس کو روبہ عمل لانا ہوتو پھر منشیات سے معاشرہ کو پاک کرنا ہوگا، ظلم وجور، بغض وعداوت، قتل وغارت گری، لوٹ کھسوٹ، چوری وڈکیتی، زناکاری وفحاشی، بے غیرتی وبدتہذیبی کا اگرخاتمہ کرنا ہے تو یقینا شراب نوشی ومنشیات سے افراد کو بچانااور علاقوں کو محفوظ کرنا لازمی ہوگا۔
سید عقیل میاں حسین نے تعلیم کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی میدان میں ترقی ممکن نہیں ہے ، آج کے دور میں دینی اور عصری تعلیم کا ہونا بہت ضـروری ہے۔ کیوں کہ تعلیم سے ہی انسان صحیح راستہ اختیار کرتا ہے اور ساتھ ہی دوسروں کی مدد کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے سبھی کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم ضرور دلائیں ۔ اس موقع پرمدرسہ کے اساتذہ ، علاقہ کے افراد وطلبہ موجود رہے۔