انجینئر جوڑے نے مندر کے احاطے میں شادی کی
وی ایچ پی اور آر ایس ایس کے زیر انتظام مندر میں نکاح
وی ایچ پی اور آر ایس ایس کے زیر انتظام مندر میں نکاح
رام پور:۔8؍مارچ
(زین نیوز ڈیسک)
ہماچل پردیش کے شملہ میں رام پور کے ستیانارائن مندر میں نکاح پڑھا گیا۔ وہ بھی ایسے مندر میں جسے وشو ہندو پریشد چلا رہی ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا ضلعی دفتر مندر کے احاطے میں ہی واقع ہے۔
وی ایچ پی کے عہدیداروں نے ہی لڑکی کے والدین کے مطالبہ پر مندر کے ہال میں لڑکی کی شادی کی اجازت دی تھی۔ مندر کے احاطے میں بنے ہال میں مولوی، وکلاء اور دونوں طرف کے لوگ جمع تھے۔ یہیں مولوی نے دونوں کا نکاح پڑھا اور تمام رسومات وکیل اور گواہ کی نگرانی میں مکمل ہوئیں۔
جہاں رام پور میں رہنے والی مسلم کمیونٹی ستیہ نارائن مندر کے احاطے میں اس نکاح کی تکمیل سے بہت خوش ہے، وہیں ہندو مذہب نے بھی اسے مثبت انداز میں لیا ہے۔ اس نکاح کی خاص بات یہ ہے کہ تمام رسومات مولویوں نے وشو ہندو پریشد کے منظور شدہ مندر کے احاطے میں مکمل کیں۔
اس کے بعد دولہا اور دلہن کے گھر والے ایک دوسرے سےکو شادی کی مبارکباد ی۔ بعد ازاں مندر کے احاطے میں ضیافت اہتمام کیا گیا۔جس صرف( ویج) ترکاریاں بنائی گئیں تھیں
معلومات کے مطابق صبیحہ ملک اور مہندر سنگھ ملک کی بیٹی نعمت ملک رام پور میں ایم ٹیک سول انجینئر ہیں۔ نعمت کے شوہر راہول شیخ، جو سول انجینئر بھی ہیں، کا تعلق چمبہ کے چووڑی سے ہے۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شادی مندر کے ہال میں ہوئی۔
مسلم جوڑے کا یہ نکاح 3 مارچ کو رام پور کے ستیانارائن مندر میں پڑھا گیا۔ اس میں نہ صرف لڑکے اور لڑکی کے مسلمان رشتہ داروں نے شرکت کی بلکہ علاقے کے ہندو لوگوں نے بھی نوبیاہتا جوڑے کو مبارکباد دی۔
مندر میں ہونے والی اس مسلم شادی کا پوری ریاست میں چرچا ہے اور ہر کوئی بین المذاہب ہم آہنگی کی تعریف کر رہا ہے۔ خاندان کی جانب سے اس کے لیے کارڈز چھاپے گئے۔ کارڈ میں ہی مندر میں شادی کا ذکر تھا۔
مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری ونے شرما کا کہنا ہے کہ شادیاں اکثر ستیہ نارائن مندر کے احاطے میں کی جاتی ہیں۔ شادی کے منتظمین کو قواعد کے مطابق اجازت دی جاتی ہے تاکہ مندر کا وقار برقرار رہے۔
شرما نے کہا کہ یہ نکاح ہندو مسلم تعلقات کو مضبوط کرنے کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہاں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مندر کے احاطے میں مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کسی کی شادی ہوئی ہے۔