امریکہ غزہ پر حملہ کرکے نہیں بچ سکے گا۔ وہ نسل کشی کا ذمہ دارہے۔ ایران *
حماس کو اپنی سرزمین کے لیے لڑنے کا پورا حق
ایرانی وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب
تہران:۔27؍اکتوبر
(زین نیوزورلڈ ڈیسک)
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر بمباری بند نہ کی تو امریکہ بھی اس کا شکار ہو جائے گا۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ غزہ اور فلسطین میں نسل کشی بند کرے۔
درحقیقت ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں شرکت کی۔
عبداللہیان نے یہاں اپنی تقریر کے دوران یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست تنازعہ میں بدل سکتی ہے۔
عبداللہیان نے کہا کہ میں امریکہ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر فلسطین میں اس طرح کا قتل عام جاری رہا تو امریکہ کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ ہم اپنے علاقے اور اپنے گھروں کی حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
ایران نے حماس کو فلسطین کی آزادی کی تحریک قرار دیا۔عبداللہیان نےخطاب کے دوران کہا کہ حماس دراصل فلسطین کی آزادی کی تحریک ہے۔ اس دوران ایرانی وزیر نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کو بھی درست قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حماس کو اپنی سرزمین کے لیے لڑنے کا پورا حق ہے۔ اس کے لیے ضرورت پڑنے پر تشدد کا استعمال غلط نہیں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے حماس کے یرغمالیوں کا موازنہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں سے کیا۔
عبداللہیان نے کہاکہ حماس اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے۔ لیکن پھر پوری دنیا کو اسرائیلی جیلوں میں بند 6 ہزار فلسطینیوں کی رہائی کی حمایت کرنی چاہیے۔
حماس نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے شہریوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران، قطر اور ترکی کے ساتھ مل کر اس انسانی خدمت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعرات کو عرب ممالک کی جانب سے اردن نے جنگ کے درمیان انسانی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ تاہم، قرارداد میں حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے 1400 اسرائیلیوں اور 224 یرغمالیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
33 ممالک کے شہری یا تو پھنسے ہوئے ہیں یا جنگ میں مر چکے ہیں۔ غزہ میں مارے جانے والے تقریباً 7 ہزار افراد کے علاوہ جنگ روکنے کے لیے وہاں کے انسانی بحران کا حوالہ دیا گیا ہے۔
