کیرالہ میں حجاب تنازعہ: اسکول میں کشیدگی کے بعد حکومت کی مداخلت
طالبہ کو حجاب کے ساتھ تعلیم جاری رکھنے کی اجازت
ارناکولم :۔14؍اکتوبر
(انٹرنیٹ ڈیسک)
کیرالہ کے ارناکولم ضلع میں 7 اکتوبر سے فرقہ وارانہ کشیدگی اس وقت بھڑک اٹھی جب آٹھویں جماعت کی ایک مسلم طالبہ سینٹ ریٹا پبلک اسکول میں حجاب پہن کر پہنچی۔ اسکول انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ سر ڈھانپنا اسکول کے مقررہ یونیفارم کے اصولوں کے خلاف ہے۔
طالبہ کے والدین نے اس فیصلے پر احتجاج کیا، جس کے بعد معاملہ طول پکڑ گیا۔ تنازعے کے بڑھنے پر والدین و اساتذہ کی انجمن (PTA) نے 13 اور 14 اکتوبر کو اسکول کو دو دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا تاکہ حالات قابو میں رہیں۔13 اکتوبر کو اسکول انتظامیہ نے دھمکیوں اور ہجوم کی مداخلت کے خدشات کے پیشِ نظر کیرالہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت نے اسکول، اساتذہ اور طلبہ کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔اسکول کی پرنسپل سسٹر ہیلینا نے بتایا کہ والدین کو داخلے کے وقت ہی ڈریس کوڈ کے اصول بتائے گئے تھے اور طالبہ سے کہا گیا تھا کہ وہ محبت اور احترام کے ساتھ ان کی پابندی کرے۔
تاہم 7 اکتوبر کو طالبہ نے پہلی بار حجاب پہنا، جس کے بعد اس کے والد عزیز اگلے دن انتظامیہ سے بات چیت کے لیے آئے۔ اس دوران تلخ کلامی ہوئی اور ویڈیو بننے کے باعث تنازعہ بڑھ گیا۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے اساتذہ اور طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، لہٰذا اسکول کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا13 اکتوبر کو اسکول PTA کے ایک رکن جوشی کیتھوالاپل نے الزام لگایا کہ طالبہ کے والدین کو سوشیو ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کی حمایت حاصل ہے،
جو ایک اسلام پسند سیاسی جماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت کے بعض افراد اسکول پہنچ کر انتظامیہ سے بدتمیزی کرنے لگے۔معاملہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرنے کے بعد کانگریس کے ضلعی قائدین نے مداخلت کی۔ایرناکلم ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے صدر محمد شیاس اور رکنِ پارلیمان ہیبی ایڈن نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کی۔
ایڈن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بچے کے والد نے اسکول کے اصولوں کی پاسداری پر آمادگی ظاہر کی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان پرامن تصفیہ ہو گیا ہے۔
"تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اس معاملے کو اچھال کر فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کیرالہ کے وزیر تعلیم وی سیون کٹی نے 14 اکتوبر کو اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ طالبہ کو حجاب پہن کر تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی سیکولر روایات کے پیشِ نظر کسی بھی تعلیمی ادارے کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیر نے مزید کہا کہ اسکول پرنسپل اور انتظامیہ طالبہ اور اس کے والدین کو ہونے والی ذہنی اذیت کا ازالہ کریں۔یہ ہدایات ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن ارناکولم کی رپورٹ کے بعد جاری کی گئیں، جس میں بتایا گیا کہ طالبہ کو حجاب کی وجہ سے کلاس میں داخل نہ ہونے دینا "سنگین بدتمیزی” اور "حقِ تعلیم قانون کی خلاف ورزی” ہے۔
اسی دوران بی جے پی لیڈر شون جارج نے اسکول کا دورہ کیا اور انتظامیہ سے ملاقات کے بعد کہا:“ہم نے یہاں چرچ اور بہنوں کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔
بی جے پی اسکول کے ہموار کام کے لیے قانونی اور سیاسی تعاون فراہم کرے گی۔طالبہ کے والد عزیز نے کہا کہ ان کی بیٹی نے اس سال ہی اسکول میں داخلہ لیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ماضی میں اسکول نے صرف کلاس روم کے اندر سر ڈھانپنے پر پابندی رکھی تھی، مگر اب گیٹ پر ہی داخلے سے روکا جا رہا ہے، جو مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا، “یہ ہمارا بنیادی حق ہے۔ اگر اسکول اجازت نہیں دیتا تو ہم اسے کسی اور اسکول میں منتقل کر دیں گے۔کیرالہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں مذہبی شناخت پر مبنی امتیاز ناقابلِ قبول ہے اور سیکولر اقدار کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے
