قدیر خان کے معاملہ میں پولیس کی قانون شکنی۔
ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کی مانگ‘
ریاست میں پولیس راج چل رہا ہے‘مسٹرٹی جیون ریڈی کی پریس کانفرنس
جگتیال:۔21؍فروری
(زین نیوز)
میدک مستقر کے محمد قدیر خان کی پولیس کی اذیت رسانی اور دیوانہ وار مار پیٹ سے ہلاکت کے خلاف ریاست گیر سطح پر مسلمانوں اور دیگر انصاف پسندوں کی جانب سے تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈی ایس پی اور ضلع ایس پی میدک کے ہٹ دھرم رویہ کی ہر چہار سمت مذمت کی جارہی ہے
جنہوں نے مذکورہ واقعہ کو ایک پیشہ ور مجرم کی طرح دبانے کی کوشش کی ہے۔ ایس پی جنہیں کم از کم ذمه دارنہ رول ادا کرنا چاہئے تھا انہوں نے اپنے سیول سرونٹس کے فرائض کو انجام دینے میں بری طرح نہ صرف ناکام رہی ہیں ۔
دریں اثناء کانگریس ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی نے جگتیال ضلع مرکز کے اندرا بھون میں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں پولیس راج چل رہا ہے
لاک اپ میں قدیر خان کی موت کے ملزمین کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے موجودہ جج سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا علاوہ ازیں متاثرہ خاندان کو 50؍لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کی مانگ بھی کی۔
انھوں نے کہاکہ تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود قدیر خان پر تھرڈ ڈگری کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نظم ونسق شفاف طریقے سے چل رہا ہے تو اس کے برعکس نظم ونسق پولیس کے کنٹرول میں چل رہا ہے۔ تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود قدیر خان پر تھرڈ ڈگری کا ا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کےاس حکم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا کہ ہر تھانے میں سی سی کیمرے لگائے جائیں اور سی سی کیمروں کی نگرانی میں تحقیقات کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب پولیس نے انہیں حراست میں لیا تو قدیر خان صحت مند تھے تاہم ان کی موت کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ان کے گردے خراب ہو گئے تھے۔ پولیس نے مجرمانہ تفتیش کے نام پر اسے پانچ دنوں کے لئے بند کررکھا ہے اور اس بات کا الزام لگایا ہے کہ قدیر خان چوری میں ملوث ہے انہوں نے اپنی غلطی کو چھپانے تحصیلدار کے سامنے بینڈ اوور کیا ۔
ایم ایل سی جیون ریڈی نے لاک اپ موت کے ذمہ دار پولیس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کرنے پر ڈی جی پی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قدیر خان کی موت کا سبب بننے والی پولیس کے خلاف 2 30 آئی پی سی پارٹ 2 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے نہ کہ محکمہ جاتی کارروائی کی جائے ۔
معطلی اس بات کی بھی علامت ہے کہ پولیس نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات صرف اسی صورت میں غیر جانبداری سے جاری رہیں گی جب یہ ہائی کورٹ کے موجودہ حج کی نگرانی میں کی جائے گی۔
تا کہ ایسے واقعات دوبارہ اعادہ نہ ہوں۔ ایم ایل سی جیون ریڈی نے ریاست میں ایک ہی معاملے میں پولیس کے دو طریقے سے کام کرنے کے طریقے کو غلط قرار دیا۔
انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر سے مانگ کی کہ وہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھیں تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ قدیر خان موت کیس کی تحقیقات غیر جانبداری سے کی جائے۔
