rocket-attacks-by-gaza

اسرائیل پر حماس نے 5 ہزار راکٹ فائر کیے: تل ابیب سمیت 7 شہروں پر حملے

تازہ خبر عالمی
اسرائیل پر حماس نے 5 ہزار راکٹ فائر کیے: تل ابیب سمیت 7 شہروں پر حملے
5 افراد ہلاک 100 سے زائد زخمی۔ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ کا اندیشہ
اسرائیلی فوج نے  جنگی الرٹ جاری کیا
نئی دہلی:۔7؍اکتوبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے تین شہروں پر راکٹ حملے کیے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کی صبح تقریباً 8 بجے دارالحکومت تل ابیب، سڈروٹ، اشکیلون سمیت 7 شہروں پر راکٹ فائر کیے گئے۔ یہ راکٹ رہائشی عمارتوں پر گرے ہیں۔ 5 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل پر 5 ہزار راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے 2200 راکٹ فائر کیے گئے۔
کچھ دیر میں وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر میں اسرائیلی کابینہ کا اجلاس ہو گا۔ یہاں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو حماس کے خلاف باضابطہ اعلان جنگ کر سکتے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہاں اسرائیل کی فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ فوج نے اپنے فوجیوں کے لیے ‘جنگ کے لیے تیاری’ کا الرٹ جاری کیا ہے۔
ہفتے کی صبح اسرائیل میں مسلسل زبردست بم دھماکوں کی وجہ سے ملک بھر میں سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔ حماس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان جنگ کر دیا ہے۔ کابینہ کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے شہریو، یہ جنگ ہے اور ہم اسے ضرور جیتیں گے۔ دشمنوں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
حماس کے حملوں کے آغاز کے تقریباً 5 گھنٹے بعد نیتن یاہو کا یہ پہلا بیان ہے۔ انہوں نے کہا- حملے میں بہت سے لوگوں کے مارے جانے کی خبر آئی ہے۔ تقریباً 545 افراد زخمی ہیں۔ حماس کے دہشت گرد ہمارے ملک میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے مغربی قصبوں پر مسلسل راکٹ داغے جا رہے ہیں۔
حماس نے ہفتے کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب، سڈروٹ، اشکلون سمیت 7 شہروں پر راکٹ فائر کیے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ راکٹ رہائشی عمارتوں پر گرے۔ اب تک 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 30 اسرائیلی مارے گئے ہیں۔
حماس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل پر 5 ہزار راکٹوں سے حملہ کیا۔ اسی دوران اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے 2200 راکٹ فائر کیے گئے۔
حماس کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد جنگ کے امکانات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب داغے جانے والے راکٹوں کی آوازیں غزہ کی پٹی کے آسمان پر گونجیں
جب کہ اسرائیل کو فضائی حملوں کے خلاف خبردار کرنے والے سائرن کی آواز ملک کے اقتصادی اور ثقافتی دارالحکومت تل ابیب میں بھی سنی گئی، جو شمال کی جانب تقریباً 70 کلومیٹر دور ہے۔
اسرائیلی فوج نے حماس کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے کئی قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
حماس نے کہاکہ یہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا بدلہ ہے۔حماس
کے فوجی کمانڈر محمد دیف نے کہاکہ جاری آپریشن کو الاقصیٰ سیلاب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اسرائیل کی طرف سے یروشلم میں مسجد الاقصی کی بے حرمتی کا بدلہ ہے۔ دراصل، اسرائیلی پولیس نے اپریل 2023 میں مسجد اقصیٰ پر گرینیڈ پھینکا تھا۔
حملےسے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ اشکیلون شہر میں حملے کی ایک ویڈیو میں سڑکوں پر کھڑی عمارتوں اور گاڑیوں کو جلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک 70 سالہ خاتون بھی شامل ہے۔
حماس کے جنگجو سڑکوں پر گھومتے نظر آتے ہیں۔اسرائیل حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اسی لیے اسرائیل نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز منظر عام پر آ رہی ہیں، جن میں جنگجوؤں کو گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ عسقلان اور تل ابیب میں فوجیوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔
حماس کے ترجمان خالد قدومی نے الجزیرہ کو بتایا کہ قسام پلوں کا آپریشن نہ صرف اسرائیل بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک اشارہ ہے کہ فلسطینی ان تمام مظالم کے جواب میں صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں جن کا وہ حالیہ برسوں میں سامنا کر رہے ہیں۔
"ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری غزہ میں فلسطینیوں کے خلافہمارے مقدس مقامات جیسے الاقصیٰ کے خلاف مظالم بند کرے۔ یہ تمام چیزیں اس جنگ کو شروع کرنے کی وجہ ہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حماس نے اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنایا ہے، قدومی نے کہاکہ "وہ یرغمال نہیں ہیں۔ وہ جنگی قیدی ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی آباد کار بھی قابض ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق وہ حملہ آور ہیں۔انہوں نے کہاکہ، "لہذا آج کی صورتحال حملہ آوروں کے خلاف جنگ ہے۔
ہم جنگ میں ہیں اور جیتیں گے: نیتن یاہو
اور یہاں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا پہلا عوامی بیان ہے، جس کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایک "جنگ” میں ہے کہ وہ "جیت جائے گا”۔نیتن یاہو نے ویڈیو بیان میں کہا کہ "ہمارا دشمن ایسی قیمت ادا کرے گا جس کا اسے کبھی علم نہیں ہو گا۔
سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے والا تھا کہ اسی دوران حماس نے حملہ کر دیا۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کر کے اسرائیل کو تسلیم کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ درحقیقت، ابھی چند روز قبل سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بہت قریب ہیں۔
ولی عہد نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا تھا کہ سعودی عرب نے فلسطین کے معاملے پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے بات چیت روک دی تھی۔ تاہم، MBS نے کہا- یہ مسئلہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ فلسطینیوں کی زندگی آسان ہو سکے۔