بی جے پی ملک میں نفرت پھیلانے میں مصروف۔مودی مکالمے بازی میں ماہر
میک ان انڈیا صرف ایک جملہ اور فریب : وزیراعلیٰ تلنگانہ کے سی آر کا خطاب
جگتیال:۔7؍ڈسمبر
(عمران زین )
بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ایک دن بھی عصمت دری ‘ دلتوں پر حملوں کے بغیر نہیں گزرتا ہےوزیر اعظم نریندر مودی کا میک ان انڈیا ایک فریب ہے ایک ڈائیلاگ ہے مودی خود کو نعرے لگانے تک محدود کر رہے ہیںاور وہ اپنے نعروں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ آج جگتیال میں انٹگریٹیڈ کلکٹریٹ کمپلیکس‘ عمارت برائے مربوط ضلعی دفاترکا افتتاح انجام دینے کے بعد وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے موتے میں ایک عوامی جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے کیا
انہوں نےو زیر اعظم نریندر مودی کے زیرقیادت بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ملک کے نوجوانوں سے اپنی مٹھی اٹھانے اور بی جے پی حکومت کے خلاف لڑنے کی اپیل کرتے ہوئےانہوں نے کہاکہ اب نوجوانوں چوکنا رہنے کی سخت ضرورت ہے۔
ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چوکس رہیں کیونکہ کچھ شر پسند طاقتیں ریاست میں گڑبڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ بی جے پی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں پر سوال اٹھائیں
کے سی آر نے مز ید کہاکہ عوام کو گول مال کیا جارہا ہے اگر ہم خبردار نہ ہوئے تو ہمارے ڈوبنے کا خطرہ ہے بی جے پی پر الزام لگایا کہ اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ملک میں نفرت پھیلا رہی ہے۔اگر لوگ اس نفرت کو پھیلانے دیتے رہے تو ہم سب کچھ کھو دیں گے
تلنگانہ کا اتحاد اورسیاست ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونی چاہیے جیسا کہ تلنگانہ نے حاصل کیا ہے۔ ملک کی سطح پر بھی تبدیلی لانے کی شدید ضرورت ہے ہمارے آتے ہی نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ کیا کوئی اچھا کام ہوا ہے؟
کیا انہوں نے میدان میں ترقی کی؟ پی ایم مودی اچھی طرح مکالمے پیش کرتے ہیں۔سب ڈرامے بازی ہے مرکز عوامی فلاح و بہبود کی پرواہ کیے بغیر، کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے عوامی املاک کی خانگیارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مودی کو ‘میک ان انڈیا’ پروگرام پر کھلی مباحثہ کا چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت صرف کھوکھلے دعو ے کرتی ہے اور نعرے دیتی ہے مودی نے میک ان اندیا کا نعرہ دیا ۔
کے سی آر نے کہا کہ مودی کا میک ان انڈیا ایک فریب ہے ایک ڈائیلاگ ہے حقیقت اسکے برعکس ہے، آنگن واڑیوں کے فنڈز میں کٹوتی کی۔
اور ملک میں اب ہر جگہ چینا بازار نظر آتا ہے اور ضروریات زندگی کی ہر چھوٹی چیزچینا سے ہی آتی ہیں ‘ ۔ شیونگ بلیڈ‘ کیا بچوں کے پٹاخے، پتنگ اور پتنگ کا مانجہ‘ دیوالی کے چراغ‘ یہا ں تک کے ملک کا قومی پرچم (ترنگا ) بھی ہر چیز چین سے درآمد کرتے رہتے ہیں۔مودی حکومت میں، ہمیں ہر قصبے اور شہر میں مزید چائنہ بازار نظر آتے ہیں
‘ دوسری طرف ملک کے تمام قیمتی اثاثہ فروخت کیے جارہے ہیں برقی کو خانگیانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے ایل آئی سی کو بیچ دیا جارہا ہے بی جے پی کے 8سالہ دور اقتدار میں ملک میں 10؍ہزار صنعتیں بند ہوچکی ہیں ۔
تقریباً 50 لاکھ لوگ اپنی فیکٹریوں کی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، 10 ہزار بڑے تاجر ملک چھوڑ رہے ہیںاگر یہ میک ان انڈیا ہے؟۔ اگر میک ان انڈیا ہو گا تو کیا پوری چین کی مارکیٹ آ جائے گی؟
مودی وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ اپنے دوستوں کیلئے کام کر رہے ہیں‘ مودی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا اور وہ نعرہ بکواس بن کر رہ گیا کہیں ترقی ہوئی کیونکہ مودی حکومت نے کسی بھی برادری کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
مودی انتظامیہ ہر محاذ پر نا کام ہو چکا ہے۔مودی کی زیر قیادت حکومت جمہوریت کے تانے بانے کو تباہ کر رہی ہے۔ این پی اے کے نام پر لوگوں کی 14 لاکھ کروڑ روپے کی جائیداد پہلے ہی لوٹی جا چکی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایل آئی سی جس کے پاس 35 لاکھ کروڑ روپے کے اثاثے ہیں کو فروخت کیا جائے گا۔
یہ عوام کی ملکیت ہے اور اس کی حفاظت ہونی چاہیے۔ کارپوریٹس کی دولت لوٹی جا رہی ہے۔بیٹی پڑھاؤ ہے یا بیٹی بچاؤ؟ کیا ایسی صورت حال ہے جب بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ایک دن بھی عصمت دری ‘ دلتوں پر حملوںکے بغیر گزرتا ہے؟
کیا ان ریاستوں میں خواتین کو تحفظ حاصل ہے؟ اس ملک کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ اگر ہم ایک بار مارے گئے تو ہم 100 سال پیچھے چلے جائیں گے
کے سی آ رنے کہاکہ ہم ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر ترقی کر رہے ہیں۔ ہم نے 1000 اقامتی اسکول قائم کیے ہیں جیسا کہ ہندوستان میں کہیں اور نہیں ہے۔ فی کس آمدنی اور بجلی کے استعمال کے لحاظ سے تلنگانہ ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔

ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ زراعت کو مستحکم کیا جائے۔ تمام اضلاع کی طرح ہم کریم نگر اور جگتیال اضلاع کے ایم ایل ایز کے حلقہ کے فنڈ میں مزید دس کروڑ کا اضافہ کر رہے ہیں۔
قبل ازیں انٹگریٹیڈ کلکٹریٹ کمپلیکس‘ عمارت برائے مربوط ضلعی دفاتر ،جگتیال کا افتتاح انجام دیااور کہاکہ ریاست تلنگانہ نے آج نظم و نسق کے محاذ پر ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے تاریخ رقم کی حکومت تلنگانہ نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے ثمرات کو
عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے مقصد33 نئے اضلاع کی تشکیل اورا ن اضلاع میں اسمبلی حلقہ جات میں عوامی نمائندوں اور عوام کے لئے قابل رسائی بنانے کی غرض سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز پر انٹگریٹیڈ کلکٹریٹ کمپلیکس اور اعلی پولیس عہدیداروں کے لئے خصوصی عمارتوں کا قیام عمل میںلایا جارہا ہے۔
وزیر اعلیٰ تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نےکہاکہ اضلاع کی تشکیل جدید کے بعد نئے قائم کردہ ضلع جگتیال میں20 ایکڑ میں اراضی پر 49.20 کروڑ کی لاگے سے تعمیر کردہ نئی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں انٹگریٹیڈ کلکٹریٹ کمپلیکس‘ عمارت برائے مربوط ضلعی دفاتر ،جگتیال کا افتتاح انجام دیا جو ریاست کی14 ویں کلکٹریٹ عمارت ہے ۔

قبل ازیں انہوں نے510 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جانیوالے میڈیکل کالج کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھااور ٹی آر ایس پارٹی کے ضلعی دفتر کا افتتاحی انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ ملک بھر میں انتظامی اصلاحات کے محاذ پر ایک مثالی ریاست بن چکی ہے
وزیراعلی کے چندر شیکھر راؤسد ی پیٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر دوپہر 30-1 بجے جگتیال پہنچے کلکٹریٹ کے احاطے میں اترے وہاں سے سی ایم کے سی آر ایک خصوصی بس کے ذریعہ ٹی آرایس ضلع پارٹی دفتر کی افتتاحی تقریب کے لئے پہنچے۔
وزیراعلی نے ریاستی وزیر شری ٹی ہریش راؤ، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندوں کے ہمراہ ٹی آر ایس پارٹی کے ضلعی دفتر کا افتتاح کیا۔
بعدازاں کلکٹریٹ میں روایتی پولیس گارڈ آف آنر لینے کے بعد وزیراعلیٰ نے کمپلیکس میں گھوم کر عمارت کا جائزہ لیااور کلکٹریٹ کا افتتاح انجام دیا اور کلکٹر کے چیمبر کو کھولا اور ضلع کلکٹرجگتیال گوگولت روی کوکرسی پر بیٹھا کر مبارکباد دی اورکلکٹرکے حق میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ہندو مذہبی رسومات کے بعد حافظ خواجہ عقیل نے قرأت کلام پاک کی اور حافظ سید ابرار شریف امام و خطیب مسجد پرانی پیٹ‘ جگتیال نے اور دعاء فرمائی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ نے کلکٹرس کانفرنس ہال میں ضلعی عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ ایک جائزہ کو خطاب کیا۔کے سی آر نے انکشاف کیا کہ تلنگانہ ملک میں کئی شعبوں میں آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے وجود میں آنے کے بعد بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں‘ اور تمام طبقات کی ترقی کے لئے مؤثر اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ہزار اقامتی اسکول کے قیام اور تعلیم کی فراہمی میں ہم خود برابر ہیں اور کوئی مقابلہ نہیں ہیاگر ریاست تلنگانہ کا بجٹ 62000 کروڑ روپے تھا، اب یہ 2 لاکھ 20000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
تلنگانہ تمام شعبوں میں زبردست ہنر دکھا رہا ہے۔ ہم تلنگانہ کے تمام لوگوں کے فائدے کے لیے پروگرام تیار کر رہے ہیں۔انہوں نے حکومت سے کہا کہ جب ریاست بنی تو بے یقینی کی کیفیت تھی، موجودہ مصائب، آبپاشی کا پانی نہیں، ہجرتیں اور خشک سالی ہمیں پریشان کرتی تھی۔ لیکن اب ہم نے تھوڑے ہی عرصے میں تمام مسائل پر قابو پا لیا ہے۔
تلنگانہ کئی لحاظ سے ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔ ہم نے گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور دیگر کئی ریاستوں سے بہتر جی ڈی پی حاصل کیا ہے۔ فصل کی پیداوار اور فی کس بجلی کی کھپت کے علاوہ ہم کئی شعبوں میں آگے ہیں۔ یہ سب کسی کے سی آر، سی ایس یا وزرائ سے ممکن نہیں تھا۔ یہ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ممکن ہوا۔ کے سی آر نے کہا کہ ہم نے بہت ترقی کی ہے اور ملک کے لیے ایک مثال بن گئے ہیں
کے سی آرنے حکومت کی جانب سے متعارف کردہ انتظامی اصلاحات، حکومت کی جانب سے متعدد فلاحی اسکیمات پر عمل آوری و نیز ان اسکیمات سے لوگوں کو حاصل ہورہے فائدوں سے متعلق وضاحت پیش کی۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ ریاست اسکیمات کی عمل آوری اور ترقی کی راہ پر اولین مقام پر ہے۔
انہوں نے نام لیتے ہوئے ہر ایک اسکیم کے دائرہ کار اور نتائج کا تذکرہ کیا۔وزیراعلیٰ نے دھرانی کے بشمول زراعت، آبپاشی، پینے کے پانی، تعلیم اور ریونیو شعبوں میں متعارف کردہ اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے ان سے لوگوں کو حاصل ہورہے فائدوں پر روشنی ڈالی۔
Live: CM Sri KCR inaugurating Jagtial District Integrated Offices' Complex. https://t.co/JSlAqRfM6N
— Telangana CMO (@TelanganaCMO) December 7, 2022
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ لوگوں کے حق میں طویل مدتی فائدوں کی غرض سے بہت سی اسکیمیں لاتے رہے ہیںتاکہ عوا م کو فائدہ پہنچایا جائے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بنگارو تلنگانہ کے حصول تک ان کا سفر جاری رہے
گا۔ وزیراعلیٰ نے مشن کاکتیہ، مشن بھگیرتھا، کالیشورم پراجکٹ، رعیتو بندھو، رعیتو بیما، کلیان لکشمی، شادی مبارک، کے سی آر کٹس اور دیگر اسکیموں کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کرتے ہوئے ان کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی
وزیراعلیٰ نے اپنے آپ کی سدی پیٹ کے حقیقی بیٹے کے طور پر شناخت کراتے ہوئے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ایک رکن اسمبلی کی حیثیت سے پینے کا پانی اور آبپاشی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے پانی کی سربراہی کو ممکن بنانے کے لئے انہیں پیش آئی دشواریوں کا تذکرہ کیا
وزیراعلیٰ نے ضلع جگتیال کی خوبصورتی اور تعمیراتی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے کمپلیکس کی تعمیر پر آرکیٹیکٹ اینڈ ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔-زیراعلیٰ نے خوبصورتی اور تعمیراتی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے کمپلیکس کی تعمیر پر آرکیٹیکٹ اینڈ ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔
آرکیٹیکٹ شریمتی اوشا ریڈی کے کام سے متاثر ہوکر وزیراعلی نے کہا کہ "آپ تلنگانہ کی بیٹی ہیں اور مجھے آپ پر فخر ہے!”عہدیداروں اور عوامی نمائندوں سے تعارف کروایا۔
اس موقع پر وزراء ٹی ہریش راؤ، ریاستی وزیر کپولہ ایشور‘ یاستی وزیر ویمولہ پرشانت ریڈی ریاستی گنگولہ کملاکرچیف سکریٹری سومیش کمار‘ ، محکمہ صحت کے پرنسپل سکریٹری سید علی مرتوجا رضوی ‘ایم ایل سی کے کویتا ‘ڈائرکٹر شویتا مہانتی، آر اینڈ بی سکریٹری ایس۔ سری نواسراجو‘ بوئن پلی ونود کمار‘ ایم ایل سی ایل رمنا‘ ضلع کلکٹر جی روی ‘ ایڈیشنل کلکٹرس بی ایس
لتا‘راجیشم گوڑ ضلعی صدر ٹی آر ایس و رکن اسمبلی کورٹلہ کے ودیا ساگر راؤ‘ رکن اسمبلی جگتیال ڈاکٹر سنجے کمار‘زیڈ پی چیئر پرسن داو وسنتا‘ بلدیہ چیئر مین بوگا شروانی پراوین‘کلکٹرجگتیال گوگولت روی‘ ایڈیشنل کلکٹر ضلعی عہدیداران، مقامی عوامی نمائندے اور ٹی آر ایس قائدین محمد عبدالقادر مجاہد‘ محمد امین الحسن‘ خواجہ لیاقت علی محسن اور موجود تھے۔