ملک کے مختلف گوشوں میں پھیلا تشدد اور ہلاکتیں فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست نتیجہ 

بین الریاستی تازہ خبر
ملک کے مختلف گوشوں میں پھیلا تشدد اور ہلاکتیں فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست نتیجہ 
ملک سے زیادہ کرسی سے محبت، انتخابات سے قبل ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی
جمعیت علماء تلنگانہ و آندھرا  کی شدید مذمت 
حیدرآباد:۔2؍اگست 
(پریس ریلیز)
جمعیت علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے پریس نوٹ کے مطابق ریاستی عہدیداران مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی صدر، مفتی اعتماد الحق قاسمی کریم نگر،مولانا فصیح الدین ندوی، حافظ محمد فہیم الدین منیری کاماریڈی نائبین صدر، مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سیکریٹری، مولانا علیم کوثر
 صدر جمعیت علماء ضلع نارائن پیٹ مکتھل، مولانا ناصر صدر ضلع محبوب نگر، مولانا الیاس قاسمی صدر ضلع کرنول، مولانا عبدالبصیر رشادی صدرضلع نلگنڈہ، حافظ لئیق خان صدر ضلع نظام آباد، حافظ عبدالسمیع صدر ضلع سدی پیٹ، مفتی کلیم قاسمی صدر ضلع نرمل، مولانا عقیل قاسمی صدرضلع عادل
آباد، مولانا فاروق قاسمی صدر جمعیت علماء سنگاریڈی و دیگر نے اپنے مشترکہ صحافتی بیان میں ملک میں جاری تشدد اور ہلاکتوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اقتدار پر براجمان سیاسی جماعت ملک کے امن و سلامتی سے زیادہ اپنی کرسی اور عہدوں سے محبت رکھتی ہے۔
 ان حضرات نے کہا کہ منی پور کے واقعات جہاں بچوں، بوڑھوں حتی کہ عورتوں کو تک اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایاجاتارہا اور ڈبل انجن کا راگ الاپنے والی مرکزی و ریاستی بی جے پی حکومتیں منہ میں انگلی ڈالی بیٹھی رہیں، اور آج بھی منی پور شدید نفرت و فسادات کی لپیٹ میں ہے اور پوری دنیا میں بالخصوص خواتین پر برہنہ مظالم کی علامت بن رہا ہے ۔
دوسری طرف ہریانہ کے علاقے فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس رہے ہیں، حتى کہ وہ فرقہ پرستی کی آگ گڑگاؤں تک پہنچ گئی ہے اور آج ایک مسجد کے معصوم اور نہتے امام و مؤذن کو دو سو بلوائیوں کی جانب سے پولیس کی موجودگی کے باوجود شہید کردیا گیا ہے، اور گذشتہ کل پیش آیا
ٹرین کا واقعہ جس میں مسلح پولیس اہلکار جس کا کام ملک کے باشندوں کی اور ریل میں سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت کرنا تھا وہ فرقہ پرستی کی آگ میں جھلستے ہوئے ایسازہریلا ہو گیاکہ بڑی بربریت کے ساتھ متشرع مسلمانوں کو شہید کردیا اور اپنی گندی و زہریلی زبان سے اس نے ایک مخصوص جماعت کے ذکر کے ساتھ اپنے ناپاک ارادوں کا اور دھمکیوں کا اظہار کیا۔
یہ واقعات بتا رہے ہیں کہ بیسیوں سال سے ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسیوں پر عمل پیرا آر ایس ایس، بی جے پی، وشواہندوپریشد اور فرقہ پرست جماعتیں ایک بار پھر 2024کے انتخابات سے قبل ملک کو نفرت کی آگ میں جھلسانا چاہتی ہیں اور ملک کو بد امنی کی نذر کرنا چاہتی ہیں۔
وہ ملک کے باشندوں کے درمیان، برادران وطن کے درمیان نفرت کے بیج بونا چاہتی ہیں، تاکہ وہ اپنی سیاسی کرسی کو مضبوط رکھ سکیں۔
ان حضرات نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ یہ ساری چیزیں ملک سے محبت و وفاداری کے بلند بانگ نعروں کے درمیان کی جاتی ہیں۔حالانکہ در حقیقت ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے ملک کا نوجوان عسکریت پسندی، نفرت و تشدد کے راستے پر چل پڑا ہے۔
ملک کے نوجوانوں کے ذہن خراب کئے جا رہے ہیں۔ وہ اپنے پڑوسیوں سے، اپنے ساتھ رہنے والوں سے، جن کے ساتھ ان کے صبح و شام گذرتے ہیں ان سے نفرت کرنے لگا ہے۔
ملک کے باشندوں کے درمیان اعتماد کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔ کوئی کسی پر بھروسہ کرنے کیلئے اور کوئی کسی پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ہر طبقہ میں دہشت اور ڈر کا ماحول پیدا ہو گیا ہے
، یہ درحقیقت اس فرقہ پرستی کے زہر کا نتیجہ ہے جو گذشتہ سو سال سے ملک کے باشندوں کے ذہن میں بھرا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں میڈیا کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے، وہ ملک میں زہر گھولنے کا اور ہم وطن بھائیوں کو لڑانے کا مجرم ہے۔
 ان حضرات نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی ہر سیاسی جماعت اپنے سیاسی مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر ملک کے مفاد، ملک کی محبت، ملک کی امن و سلامتی کیلئے آگے آئیں اور ہندوستان کو مقدم رکھ کر اپنے فیصلے کریں اور ملک میں امن و امان و بھائی چارگی کی فضا کو عام کرنے کی فکر کریں،
 ورنہ ملک نفرت کا بوجھ تقسیم کی شکل میں اس سے قبل اٹھا چکا ہے اور دوبارہ ملک اس کا متحمل نہیں۔ ان حضرات نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہوں، صبر و تحمل کےساتھ، رواداری کے ساتھ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جو درس ہے
، اس درس کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اپنے ملک کے باشندوں کے ساتھ ہمدردی و رواداری اور انسانیت کا معاملہ جاری رکھیں اور ان فرقہ پرستوں کے عزائم کو پیار و محبت کے ذریعے ناکام کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔