ملکاپور مسجد حضرت جی مولانا یوسف کاندھلویؒ کے افتتاحی اجلاس سے مفتی سعید اکبر قاسمی ومفتی منور صاحب حیدرآباد کے خصوصی خطابات۔
کاما ریڈی:۔6؍فروری
(پریس نوٹ)
اللہ نے اپنی بندگی اور معرفت کے لئے انسان کو پیدا کیا، اپنے اندر مقام احسان پیدا کریں، اور یہ رجوع الی اللہ، تعلق مع اللہ یعنی مسجدوں کو آباد اور نمازوں کے ادا کرنے سے حاصل ہوتی ہیں، امت مشکل حالات سے گذر رہی ہے، اس لیے مسجدوں کو آباد کریں، مسجدیں اذان، نماز، اذکار اور تعلیمی حلقوں سے آباد ہوتی ہیں،
جس سے پورے علاقے میں ہدایت کی ہوا چلتی ہے، اللہ نے انسانوں اور جنات کو بھی اپنی عبادت اور بندگی اور معرفت کیلئے پیدا کیا، مقصد زندگی کو پہچاننا ضروری ہے،
ورنہ یہ گناہ ہے اور رب کو بھلانے کا جرم عظیم بھی ہے، مقصد زندگی کو سمجھنے کیلئے عبادت کا حکم دیا، اور اسی عبادت کی ادائیگی کیلئے اللہ نے مسجدوں کو بنایا، جہاں مسجد نہیں ہوتی ہے
وہاں مسلمانوں کو مسلمان ہونے کا احساس نہیں ہوتا، یہ مساجد روحانیت کے ٹرانسفارمر ہیں، یہاں سے مسلم گھروں میں روحانی طاقتیں منتقل ہوتی ہیں، اس سے گھر میں اسلام زندہ ہوتا ہے،
کاماریڈی ضلع کے منڈل بی بی پیٹ کے موضع ملکاپور میں مجلسِ تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کی زیرنگرانی مسجد حضرت مولانا یوسف کاندھلویؒ کی تعمیر فرزندان حافظ محمد عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حسن تعاون سے مکمل ہوئی،
جسکے افتتاحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی سعید اکبر صاحب نقشبندی دامت برکاتہم نے ان خیالات کا اظہار کیا، اور سلسلۂ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نماز کی پابندی سے روزی میں برکتیں ملتی ہیں، جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے؛
اسی طرح نماز کی برکت سے روزی کی برکات ملتی ہیں، مسجد نام ہے اللہ کے سامنے سر جھکانے کا، صرف جمعہ کے نمازی نہ بنو بلکہ پانچ وقت پابندی کے ساتھ نمازوں کا اہتمام کرو، نوافل نماز کے ذریعے اللہ سے تعلق قائم کرو، مسنون دعاؤں کی عادی بنائیں، اپنے اندر مقام احسان پیدا کریں کہ محبوب کو سامنے جان کر نماز پڑھیں،

اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، نمازوں کو وقت پر پڑھیں، پہلے مسجد پہنچنے کا اہتمام کریں، اذان و سنت کے پڑھنے کے بعد اقامت تک اللہ سے جماعت کا انتظار کرتے ہوئے باتیں کریں، مسجد سے لگاؤ پیدا کریں، مسلمان آج اذان کی بے تکریمی میں ملوث ہے تو اللہ نے اہلِ باطل کے ذریعے رسوائی میں مبتلا کردیا ہے، اذان کا احترام کریں،
رب کی پکار یعنی اذان کی طرف توجہ دیں، اذان کا جواب دینے کو لازم پکڑیں، مشائخ نے کہا کہ اذان کے جواب سے مرتے وقت حسن خاتمہ نصیب ہوتا ہے، مسجد کی صفائی کا خیال رکھیں، جس طرح گھر کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں، آج ہم بے مزہ زندگی گذار رہے ہیں،
رب کی چاہت اور اسکے ہر لمحہ ساتھ ہونے کے احساسات کے ساتھ زندگی گزاریں، اللہ کے راستے میں چار ماہ کی تربیت بنائیں کہ اس سے دین سیکھنا آسان ہوجاتا ہے، اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جسے ہر کام اور ہر عمل میں اللہ کا استحضار رہے، عورتوں کے مکاتب کی فکر کریں، بھلے ہفتہ واری ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ مستورات کی تعلیم و ترتیب ضروری ہے،
رسومات خرافات عورتوں کے راستے ہی سے آتے ہیں، اور آج دلوں میں عظمت ایمانی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری لڑکیاں مرتد ہوکر غیروں سے شادیاں کررہی ہیں، فیاضی فتنہ قرآن کے نام پر عملیاتی لائن سے عورتوں کے واسطے سے آرہا ہے، اسی لیے خواتین اپنے بچوں کے عقائد پر نظر رکھیں، ڈگریاں ہی کافی نہیں ہوتی ہیں، ایمانی عقائد کا تحفظ ضروری ہے،
آخیر میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے مساوات کی تعلیم دی ہے، اپنے اندر امت پن پیدا کریں، پیام انسانیات کو عام کریں، برادران وطن کے ساتھ پرسکون رہیں اور امن و شانتی کی ترغیب دیتے رہیں، اخوت ایمانی پیدا کریں، نیز مفتی منور صاحب زید مجدہ حیدرآباد نے بحیثیت مہمان مقرر شرکت کی اور کہا کہ اللہ کی طاقت اللہ کی آواز اور اسکے پیار کو سمجھیں،
سرکار مدینہﷺ نے کہا کہ تین چیزیں کرلو تین چیزوں کی ضمانت دیتا ہوں ایک نماز کے ادا کرنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرو، دوسرے مسجدوں کو پیدل چل کر جاؤ یعنی اپنے قدموں کو نماز کا عادی بناؤ، تیسرے اچھے سے وضو کرو، پھر میری ضمانت یہ ہے اس کی برکت سے تمہیں عاش بخیر کی نعمت ملے گی،
یعنی بغیر مصیبتوں کے عافیت کے ساتھ زندگی گذر جائے گی، ہلادینے والی مصیبتوں سے بچاؤ کا سامان ہوگا، دوسری ضمانت مات بخیر یعنی اچھی موت نصیب ہوگی، یعنی خاتمہ بالخیر ہوگا، اللہ ایمان پر موت دے گا، تیسری چیز جب قیامت کا دن ہوگا تب تمہیں ایسا بنادیا جائے گا؛ جیسا کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ ہوتا ہے،

یعنی اعمال نامہ گناہوں سے پاک ہوگا، لہذا مسجد کی طرف محبت سے قدم اٹھائے، سلسلۂ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ رجب المرجب کا مہینہ قبولیت دعا کا مہینہ ہے،
اس میں خوب دعائیں مانگیں، آنے والے رمضان کی قدر، اور اسکی عبادتوں کے اہتمام کا ارادہ کرلیں، اسکی آسانی کیلئے دعائیں مانگیں، اور ابھی ارادہ کریں کہ جس طرح رمضان میں مسجدوں کو آباد کرتے ہیں؛ اسی طرح پورے سال آبادی کی فکر کریں گے، حضرت جناب انور صاحب نے کہا کہ سنتوں کی پابندی کریں،
اعمال کی حفاظت کریں، برائیوں سے اجتناب کریں، حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کریں، ورنہ یہ عنداللہ ماخوذ ہوں گے، حافظ محمد فہیم الدین منیری ناظم مجلس نے بیان میں کہا کہ اس پر فتن دور میں جبکہ ہر لمحہ فتنہ رونما ہورہا ہے، بھولے بھالے مسلمانوں کے ایمان و عقائد پر ڈاکہ زنی کی جارہی ہے، اس لیے ہمیشہ ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے
، جتنے بھی فتنے رونما ہورہے ہیں؛ وہ سب کے سب اسلام کے غدار ہیں، جو تاج ختم نبوت سے چھیڑ چھاڑ کی جرات کرے وہ غداروں کا سرغنہ ہے، اس تاج ختم نبوت کی حفاظت ہمارا اولین فریضہ ہے، ہر ایک سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، اگر ہم روز محشر آقا مولا حضرتمحمد رسول اللہﷺ کی شفاعت چاہتے ہیں حضورﷺ کے دست مبارک سے آبِ کوثر پینا چاہتے ہیں؛ تو پھر تحفظ ختم نبوت کا کام کرنا ہمارے لئے ضروری ہے،
فتنوں سے امتِ مسلمہ کے افراد کو آگاہ کرنے کیلئے گلی گلی، محلہ محلہ، گاؤں گاؤں عقیدہ ختم نبوت سمجھا نے کیلئے تحفظ ایمان وتحفظ عقائد کے پروگرام کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تمام معاونین بالخصوص حضرت حافظ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے خاندان کیلئے خصوصی دعاؤں سے نوازتے ہوئے اظہارِ تشکر پیش کیا
کہ متحدہ ضلع نظام آباد کے سب سے آخری دیہات پر حضرت مفتی صاحب مدظلہ اور محترم انور صاحب ٹیچر کے توسط سے تمام تر ضروریات و سہولیات سے آراستہ خوبصورت مسجد تعمیر کروائی اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اجر عظیم عطاء فرمائیں،
مولانا نظرالحق قاسمی نگران مجلس نے مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی جس کی صدارت وقیادت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا ابرارالحسن رحمانی قاسمی مدظلہ فرمارہے ہیں،
اس کے تحت تین اضلاع کاماریڈی، سرسلہ اور میدک کے مختلف مقامات پر 84 مکاتب کے ذریعہ لوگوں کے ایمان وعقائد کے تحفظ کے کام پچھلے بیس سال سے زائد 67 معلمین کی خدمات کے ساتھ ہورہے ہیں، ذمہ داران وخدام مجلس مسلسل الحمدللہ تمام دیہاتی بچوں کی دینی تعلیمی نظام کے علاوہ انکی فکری رجحانات کی کامیاب کوشش کرتے ہوئے انہیں مسجد ومکتب سے جوڑ رہے ہیں،
ضرورت ہے کہ مجلس سے مربوط ہوکر جانی، مالی تعاون پیش کریں، حافظ انتظار صاحب امام وخطیب مسجد بلال کاماریڈی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے تعمیر مسجداور آبادیِ مساجد پر قرآن وسنت سے فضائل بیان کئے، مولانا منظور مظاہری نے نظامت کے فرائض انجام دئیے،
جبکہ جلسہ کا آغاز قاری عظمت کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، طلباء مکتب جامع مسجد بی بی پیٹ وملکا پور نے بہترین تعلیمی مظاہرہ بھی پیش کیا، اس موقع پر الحاج سید عظمت علی، الحاج عبدالواجد علی، میر فاروق علی، محمد آصف وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار
فرمایا، محمد عباداللہ، عبدالرزاق، محمد فیروز الدین، حمزہ بھائی، بابا فخرالدین، سید کالو، ودیگر موجود تھے، شیخ اسماعیل، محمد عبدالرحیم نگران تعمیر مسجد نے مہمانوں کا استقبال کیا، فرزندان محترم حافظ محمد عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا، مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی نے مسجد کی تعمیر و توسیع میں اور آج کے اجلاس کی کامیابی کے لئے جو محنتیں کئے ہیں، جدوجہد کئے ہیں
ان تمام کا شکریہ ادا کیا، علماء کرام، حفاظ کرام، صدور مساجد کے علاؤہ اطراف و اکناف اور دور دراز سے ختم نبوت کے پروانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کیا، اور علماء کرام کے پند و نصائح سے خوب استفادہ کیا، ملکاپور سے تعلق رکھنے والے
برادرانِ وطن سرپنچ گرام پنچایت وارڈ ممبرز کے علاہ دیگر احباب نے شرکت کی اور تعمیر مسجد پر ذمہ داران کو کلمات تحسین پیش کیا، اور کہا کہ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں آپ لوگوں نے اتنی اچھی خوبصورت مسجد بنائی۔
