جگتیال کے سب انسپکٹر پولیس انیـــل کی فرقہ وارانہ تعصبیت کا پردہ فاش۔اســــــلام اور مسلمانوں کی توہین، بیوی اور کانسٹبـــل کے ساتھ مسلم ماں اور بیٹی کے ساتھ غنڈہ گردی

تازہ خبر تلنگانہ
وردی میں چڈی‘ جگتیال رورل ایس ائی انیل
اسلام اور مسلمانوں کی توہین‘بیوی و کانسٹبل کے ہمرا ہ مسلم ماں اور بیٹی کے ساتھ غنڈہ گردی
جگتیال:۔ 11 مئی
 ( زین نیوز) 
پولیس کی وردی میں ایک سب انسپکٹر کے اندر کی چڈی عیاں ہوئی جس نے مسلمان اور اسلام کے خلاف نازیبا زبان کا سر عام نہ استعمال کیا بلکہ مسلم خواتین کے ساتھ مار پیٹ تک کی اور ان موبائیل فون چھین لیا تا کہ اپنی فرقہ پرستی کو چھپایا جاسکے۔
 تفصیلات کے بموجب شیخ فرح ساکن جام باغ جگتیال (تلنگانہ) اپنی والدہ کے ساتھ بس نمبر ٹی ایس 2 0 یوسی 5821 میں سفر کر رہی تھی وہ کریم مگر بس اسٹیشن پر رکی تو ایک نا معلوم عورت بس میں سوار ہوئی
اور فرح اس کی والدہ کی سیٹ کے قریب آکر تیسری سیٹ پر بیٹھے کی خواہش کی جبکہ بس میں بہت سی سیٹیں خالی پڑئی ہوئی تھیں خاتون کی خواہش پر ان دونوں ماں بیٹی نے ہٹ کر اس کیلئے جگہ بنائی ۔
 نشست سنبھالنے کے بعد یہ خاتون آہستہ سے مزید جگہ بناتے ہوئے ان دونوںماں و بیٹی کو ڈھکیلتی رہی جس پر فرح نے اس سے یہ کہا کہ وہ آخر ایسا کیوں کر رہی ہے۔
 اس پر وہ آپے سے باہر ہوگئی اور کہنے لگی کہ مسلمان (ترکولو ) ایسے پاگل ایسے ہوتے ہیں۔ اس پر فرح نے کہا کہ آپ پڑھی لکھی نظر آرہی ہیں اس طرح بد تمیزی کرنا غلط ہے۔
 اس پر مذکورہ خاتون نے ذات پات اور مذہب کو برا بھلا کہتے ہوئے جذبات سے کھلواڑ کی۔ اس خاتون نے بد کلامی کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور اپنے شوہر کو ذریعہ سیل فون طلب کیا اور کہا دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ آپ لوگوں کا کام ہو گیا۔
 اس پر فرح نے کہا کہ بس مسافرین کے سامنے اپنی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں اور اگر کچھ ہے تو جگتیال بس اسٹینڈ جا کر بات کریں گے۔ اس سے خاتون کو پتہ چلا کہ وہ جگتیال لکے رہنے والے ہیں اور اپنے شوہر کو دوبارہ بلایا۔
اس کے بعد اگلے بس ڈپو پر جہاں سے ہم جگتیال شہر میں داخل ہوئے جس کو پولیس کی گاڑی نے آر ٹی سی بس کو روکا اور دو افراد بس میں داخل ہوئے۔ ایک سادہ لباس میں اور دوسرا پولیس یونیفارم میں تھا جو پتہ چلا کہ پولیس کانسٹبل تھا۔
 سیول ڈریس میں ایک آدمی فرح کوس رہا تھا جس پر وہ خوفزدہ ہوگئی ا اور اپنے فون پر ویڈیو آن کرلی ۔ اس شخص نے پوچھا کہ کیا تم فون سے ریکارڈنگ کر رہی ہو اور یہ دیکھے بغیر کہ وہ ایک خاتون ہے فرح کے کان پر تھپڑ زور سے رسید کیا۔
 اس نے سیل پکڑ کر مجھے نیچے پھینک دیا، دوسرے ہاتھ سے میری کھوپڑی بال کو پکڑ کر بس سے نیچے لایا اور جہاں اس خاتون (فرح) دوسرے کان اور گردن پر دو دو بار مارا جس سے وہ نیچے گر گئیں۔ جسکے بعد اس نے اپنی ٹانگوں سے تین بار زور سے لات ماری۔
 دوسری طرف اس کی بیوی میری ماں کوبال پکڑ کر مارتی رہی۔ ڈریس میں کانسٹبل کے علاوہ سادہ لباس میں ملبوس اس شخص اور اس کی بیوی نے فرح کو بری طرح سے مارا جو سیول ڈریس میں تھا بعد میں پتہ چلا کہ وہ رورل ایس آئی انیل کمار تھا۔
 ان کے خلاف فرح نے اٹاؤن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے خاطی ایس آئی اس کی بیوی اور کانسٹبل کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔
لیکن یہ پولیس بھی اپنے ایف آئی آرنے نہ فرقہ پرست ایس آئی بیوی کا نام تحریر کیا اور نہ ہی کانسٹبل کی شناخت کر کے اس کا نام لکھا جس سے ان پولیس ملازمین کی نیت کا پتہ چلتا ہے وہ گرم مسئلہ کو ٹھنڈا کرنے کے مقصد سے یہ ایف آئی آرکو جاری کیا
 بعد میں تحقیقات کے دوران اس ایف آئی آر کو عدم ثبوت کے حوالے سے مقدمہ کو بند کر سکتے ہیں۔ اس واقعہ پر جگتیال کو رٹلہ اور مٹ پلی میں مسلمانوں نے احتجاج کرتے ہوئے خاطی ایس آئی انیل کو خدمات سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔
جگتیال رورل ایس آئی انیل کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور اسے ملازمت سے برطرف کیا جائے۔ وہ شروع ہی سے تعصب پسند رہا ہے۔ اس پراگندہ ذہنیت کے حامل ایس آئی انیل سابق میں جس وقت ٹرافک میں تھا اس وقت بھی ایک میوہ فروش کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
 ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی ملازمت سے پہلے اور اس کے بعد کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی جائے کہ کہیں وہ آر ایس ایس یا پھر دوسری ہندو تشدد پسند جماعتوں کا کارندہ تو نہیں تھا۔