مودی سرنیم: راہول گاندھی نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا
مرکزی حکومت پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر کے راہول گاندھی کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔کانگریس
نئی دہلی:۔15؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
کانگریس لیڈر اور سابق قومی صدر راہول گاندھی نے گجرات ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے 7 جولائی کو 2019 کے ہتک عزت کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے راہول گاندھی کی عرضی کو مسترد کر دیا تھا اور سزا پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے سیشن کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔
ایک انتخابی ریلی کے دوران راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ جس کے بعد گجرات بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے پرنیش مودی نے 2019 میں کیس درج کرایا تھا۔ جس میں راہول گاندھی پر مودی سرنیم کو لے کر ہتک عزت کا الزام لگایا گیا تھا
جس پر سماعت کرتے ہوئے 23 مارچ کو سورت کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے راہول گاندھی کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 499 اور 500 (مجرمانہ ہتک عزت) کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں دو سال قید کی سزا سنائی۔
اس فیصلے کے بعد گاندھی کو عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا۔ راہول گاندھی 2019 میں کیرالہ کے وایناڈ سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے پہلے ہی کہا تھا کہ گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے مودی سرنام کے ریمارک سے متعلق مجرمانہ ہتک عزت کے معاملے میں راہول گاندھی کی عرضی کو مسترد کرنے کے بعد بہت جلد سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی جائے گی۔
ہتک عزت کے معاملے میں راہول گاندھی کو سزا سنائے جانے کے معاملے پر اپنے لیڈر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس نے بدھ، 12 جولائی کو مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج میں مختلف ریاستوں میں خاموش ستیہ گرہ’ کا انعقاد کیا۔
کانگریس قائدین اور کارکنوں نے ریاستی ہیڈکوارٹر پر مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے دھرنا دیا اور منہ پر سیاہ پٹی بھی باندھی۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ راہول گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت سے غیر جمہوری نااہلی کے خلاف ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ بالآخر جیت سچ کی ہوگی۔
یہاں جھارکھنڈ پردیش کانگریس کے صدر راجیش ٹھاکر نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت پارٹی لیڈر راہول گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر کے ان کی آواز کو دبانا چاہتی ہے، لیکن مرکزی حکومت اور بی جے پی کتنی ہی کوشش کر لیں انہیں روک نہیں سکیں گے۔
ٹھاکر نے کہا کہ راہول گاندھی غریبوں، مزدوروں، بے روزگاروں، نوجوانوں اور عام لوگوں سے جڑے مسائل کو ملک کے عوام کے سامنے لاتے ہیں۔ راہول گاندھی نے کنیا کماری سے کشمیر تک تقریباً 4000 کلومیٹر پیدل چل کر ملک کی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔
