marwari-go-back-

تلنگانہ میں ’’مارواڑی گو بیک‘‘ نعرہ گونج اُٹھا۔  احتجاج سے سیاست تک معاملہ سنگین

تازہ خبر تلنگانہ
تلنگانہ میں ’’مارواڑی گو بیک‘‘ نعرہ گونج اُٹھا۔  احتجاج سے سیاست تک معاملہ سنگین
سکندرآباد واقعہ کے بعد تحریک کو تقویت، مقامی تاجر برادری برہم
حیدرآباد:۔19؍اگست
(زین نیوز )
تلنگانہ میں "مارواڑی گو بیک” تحریک تیزی سے زور پکڑ رہی ہے۔ ابتدا سوشیل میڈیا سے ہوئی اور اب یہ احتجاج مختلف اضلاع اور قصبوں تک پھیل رہا ہے۔ نلگنڈہ ضلع کے آمنگل قصبے میں تاجروں نے "مارواڑی گو بیک” کے نعرے لگاتے ہوئے 18 اگست کو رضاکارانہ بند (ہڑتال) کا اعلان کیا۔ کرانہ، کپڑا، ورائٹی اور سنار انجمنوں نے بند کی اپیل کی ہے۔
یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب سکندرآباد کے مونڈا مارکیٹ میں پارکنگ کے تنازع پر بعض مارواڑی تاجروں پر ایک دلت نوجوان کو زد و کوب کرنے کا الزام عائد ہوا۔ پولیس نے اس سلسلے میں اَیٹروسیٹی کیس درج کیا۔ واقعہ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شاعر و گلوکار گوریٹی رمیش نے مارواڑی تاجروں کی مبینہ لوٹ کھسوٹ پر ایک احتجاجی گیت تخلیق کر کے سوشل میڈیا پر جاری کیا، جو وائرل ہوگیا۔
 اس کے بعد مختلف مقامی گروپوں نے مارواڑیوں کے خلاف بائیکاٹ مہم شروع کردی اور عوام سے اپیل کی کہ مارواڑیوں کی دکانوں سے سامان نہ خریدیں اور ان کی مٹھائی کی دکانوں اور ریسٹورنٹ سے پرہیز کریں۔مقامی تاجروں کا الزام ہے کہ مارواڑی تاجر ناقص اور غیر معیاری اشیاء فروخت کرتے ہیں، جس سے نہ صرف صارفین متاثر ہورہے ہیں بلکہ مقامی کاروباری بھی نقصان اٹھا رہے ہیں۔
تلنگانہ محبوب نگر کے آمنگل میں مقامی تاجروں کی تنظیموں نے 18 اگست کو ’’مارواڑی گو بیک‘‘ بند کا اعلان کیا تھا، تاہم مارواڑی انجمنوں سے جاری مذاکرات کے باعث اس بند کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر مارواڑی برادری یہاں کاروبار جاری رکھنا چاہتی ہے تو انہیں مقامی نوجوانوں کو روزگار دینا ہوگا اور ٹیکس قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
ادھر گورٹی رمیش نامی شاعر اور گلوکار نے اس تحریک کی حمایت میں ایک گیت لکھ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جو وائرل ہوگیا۔ اس کے بعد مارواڑیوں کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ مہم مزید شدت اختیار کر گئی۔ رمیش کی گرفتاری نے حالات کو مزید گرما دیا ہے۔بی جے پی نے اس تحریک پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مارواڑی دراصل تلنگانہ کی معیشت کا اہم ستون ہیں اور ان کی برادری صدیوں سے یہاں تجارت کر رہی ہے۔
 مرکزی وزیر داخلہ امور اور بی جے پی رہنما بنڈی سنجے نے واضح کیا کہ مارواڑی نظام دَور میں راجستھان سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے اور تجارت کے ذریعے تلنگانہ کی معیشت کو مضبوط کیا۔’’مارواڑی ریاست میں سرمایہ کاری لاتے ہیں، روزگار پیدا کرتے ہیں اور ریاستی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں۔
ایسے افراد کو ریاست سے نکالنے کی بات شرمناک ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کو احتجاج کرنا ہے تو ’’روہنگیا گو بیک‘‘ نعرے پر کرنا چاہیے، کیونکہ اصل خطرہ وہ ہیں جو غیر قانونی طور پر ملک میں بس گئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان کے ہر شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے اور کاروبار کرنے کا حق ہے۔
 تلنگانہ کے لوگ دوسرے صوبوں میں کاروبار کرتے ہیں تو پھر مارواڑیوں کے یہاں رہنے پر اعتراض کیوں؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ اس تحریک کو کانگریس اور بی آر ایس کی سرپرستی حاصل ہے تاکہ بی جے پی کے ساتھ وابستہ مارواڑی برادری کو نشانہ بنایا جا سکے۔دوسری طرف کانگریس اور بی آر ایس کی اعلیٰ قیادت نے اس معاملے پر براہ راست کوئی بیان دینے سے گریز کیا ہے،
تاہم ان جماعتوں کے مقامی کیڈر اس تحریک میں شریک ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض تجارتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ آنے والے انتخابات کے پیشِ نظر ایک بڑے سیاسی ہتھیار میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق مارواڑیوں کی موجودگی تلنگانہ میں کوئی نئی بات نہیں۔ وہ صدیوں سے یہاں تجارت کر رہے ہیں اور مقامی معیشت کا لازمی حصہ بن گئے ہیں۔
تاہم مقامی تاجروں اور عوام کا کہنا ہے کہ مارواڑی آہستہ آہستہ اقتصادی اجارہ داری قائم کرتے جا رہے ہیں جس سے مقامی کاروباری دباؤ کا شکار ہیں۔ اس تنازع نے اب سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ ریاست کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔